کیپ کوسٹ قلعہ اور تاریخ کا نوحہ


Writing and Outlining

مصنف: کامران عباس، فینانہ فرنام

گھانا مغربی افریقہ کا ایک دلکش ملک اپنی فطری خوبصورتی زرخیز زمین اور قدیم ثقافت کی بدولت ہمیشہ سے ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ بحر اوقیانوس کے کنارے بسے اس ملک کا جغرافیہ اسے نہ صرف زراعت بلکہ تجارتی حوالے سے بھی انتہائی اہم بناتا ہے۔ کوکو، سونا اور قیمتی معدنیات یہاں کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں جبکہ گھانا کو مغربی افریقہ کے خوراک پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ سرزمین ماضی میں طاقتور سلطنتوں کا بھی مرکز رہی جن میں مالی سلطنت نمایاں تھی۔ مالی کے عظیم بادشاہ منسا موسیٰ دنیا کے امیر ترین حکمرانوں میں شمار کیے جاتے تھے جن کی دولت کا چرچا آج بھی تاریخ کے اوراق میں ملتا ہے۔ مگر اس عظمت کے باوجود گھانا کا ماضی ایک دردناک پہلو بھی رکھتا ہے۔

میں نے اپنی زندگی کے ڈھائی سال گھانا میں گزارے اور اس دوران وہاں کے کئی قدرتی حسن سے بھرپور مقامات دیکھے خوبصورت ساحل چھپے ہوئے جھرنے گھنے جنگلات۔ مگر ان سب میں جو جگہ سب سے زیادہ میرے دل و دماغ پر نقش ہو گئی وہ کیپ کوسٹ قلعہ تھا۔ وہ دن مجھے آج بھی یاد ہے جب میں نے پہلی بار اس تاریخی مقام میں قدم رکھا۔ اس کی دیواریں اس کے تنگ و تاریک کمرے اور سب سے بڑھ کر وہ دروازہ ”پوائنٹ آف نو ریٹرن“ ایک ایسا دروازہ جہاں کھڑے ہو کر دل دہل جاتا ہے۔ یہی وہ دروازہ تھا جہاں سے گزر کر ہزاروں افریقی غلاموں کو جہازوں میں باندھ کر ہمیشہ کے لیے ان کی زمین ان کے خاندان ان کی شناخت سے محروم کر دیا جاتا تھا۔ وہ ایک ایسے سفر پر روانہ ہوتے جس کی منزل صرف ذلت اور جبری مشقت تھی اور واپسی کا کوئی امکان نہیں تھا۔

میں وہاں کھڑا سمندر کی طرف کھلتے اس دروازے کو دیکھ رہا تھا اور میرے ذہن میں وہ تمام چیخیں اور سسکیاں گونج رہی تھیں جو کبھی یہاں گونجی ہوں گی اور ہوا میں تحلیل ہو چکی ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ ہم تاریخ کے اس سیاہ باب کو پڑھتے تو ہیں مگر یہاں کھڑے ہو کر محسوس کرنا بالکل الگ تجربہ ہے ایسا تجربہ جو شاید زندگی بھر میرے ساتھ رہے گا۔

کہا جاتا ہے کہ غلامی کا دور ختم ہو چکا ہے مگر کیا واقعی؟ کیا آج کا انسان مکمل آزاد ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ غلامی نے اپنی شکل ضرور بدلی ہے مگر اس کی روح اب بھی زندہ ہے۔ پہلے انسانوں کو زنجیروں میں جکڑ کر بیچا جاتا تھا آج انہیں قوانین معیشت اور کارپوریٹ نظام کے شکنجے میں جکڑ کر غلام بنایا جاتا ہے۔ آج کے دور کے غلام ٹائی کوٹ اور سوٹ میں کام کرتے ہیں مگر ان کی زندگی بھی کسی جبر سے کم نہیں۔ ہم ایک ایسے نظام میں قید ہیں جہاں خوشحالی چند ہاتھوں میں مرکوز ہے اور اکثریت صرف ایک بہتر زندگی کے خواب دیکھنے تک محدود ہے۔ مگر خواب دیکھنے اور اس کی تعبیر پانے میں جو فرق ہوتا ہے اور جب تک یہ فرق ختم نہیں ہوتا حقیقی آزادی محض ایک سراب بنی رہے گی۔ امید ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا جب انسان کسی بھی شکل میں غلام نہ رہے اور ہر شخص اپنی مرضی کی زندگی جی سکے۔

Facebook Comments HS