برکس اقتصادی تعاون کی تنظیم: امریکی بالادستی کو چیلنج؟


برکس اقتصادی تعاون کی تنظیم ہے۔ اس کی بنیاد 2006 میں برازیل، روس، ہندوستان اور چین نے رکھی تھی۔ اس تنظیم کا نام ان ممالک کے پہلے حرف کو لے کر BRIC رکھا گیا تھا لیکن پھر کچھ برس بعد 2010 میں جنوبی افریقہ نے بھی اس میں شمولیت اختیار کر لی اور یوں اس تنظیم کا نام تبدیل کر کے BRICS رکھ دیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس اقتصادی پلیٹ فارم میں مزید ممالک بھی شامل ہوئے ہیں اور گزشتہ برس جنوری 2024 میں اسلامی جمہوریہ ایران، مصر، ایتھوپیا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو بھی باضابطہ طور پر رکنیت دے کر برکس کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ اس وقت برکس میں ممبر ممالک کی کُل تعداد گیارہ ہو چکی ہے۔

برکس کا آئیڈیا پیش کرنے والے ماہر معاشیات جم اونیل کا تعلق برطانیہ سے ہے۔ گولڈ مین سَیکس (Goldman Sachs) میں کام کرنے والے ماہر معاشیات جِم اونیل نے 2001 میں برکس کا آئیڈیا پیش کیا تھا۔ یہاں ہم یہ بتاتے چلیں کہ گولڈ مین سَیکس ایک مشہور امریکی سرمایہ کار بینک اور مالیاتی ادارہ ہے۔ اس ادارے کا نام کمپنی کے بانی ”مارکس گولڈ مین“ اور اس کے جانشین ”سیموئل سَیکس“ (Samuel Sachs) کے نام پر تفویض کیا گیا ہے۔ امریکہ کا یہ مالیاتی ادارہ عالمی سطح پر بینکنگ، سرمایہ کاری اور معاشی تحقیق کی خدمات فراہم کرتا ہے۔

جِم اونیل برطانوی حکومت کے لیے وزیر مملکت برائے تجارت اور وزیر خزانہ سمیت مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔ ان کے معاشی تجزیات کی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے 2001 میں عالمی معاشی قوتوں کے بارے میں تحقیق کرتے ہوئے پہلی بار ”BRIC“ کی اصطلاح استعمال کی، جس میں برازیل، روس، انڈیا اور چین شامل تھے۔ برکس کو لے کر جِم اونیل کا بنیادی نظریہ یہ تھا کہ

”برازیل، روس، انڈیا اور چائنہ جیسے ممالک اکیسویں صدی کی عالمی معیشت میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں“

جِم اونیل نے برِکس کا نظریہ گولڈ مین سَیکس کے لیے لکھی گئی اپنی ایک تحقیقی رپورٹ Building Better Global Economic BRICs میں پیش کیا تھا۔ انہوں نے اس رپورٹ میں اُس زمانے میں برازیل، روس، انڈیا اور چین کی ترقی کی شرح اور عالمی معیشت میں ان کے بڑھتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی تھی۔ اونیل کی اس رپورٹ نے عالمی سرمایہ کاری کی حکمت عملیوں اور معاشی پالیسیوں میں نمایاں اثر ڈال کر بین الاقوامی اقتصادی پہلوؤں کو ایک نئی سمت بھی فراہم کی ہے۔

برکس اقتصادی تنظیم میں شامل ممالک کی شراکت داری کا بنیادی مقصد ایک دوسرے کی حمایت کرنا اور عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کرنا ہے اور مزید یہ کہ ممبر ممالک کے درمیان ایک ایسا مضبوط راستہ اختیار کرنا ہے جو دنیا کی معیشت میں ایک متبادل طاقت کے طور پر ابھر رہے ہیں۔

گزشتہ برس برکس کے ہونے والے اجلاس کے بعد یہ بات نمایاں طور پر ابھری ہے کہ اس اتحاد سے وابستہ معاشی توقعات چونکا دینے والی ہیں۔ اسی بات کو محمد عثمان یکم نومبر 2024 کو اپنے کالم میں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

” 2023 کے مطابق برکس ممالک کی مجموعی معیشت کا تخمینہ 56 ٹریلین ڈالر ہے، جب اسے خریداری کی طاقت کے تناسب سے دیکھا جائے تو یہ جی 7 ممالک کی معیشت سے زیادہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ برکس کے ممالک خاص طور پر چین اور بھارت، عالمی معیشت میں ایک نمایاں حیثیت حاصل کر رہے ہیں۔ برکس اتحاد کی توسیع سے اس کی عالمی اقتصادی طاقت مزید مستحکم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ یہ توسیع عالمی سطح پر ایک کثیر قطبی اقتصادی نظام کی تشکیل کی جانب اہم قدم ہے، جو خاص طور پر امریکی ڈالر کی بالادستی کو چیلنج کرتا ہے۔ مزید یہ کہ برکس ممالک اپنی ترقیاتی بینکنگ کے ذریعے سرمایہ کاری میں اضافہ کر رہے ہیں، جو کہ عالمی معیشت میں ان کی موجودگی کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔ برکس اتحاد نیا مالیاتی نظام اور تجارتی مواقع پیدا کر رہا ہے، جو کہ دنیا کے ترقی پذیر ممالک کے لیے اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے خاصا اہم معاملہ ہے“

گزشتہ برس روس میں برکس کا سولہواں سربراہی اجلاس منعقد ہوا جسے عالمی طور پر نیٹو اتحاد سے تشبیہ دی گئی تھی۔ برکس کو نیٹو کی طرز پر سمجھے جانے کی تردید کرتے ہوئے روسی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ

”برکس اتحاد کے اہم ترین مقاصد میں سے ایک شفاف اور کثیر الجہتی عالمی اقتصادی نظام بنانا ہے۔ برکس انٹرنیشنل تنظیم بھی نہیں ہے اور نہ ہی یہ انضمام کرنے والا اسٹرکچر ہے۔ برکس بین الریاستی تنظیم ہے جس کے تمام شرکا مساوی حیثیت رکھتے ہیں اور اسٹریٹیجک پارٹنر ہیں، اس کی بنیاد جن ستونوں پر ہے وہ سیاست، سکیورٹی، معیشت، فنانس، کلچر اور ہیومینیٹیرین تعلقات ہیں۔ برکس کا نیٹو سے موازنہ کیا جانا درست نہیں“

برکس نے اکتوبر 2024 کو روس کے شہر کاذان میں ہونے والی اپنی سولہویں سربراہی کانفرنس میں کرنسی نوٹ بھی جاری کیا ہے۔ فی الوقت یہ ایک علامتی نوٹ ہے جسے کسی بھی قسم کے حقیقی لین دین میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ دراصل علامتی طور پر برکس کی جانب سے جاری کیے گئے اس کرنسی نوٹ کا مقصد برکس ممالک کے درمیان متبادل کرنسی کے تصور کو فروغ دے کر عالمی معیشت میں ڈالر کی اجارہ داری کو چیلنج کیا جائے۔ کیونکہ اس وقت عالمی سطح پر امریکی ڈالر ہی میں معاشی سرگرمیاں رائج ہیں۔

اگر برکس کی جانب سے متعارف کرائی گئی کرنسی کا عملی طور پر آغاز ہوتا ہے تو اس سے امریکہ کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ کسی بھی صورت میں یہ نہیں چاہے گا کہ ڈالر کے مقابلے میں کوئی اور کرنسی سامنے آئے۔ برکس کی مقبولیت کے پیشِ نظر اب بہت سے ممالک برکس کے نظریات کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس لیے برکس کی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں ایک اہم متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ برکس کے علامتی کرنسی نوٹ میں مختلف ممالک سمیت افغانستان کا نام بھی درج کیا گیا ہے۔ جبکہ ابھی افغانستان باضابطہ طور پر برکس کا ممبر نہیں بنا ہے۔ بنیادی طور پر برکس کرنسی میں افغانستان کا نام درج کرنا اس بات کا واضح طور پر اعلان ہے کہ برکس ایک کثیر الجہتی اور متنوع اتحاد ہے جو عالمی سطح پر اپنی ساکھ اور اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں میں سرگرداں ہے۔

روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے کچھ دن پہلے کہا ہے کہ ”ابھرتی ہوئی معیشتوں کا برکس گروپ دنیا کے مستقبل کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ برکس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی ایک بڑی وجہ موجودہ بین الاقوامی طاقت کا ڈھانچہ ہے، جو عالمی مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ انہوں نے ڈالر کی کمی کو مستقبل قریب میں برکس اتحاد کا ایک اہم ایجنڈا قرار دیا ہے“

ایرانی سفیر نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ 2030 کے تخمینے بتاتے ہیں کہ برکس ممالک دنیا کی جی ڈی پی کے 48 فیصد کے مالک بنیں گے۔ جیسے جیسے جی 7 ممالک کے اقتصادی اشاریے گِر رہے ہیں، توقع ہے کہ برکس کی معیشت عالمی جی ڈی پی کے ایک تہائی سے تجاوز کر جائے گی اور اس کی برآمدات عالمی برآمدات کا تقریباً ایک چوتھائی ہوں گی۔ برکس کا نیا ترقیاتی بینک (این ڈی بی) عالمی بینک اور مغربی ترقیاتی میکانزم کا متبادل بننے کے راستے پر ہے۔ ایرانی سفیر کی یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ 2030 تک مرکزی عالمی بینک کے ذخائر میں امریکی ڈالر کا حصہ 58 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 35۔ 40 فیصد رہ جائے گا۔

بین الاقوامی سطح پر برکس ممالک میں شامل اتحاد کا ایک مقصد خطے میں امریکا مخالف معاشی اتحاد بھی قائم کرنا ہے۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں بہت سے دوسرے ممالک بھی اس تنظیم کا حصہ بن کر امریکہ کی معاشی بالادستی کو زک پہنچانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

Facebook Comments HS