پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط ( سلسلہ وار 4 )


Writing and Outlining

پرما تم نے پچھلے برس جب یہ فیصلہ کیا کہ تم اپنے بال کینسر کے مریض بچوں کو عطیہ کرنا چاہتی ہو تو مجھے یقین ہو گیا کہ ہم تم میں اور فرجاد میں انسان دوستی اور درد مندی کا احساس پیدا کرنے کی اپنی کو شش میں کامیاب ہوئے ہیں۔

اس دن مجھے تم پر فخر محسوس ہوا اور مجھے بے پناہ خوشی ہوئی کہ تم کتنی حساس اور مضبوط انسان ہو۔ تم نے اپنے وڈیو پیغام میں ریکارڈ کیا تھا کہ خوبصورتی دراصل ظاہری نہیں بلکہ اندرونی ہوتی ہے۔ اتنی کم عمری میں یہ سوچ قابل تعریف ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم لڑکیوں کی پرورش کچھ ایسے کریں کہ وہ اپنے بہتر فرد ہونے اور اپنی تعلیم اور ذہنی صلاحیت کو اجاگر کر نے کی طرف توجہ دیں مگر عموماً ہم ایسا نہیں کرتے اور لڑکیوں کی ظاہری وضع قطع پر زیادہ زور رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی دوسری صلاحیتوں کی طرف توجہ نہیں دے پاتیں جس میں قصور گھر کی تربیت اور سماج دونوں کا ہے۔

ایک اور بات جو مجھے تمھارے اس وڈیو پیغام میں پسند آئی وہ یہ کہ تم نے رقم کا عطیہ اس لے نہیں دیا کہ تم ابھی کماتی نہیں ہو اور اس صورت میں تمہیں ہم سے مدد لینی پڑتی جو تمہیں صحیح نہیں لگا اود کیونکہ تم خود کچھ کرنا چاہتی تھیں اس لے تم نے اپنے بال عطیہ کے جو تم کو بہت پسند ہیں۔

یہ احساس کہ بہت سے بچے جو کینسر جیسی موذی بیماری سے لڑتے ہوئے اپنے بالوں سے محروم ہو جاتے ہیں تمہارے عطیہ کے ہوئے بال ان کے لے وگ بنانے کے کام آسکتے ہیں اور اسی سوچ کے ساتھ تم نے یہ قدم اٹھایا۔

بال عطیہ کرنے کے بعد نہ صرف گھر والوں بلک باہر والوں نے بھی تمھیں بہت شاباش دی ریسٹورنٹ اور مال میں عورتوں نے تمہارے ساتھ تصاویر بنوائیں اور دوست احباب نے ہمیں فون کر کے مبارک باد دی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کے ساتھ کھڑے رہیں انھیں اعتماد دیں اور ان کو یہ احساس دلائیں کے وہ مشکل سے مشکل فیصلہ کر سکنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ہمیں اپنے بیٹوں کے ساتھ بھی کھڑا رہنا چاہے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہے بیٹیوں کا معملہ یوں علیحدہ ہے کہ ان کے راستے میں بہت سی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں جس کو دور کرنے میں ان کو ہمارے ساتھ کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS