تیری خیراں

تم بیڈ پہ پڑے کیا کر رہے ہو، اتنا نہ ہو سکا آ کر ماں کے پاس ہی بیٹھ جاؤ۔ مانا تیری خیراں گھر نہیں، پر تیری ماں تو گھر ہی تھی۔ لیکن تم اس موئے موبائل سے باہر آؤ تو پھر ہے نا، جانے کس ماں کے ساتھ لگے رہتے ہو۔ گھر اور گھر والی کی فکر ہی نہیں تجھے۔ دفتر سے واپس آتے ہو اور اسے لے کر بیٹھ جاتے ہو۔ بند کرتی ہوں تیرا یہ موبائل دیکھنا، کل سے گھر آتے ہی اسے میرے پاس رکھ دیا کرو۔ ماں آج کچھ زیادہ ہی غصے میں تھی۔ تبھی ڈانٹ جاری تھی، میں بھی خاموش رہا۔
بتا رہی ہوں تجھے تو تیری خیراں کے ساتھ اچھا نہیں کر رہا۔ وہ تیرا اور تیرے گھر کا خیال رکھتی ہے، لیکن تیری لاپرواہی ختم ہی نہیں ہوتی۔ تو ہمیشہ تیری خیراں کے ساتھ زیادتی کرتا ہے۔ لیکن میں تجھے تیری خیراں کے ساتھ ظلم نہیں کرنے دوں گی۔ تیری خیراں جیسی بیوی قسمت والوں کو ملتی ہے۔ پورے خاندان میں تیری خیراں واحد بہو ہے جس کی ساس سے بنتی ہے۔ تیری خیراں خیر سے بڑی نیک ہے، تیری مرضی کے خلاف نہیں جاتی۔ وہ اللہ لوک چپ کر کے بس ٹک ٹاک دیکھتی رہتی ہے اس پر بھی تجھے اعتراض ہے۔ اپنا موبائل تو چھوڑتا نہیں اور امریکہ کی طرح دوسروں پر پابندیاں لگاتا ہے۔ تیری خیراں بھی انسان ہے، کہاں تک پابندیاں برداشت کرے۔ اس کو بھی غصہ آ گیا، کوئی قیامت نہیں آ گئی تھی۔ بیوی کا غصہ کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ اسے میکے چھوڑ آؤ۔ تیری خیراں کے بغیر میرا گھر سونا ہے۔ تیری خیراں گھر آنی چاہیے نہیں تو تیری خیر نہیں میرے ہاتھوں۔ جا اسے لے کر آ، راہ دیکھ رہی ہوگی تیرا۔
اماں کے منہ سے خیراں کا قصیدہ اور اپنی کوتاہیاں سن رہا تھا کہ میری موبائل پہ نظر پڑی۔ اوئے یہ کیا کال بند کرنا بھول گیا تھا۔ لخ دی لعنت تیرے تے اسامے۔ اماں کو تو کچھ نہیں کہہ سکتا تھا البتہ خود کو جتنی گالیاں دے سکتا تھا اس سے کچھ زیادہ ہی دیں۔ میرے گیارہویں بریک اپ کے بعد بارہویں سچی محبت بھی سمجھو ہاتھ سے نکل ہی گئی تھی۔ افففففففف۔ کتنے خواب دیکھے تھے ثنا نے میرے ساتھ رہنے کے۔ بات بچوں کے ناموں تک آ گئی تھی۔ میری تو خیر تھی لیکن ثنا کا کیا بنے گا اب، اسے میرے جیسا ہیرا کہاں ملے گا بھلا۔ ہک ہاہ، میرے سینے سے سرد آہ نکلی۔
قصہ یوں ہے کہ آج اپنی بیوی خیراں کو میکے چھوڑ کے آیا تھا۔ اور میں کمرے کے آزادانہ ماحول میں بذریعہ واٹس اپ ثنا سے تبادلہ محبت کر رہا تھا کہ اچانک اماں میرے کمرے میں آ گئیں۔ اماں نے میری باتیں تو نہیں سن لیں یہی سوچتے ہوئے ڈرتے ڈرتے اماں کی طرف دیکھا اور اسی ڈر کے ماحول میں کال بند کرنا بھول گیا۔ بس یہی غلطی ہو گئی مجھ سے۔ اماں نے باتیں سنی ہوں یا نہیں لیکن دوسری طرف ساری کتھا سنی جا چکی تھی۔ اب پچھتائے کیا ہوت۔
انسان کو اتنا بھی اچھا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ برے بھلے کی تمیز ہی بھول جائے۔ مجھے لگتا ہے میری اماں کو تو اچھے برے کی تمیز چھو کر نہیں گزری۔ ہر وقت بہو کی تعریفیں کرتی رہتی ہیں۔ انھیں اتنا بھی نہیں پتہ کہ بہو کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ اور کچھ نہیں تو بندہ آس پڑوس میں ہی دیکھ لے۔ کیسے بہوؤں کا جینا حرام کر رکھا ساسوں نے۔ لوگوں کی ساسیں بہوؤں کو دیکھ نہیں سکتی اور یہاں میری ماں ہے کہ اپنے بیٹے کو ہی کوستی رہتی۔ ماں کو کون سمجھائے کہ بہو کے ساتھ اسی طرح رہنا چاہیے جس طرح زمانے کا چلن ہے۔ لیکن نہ جی اسے تو بس بھلا ہی بھلا سوجھتا ہے۔ ساس بن کے نہیں دے رہی۔ اگر اماں کی جگہ میں ساس ہوتا تو بتاتا بہو کو کیسے رکھتے ہیں لیکن یہ میں نہیں، میری سیدھی سادھی ماں ہے۔
آہ میری سوشل میڈیائی ماں۔ سوشل میڈیا پر جو ٹرینڈ بھی دیکھتی ہیں ویسا ہی کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ ”میرا وقاص“ سے متاثرہ ماں بھی شاید کوئی وی لاگ بنانے کا سوچ رہی ہیں جو آج کل ہر وقت تیری خیراں، تیری خیراں کا ورد کر رہی ہیں۔ جتنا میں اس خیراں نام سے چڑتا ہوں، ماں اتنا ہی آج کل یہ نام دہرا رہی ہیں۔ اچھا بھلا اس کا نام حوریہ تھا جسے اماں نے خیراں کر دیا ہے۔ اور اب بات خیراں سے آگے نکل کر تیری خیراں تک آ پہنچی ہے۔
بھاڑ میں گیا ماں کا سوشل میڈیا دیکھنے کا شوق۔ ان ساس بہو نے ناک میں دم کر دیا ہے، دونوں کے ڈرامے ہی ختم نہیں ہوتے۔ گھر آؤ تو لگتا ہے ٹک ٹاک دیکھ رہا ہوں۔ مجھے پتہ ہوتا کہ سوشل میڈیا یوں میری ماں اور بیوی کی عادتیں خراب کرے گا، گھر میں کبھی یہ منحوس خرافات نہ لاتا۔ لیکن اب کچھ کرنا ہی پڑے گا۔ کل ہی نیٹ بند کرواتا ہوں ان کا۔ ڈولتے ارادے کے ساتھ میں صبح ہونے کا انتظار کرنے لگا۔

