دہلی میں انقلاب: چند پنہاں سبق


دہلی کی آبادی دو کروڑ پچاس لاکھ سے زیادہ ہے۔ ہندوستان کا دوسرا سب سے بڑا یہ شہر ملک کا دارالحکومت ہے۔ سو سے زیادہ ارب پتی اور بیس ہزار سے زیادہ کروڑ پتی یہاں رہتے ہیں، ممبئی کے بعد یہ ہندوستان کا دوسرا امیر ترین شہر بھی ہے۔ 1991 میں 69 ویں آئینی ترمیم کے بعد دہلی کو خصوصی درجہ دیا گیا۔ عام انتخابات کے ذریعے دہلی کی منتخب قانون ساز اسمبلی کے ارکان کی تعداد 70 ہے۔ دہلی کے لیے ایک الگ ہائی کورٹ بھی قائم ہے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اور اس کی کابینہ کو وسیع اختیارات عطا کیے گئے۔ مذکورہ بالا عوامل کے باعث دہلی کو ملک کے سیاسی منظر نامے میں منفرد حیثیت حاصل ہے۔

ان دنوں دہلی اسمبلی کے انتخابی نتائج بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ دہلی کو پچھلے دس سال تک ایک سیاسی تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ یہ تجربہ بالآخر 5 فروری کو انتخابی عمل کے اختتام پر ناکامی پر منتج ہوا۔

دنیا کے کئی ملکوں میں حالیہ برسوں کے دوران اس طرز کے سیاسی تجربات کیے جاتے رہے ہیں جنہیں ابتدائی دور میں پرجوش عوامی حمایت ملتی ہے لیکن بعد ازاں، مثبت نتائج نہ ملنے کے باعث عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے ان تجربوں کو مسترد کر دیتے ہیں۔ ہر ملک کے اپنے مخصوص حالات ہوتے ہیں تاہم، اس نوعیت کے تمام سیاسی تجربات میں کئی عوامل مشترک نظر آتے ہیں۔ ملک کے بہت سے سیاسی، نیم سیاسی، غیر سیاسی افراد، جمہوریت بیزار مذہبی و سیکولر انتہا پسند دانشور، متوسط طبقے کے بے چین نوجوان، سیاسی منظر نامے پر طویل عرصے سے موجود اور مسائل کے حل میں ناکام سیاسی جماعتوں کے خلاف ایسے غیر روایتی سیاست دان اور اس کی جماعت کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جو عوام میں موجود غصے اور بے چینی کو مقبول عام نعروں کے ذریعے ایک تحریک میں تبدیل کر کے زبردست سیاسی مقبولیت حاصل کر لیتا ہے۔ اس کے نعروں میں تواتر سے کہا جاتا ہے کہ عوام کے تمام مسائل و محرومیوں کی ذمہ دار اقتدار میں رہنے والی تمام سیاسی جماعتیں ہیں جن کے رہنما بدعنوانی اور کرپشن کے ذریعے، صرف ملک کو لوٹنے کے لیے اقتدار میں آتے ہیں۔ عوام کو اگر غربت اور پس ماندگی سے نکلنا ہے تو ان سیاسی رہنماؤں سے نفرت کرنی ہو گی اور انہیں نشان عبرت بنانا ہو گا۔ یہ بیانیہ مایوسی و لاچارگی کے شکار عوام کے لیے انتہائی پرکشش ثابت ہوتا ہے اور ان کے اندر بہتر دنوں کی امید جاگ اٹھتی ہے۔ اس سیاسی نظریے کی بنیاد مخالفین کے خلاف نفرت کو خطرناک حد تک ابھارنے پر استوار ہوتی ہے۔ اس بیانیے میں معاشی ترقی کی شرح میں اضافے اور سماجی پس ماندگی ختم کرنے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات کا کوئی جامع، قابل عمل اور متبادل پروگرام پیش نہیں کیا جاتا، صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا جاتا ہے کہ کرپشن کے خاتمے اور لوٹی گئی دولت ملک میں واپس لانے کے بعد خزانہ بھر جائے گا جس کے بعد لوگوں کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔

ہندوستان میں اس طرز کا بھرپور بیانیہ 2012 میں سامنے آیا۔ اس دور کے مشہور رہنما انا ہزارے نے بدعنوانی کے خلاف قانون منظور کرانے کی ایک تحریک کا پرجوش آغاز کیا جس میں انوپم کھیر سمیت کئی نمایاں شخصیات شامل تھیں۔ اروند کیجریوال انقلابی سماجی رہنما انا ہزارے سے بے حد متاثر تھے۔ انہوں نے اعلیٰ سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دیا اور ان کی تحریک کا حصہ بن گئے۔ یہ تحریک کافی جلد مقبول ہو گئی۔ اروند کیجریوال اور ان کے ساتھیوں نے انا ہزارے کو عملی سیاست میں حصہ لینے کا مشورہ دیا جسے انہوں نے قبول نہیں کیا۔ ان کا موقف تھا کہ انتخابی سیاست میں شامل ہو کر ہم موجودہ نظام کا حصہ بن جائیں گے، انتخاب لڑنے کے لیے بہت سرمائے کی ضرورت ہو گی، جو فرد یا گروپ ہماری مالی مدد کرے گا وہ اس کے عوض کچھ مفاد بھی حاصل کرنا چاہے گا، اس طرح ہم بھی کرپشن میں ملوث ہو جائیں گے۔ اس اختلاف پر کیجریوال نے انا ہزارے سے الگ ہو کر عام آدمی پارٹی قائم کر لی۔ انہوں نے رعایتی بجلی، صحت اور پانی کی مفت سہولت اور خواتین کو مفت سفر سمیت مالی مدد کے کئی وعدے کیے اور 2015 کے ریاستی انتخابات میں کانگریس کے پندرہ سالہ دور کا خاتمہ کر دیا۔ ان کی پارٹی نے 70 میں سے 67 نشستوں پر تاریخی کامیابی حاصل کر لی۔ اروند کیجریوال نے پہلا دور حکومت اچھا گزارا۔ 2020 کے ریاستی انتخاب میں ان کو دوبارہ بڑی کامیابی نصیب ہوئی اور عام آدمی پارٹی 62 نشستوں پر کامیاب ہو گئی۔ اقتدار کے دوسرے دور میں انا ہزارے کے خدشات درست ثابت ہونے لگے اور یکے بعد دیگر کیجریوال اور ان قریبی ساتھیوں پر کرپشن کے متعدد الزامات لگنے لگے۔ اقتدار میں آنے سے قبل انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ شاندار مکان میں نہیں رہیں گے، شاہی انداز کا لال بتی والا پروٹوکول نہیں لیں گے، پرانی کار استعمال کریں گے۔ انہوں نے بچوں کی قسم کھا کر کہا وہ کرپٹ کانگریس سے کبھی اتحاد نہیں کریں گے۔ اپنی حکومت کے دوسرے دور میں انہوں نے اپنے تمام دعوے ہوا میں اڑ دیے۔ وہ ایک ارب کے محل نما گھر میں رہنے لگے جسے ان کے مخالفین شیش محل کے نام سے پکارتے ہیں، پرانی کار چھوڑ کر کروڑوں کی گاڑیوں میں سفر کرنے لگے اور کانگریس کے انتخابی اتحاد میں شامل ہو گئے۔ مارچ 2024 میں ان کی گرفتاری عمل میں آئی اور کرپشن کے کئی مضبوط ثبوت منظر عام پر آ گئے۔ سپریم کورٹ سے ضمانت کے بعد انہوں نے وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھالے سے انکار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آنے والے ریاستی انتخاب میں وہ عوام کی جانب سے منتخب ہونے کے بعد ہی یہ عہدہ قبول کریں گے۔

دہلی اسمبلی کے حالیہ انتخابات میں وہ انقلاب آ گیا جس کا تصور نہ کیجریوال اور نہ ان کے ہم خیال لوگ کر سکتے تھے۔ ان کے اندر اتنا تکبر آ چکا تھا کہ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے یہ دعویٰ تک کر دیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس جنم میں انہیں دہلی میں شکست نہیں دے سکتے۔ اسے سیاسی انقلاب نہیں تو اور کیا کہا جائے گا کہ دہلی کے حالیہ اسمبلی انتخاب میں نہ صرف خود انہیں بلکہ ان کی پارٹی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 70 کے ایوان میں عام آدمی پارٹی کے امیدوار صرف 22 نشست پر فتح حاصل کر سکے۔ دہلی میں، بی جے پی 27 سال بعد 48 نشستیں لے کر دوبارہ اقتدار میں آ گئی۔ کانگریس نے مسلسل تیسری بار کوئی سیٹ نہ جیت کر صفر کی ہیٹرک مکمل کر لی۔ کانگریس کے 70 میں سے 67 امیدواروں کی ضمانتیں تک ضبط ہو گئیں۔ کانگریس نے چالیس سال سے زیادہ کے دور حکمرانی میں ہندوستانی معیشت جمود کی حد تک سست روی کا شکار رہی اور 1991 میں دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لیے اسے سونا گروی رکھوانا پڑا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کئی ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی تھیں اور لوگ جذباتی نعروں میں کشش محسوس کرنے لگے تھے۔ یہ ماحول اروند کیجریوال کے طرز سیاست کے لیے بہت ساز گار تھا۔ تاہم، 2014 سے 2024 تک کے دس برسوں میں نریندر مودی کی پالیسیوں سے ہندوستانی معیشت کی کایا پلٹ ہو گئی اور وہ دس درجے سے بڑھ کر دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن گئی۔ اب کرپشن اور خراب نظم حکمرانی کے خلاف جذباتی نعروں سے عوام کی حمایت کا حصول بتدریج مشکل تر ہوتا گیا۔ یہ وہی دور تھا جس میں اروند کیجریوال کو عروج کا شیریں اور زوال کا تلخ ذائقہ چکھنا پڑا۔

دہلی اسمبلی میں رونما ہونے والے انقلاب میں، نفرت اور تقسیم کی سیاست کرنے والے سیاست دانوں اور جماعتوں کے لیے چند سبق پنہاں ہیں۔ عوام کی محرومیوں اور غصے کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف خطرناک نفرت میں تبدیل کرنا دو دھاری تلوار ثابت ہوتی ہے۔ مقبول عام نعرے اور بلند بانگ وعدے حقیقت میں نہ ڈھل سکیں تو لوگوں کو یہ تلوار تھمانے والے سیاسی رہنما اروند کیجریوال کی طرح خود اس کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ جذباتی، نفرت انگیز، کرپشن مخالف نعروں اور حریفوں کا مضحکہ اڑا کر اقتدار میں آنا آسان ہے۔ تا ہم، قابل عمل وعدوں، پائیدار ترقی اور اصلاحاتی پروگرام کے بغیر اقتدار کا شیش محل بہت جلد زمیں بوس ہو جاتا ہے۔

اروند کیجریوال کی شکست پر انا ہزارے نے کہا کہ اس نے پیسے اور طاقت کے نشے میں غرق ہو کر ان کی نصیحت پر عمل نہیں کیا جس کی سزا انہیں دہلی کے عوام نے دی ہے۔

Facebook Comments HS

ندیم اختر، سندھ

ندیم اختر ہے کی دلچسپی کے شعبے تصنیف و تالیف، صحافت اور ترجمہ نگاری نیز قومی اور عالمی امور ہیں۔ ندیم اختر سندھ نیشنل سٹو ڈنٹس فیدریشن کے بانی سینئر نائب صدر رہے ہیں جس کے بانی صدر جام ساقی تھے۔ ملک کی جمہوری اور قومی حقوق کی جدوجہد میں شریک رہے، کئی جریدوں کی ادارت کر چکے ہیں، ڈاکٹر کامران اصدر علی، ڈاکٹر احمد یونس صمد، ڈاکٹر ناظر محمود، ڈاکٹر جعفر احمد کی کتابوں کے علاوہ ڈاکٹر مبارک علی اور دیگر دانشوروں کی تصانیف اور مضامین کا ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔

nadeem-akhtar-sindh has 19 posts and counting.See all posts by nadeem-akhtar-sindh

One thought on “دہلی میں انقلاب: چند پنہاں سبق

  • 11/02/2025 at 7:50 شام
    Permalink

    شکریہ

    سچ تو یہ ہے کہ اب خبریں پڑھنے کا شوق ہی نہیں رہا۔
    چند دن پیشتر اس خبر کو سرخی کی حد تک ہی پڑھا کہ عام آدمی پارٹی نئی دہلی میں الیکشن ہار گئی ہے اور کجریوال نے اپنی شکست بے جے پی کے مقابلے میں تسلیم کرلی ہے۔
    دماغ نے یہی سگنل دیا کہ مودی جی نے الیکشن کمیشن میں بھی اب اپنا بندہ ڈال دیا ہوگا یا شاید کسی چمک نے دہلی میں کام دکھادیا ہو۔ ساتھ اسموگ کی کارستانی بھی کجریوال کو لے ڈوبی ہو۔

    لیکن آپ کا مضمون پڑھ کر اندازہ ہوا کہ کجریوال جو مستقبل میں بہ آسانی وزیراعظم بن سکتا تھا کس طرح اس نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارلی۔

Comments are closed.