کوشئین پہاڑ سے ملاقات


کوشئین پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا ہوا، میرے قدموں تلے زمین کی ٹھنڈک اور ہوا کی سرگوشیاں مجھے ایک نئی دنیا میں لے جا رہی تھیں۔ یہ پہاڑ نہ صرف ایک جغرافیائی نشان تھا، بلکہ میرے لیے ایک روحانی علامت کی حیثیت بھی رکھتا تھا، جس کے ساتھ میری یادیں، خواہشیں، اور خواب جڑے ہوئے تھے۔ میں نے اپنے دل میں محسوس کیا کہ یہ پہاڑ مجھ سے کچھ کہنا چاہتا ہے، اور میں اس کی آواز سننے کے لیے تیار تھا۔

میں نے پہاڑ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، ”اے کوشئین! تمہاری چٹانیں کتنی پراسرار ہیں۔ تمہارے اندر کتنی کہانیاں چھپی ہوئی ہیں۔ کیا تم مجھے اپنے راز بتاؤ گے؟ کیا تم مجھے اپنی خاموشی کا مطلب سمجھاؤ گے؟ کیا تم مجھے وقت کے بہاؤ کی حقیقت بتاؤ گے؟ کیا تم مجھے پہاڑوں کی حسین مخلوق کے بارے میں بتاؤ گے؟

پہاڑ نے ایک گہری اور دھیمی آواز میں جواب دیا، ”اے مسافر! میں تو صرف ایک پتھر کا ڈھیر ہوں۔ تمہاری آنکھیں ہیں جو مجھ میں راز دیکھتی ہیں۔ تمہارا دل ہے جو مجھ میں کہانیاں تلاش کرتا ہے۔ میں تو صرف موجود ہوں، تمہاری سوچ ہی مجھے معنی دیتی ہے۔ میں خاموش ہوں، لیکن تمہاری آواز مجھے بولتی ہے۔ وقت؟ وقت تو ایک دھوکہ ہے۔ میں ہزاروں سال سے یہاں کھڑا ہوں، لیکن کیا واقعی وقت گزرا ہے؟ یا یہ صرف تمہارا وہم ہے؟ اور ہاں حسین پریوں کی کہانیاں محض خیالی ہیں۔ میں کسی ایسی مخلوق کو نہیں جانتا۔ میرا وجود طلسماتی نہیں حقیقی ہے۔

میں نے مسکراتے ہوئے کہا، لیکن تمہاری موجودگی ہی تو مجھے اپنے وجود کا احساس دلاتی ہے۔ تمہاری بلندی مجھے اپنی حقیریت کا احساس دلاتی ہے۔ تمہاری ثابت قدمی مجھے صبر کی تعلیم دیتی ہے۔ تمہاری خاموشی مجھے سننے کی دعوت دیتی ہے۔ کیا تمہاری ثابت قدمی مجھے یہ سبق نہیں دیتی کہ وجود کا مطلب ہی ثبات ہے؟

پہاڑ نے گہری سوچ میں ڈوب کر جواب دیا، اے انسان! تمہاری سوچ ہی تمہاری دنیا بناتی ہے۔ میں تو صرف ایک پہاڑ ہوں، لیکن تمہاری نظر مجھے ایک استاد، ایک دوست، یا ایک رہنما بنا دیتی ہے۔ تمہارے اندر ہی وہ طاقت ہے جو مجھے بولتی ہے۔ تمہاری روح کی گہرائیوں میں بھی ایک پہاڑ ہے، جو تمہیں بلندیوں کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ وجود کا مطلب ثبات نہیں، بلکہ تبدیلی ہے۔ میں بھی بدلتا ہوں، لیکن تمہاری آنکھیں اس تبدیلی کو دیکھ نہیں پاتیں۔

میں نے سوچا، شاید یہ پہاڑ میرے دل کی آواز ہے۔ شاید یہ میری اپنی ذات کا عکس ہے۔ میں نے پوچھا، تو کیا تم میری ہی بازگشت ہو؟ کیا تمہاری آواز دراصل میری اپنی آواز ہے؟ کیا میں بھی ایک پہاڑ ہوں، جو اپنی ذات کی چوٹیوں کو چھونے کی کوشش کر رہا ہے؟

پہاڑ مسکراتے ہوئے گویا ہوا کہ ہر انسان اپنے اندر ایک پہاڑ رکھتا ہے۔ تمہارے اندر بھی ایک کوشئین ہے، جو تمہیں بلندیوں کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ تمہاری روح کی چوٹیاں بھی اسی طرح بلند ہیں، تمہارے اندر بھی اتنے ہی راز چھپے ہیں۔ تمہاری خاموشی بھی ایک آواز ہے، جو تمہیں اپنے اندر کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ تمہاری ذات بھی ایک پہاڑ ہے، جس کی چوٹیاں تمہیں اپنے وجود کی حقیقت تک لے جا سکتی ہیں۔

میں نے کوشئین سے آزادی کے بارے میں پوچھا، پہاڑ نے مجھ سے کہا، ”اے انسان! تمہاری آزادی کا راز تمہارے اندر ہی چھپا ہے۔ تمہارے انتخاب ہی تمہاری دنیا کو تشکیل دیتا ہیں۔ کیا تم واقعی آزاد ہو، یا تمہاری آزادی بھی تمہارے اردگرد کے پہاڑوں کی طرح محدود ہے؟ تمہاری مرضی ہے کہ تم اس محدودیت کو قبول کرو یا اسے توڑ دو۔ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ تمہارے پاس کوئی رکاوٹ نہ ہو، بلکہ یہ کہ تمہیں اپنے انتخاب کا احساس ہو۔“

میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور پہاڑ کی باتوں کو اپنے دل میں اتار لیا۔ شاید یہ پہاڑ میرے اندر کی آواز تھی، جو مجھے اپنی ذات کی گہرائیوں میں اترنے کی دعوت دے رہی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے اندر بھی ایک پہاڑ ہے، جو مجھے اپنی بلندیوں کی طرف بلاتا ہے۔

میں نے پہاڑ سے پوچھا، ”کیا وجود کی کوئی حقیقت ہے، یا یہ صرف ایک خیال ہے؟“ پہاڑ نے جواب دیا، ”وجود ایک سوال ہے، جس کا جواب ہر انسان اپنے اندر تلاش کرتا ہے۔ تمہارا وجود تمہاری سوچ سے شروع ہوتا ہے، اور تمہاری سوچ ہی اسے معنی دیتی ہے۔ کیا تمہارا وجود صرف ایک مادی جسم ہے، یا اس کے پیچھے کوئی گہری روحانی حقیقت بھی ہے؟ یہ سوال تمہاری ذات کا حصہ ہے۔

جب میں نے آنکھیں کھولیں، تو پہاڑ اب بھی وہیں کھڑا تھا، خاموش، مضبوط، اور پراسرار۔ لیکن اب مجھے لگا جیسے میں نے اس کے ساتھ ایک نئے رشتے کی بنیاد رکھ دی ہو۔ یہ پہاڑ اب صرف ایک پہاڑ نہیں تھا، یہ میرے دل کا آئینہ تھا۔

میں نے سرگوشی کے عالم میں کوݜئین سے وقت کی رفتار پوچھی۔ کوݜئین نے وقت کے بارے میں کہا، وقت ایک دریا ہے، جو ہمیشہ بہتا رہتا ہے۔ لیکن کیا یہ دریا واقعی بہتا ہے، یا تمہارا ذہن ہے جو اسے حرکت دیتا ہے؟ وقت کی حقیقت تمہاری نظر کے زاویے پر منحصر ہے۔ کیا وقت واقعی گزرتا ہے، یا یہ صرف تمہارا وہم ہے؟ میں ہزاروں سال سے یہاں کھڑا ہوں، لیکن کیا واقعی وقت گزرا ہے؟ یا یہ صرف تمہارا ذہن ہے جو اسے محسوس کرتا ہے؟

پھر میں نے کوشئین سے
ع ثبات ایک تغیّر کو ہے زمانے میں

کے فلسفے سے سمجھانے کو کہا اور مزید یہ کہ تم تو ہزاروں سال سے یہاں کھڑے ہو، لیکن کیا تم واقعی تبدیل نہیں ہوئے؟ ”پہاڑ نے جواب دیا، تبدیلی ہی تو ثبات ہے۔ میں بھی بدلتا ہوں، لیکن تمہاری آنکھیں اس تبدیلی کو دیکھ نہیں پاتیں۔ تمہاری ذات بھی اسی طرح بدلتی ہے، لیکن تمہیں اس کا احساس نہیں ہوتا۔ تبدیلی ہی زندگی کا اصول ہے، اور ثبات صرف ایک وہم ہے۔

اخری سوال پوچھنے کی جسارت کی کہ میرے ہم راز یہ خاموشی کیا ہے؟ اس آخری سوال پر وہ تھکے ہارے ٹیک لگائے اونگھ رہے تھے۔ جیسے صدیوں سے آرام کا طلب گار ہو۔ جیسے اکتاہٹ کا شکار ہو۔ جیسے میرے وجود کی موجودگی بھی بھاری محسوس ہوتی ہیں۔ کہا بیٹا خاموشی ہی وہ آواز ہے جو تمہیں اپنے اندر کی طرف بلاتی ہے۔

تمہاری دنیا کی شور شرابے میں، خاموشی ہی تمہیں اپنی ذات کے قریب لے جاتی ہے۔ خاموشی میں ہی تمہیں اپنے وجود کی گہرائیوں کا احساس ہوتا ہے۔ کیا تم نے کبھی خاموشی میں اپنے دل کی آواز سنی ہے؟ کیا تم نے دنیا کے الجھنوں سے دور رہ کر اپنی ہستی کو نیستی سے آزاد کرانے کی کوشش کی؟ کیا تم پر دنیا کی حقیقت آشکار نہیں ہوئی؟

ایک طرف مذکورہ سوالات میرے خیال کو وسعت تو دے رہے تھے لیکن دوسری جانب کچھ کام ادھورے تھے کچھ خواب پورے کرنے تھے۔ فیض صاحب نے کیا خوبصورت منظر کشی کی ہے

ہم جیتے جی مصروف رہے
کچھ عشق کیا کچھ کام کیا
کام عشق کے آڑے آتا رہا
اور عشق سے کام الجھتا رہا
پھر آخر تنگ آ کر ہم نے
دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا

میں نے منتشر خیالات کو جمع کرنے کی کوشش کرتے ہوئے الوداع کہا، اور واپس اپنے سفر پر چل پڑا۔ لیکن اب میرے دل میں ایک نئی توانائی تھی، ایک نئی سمجھ تھی۔ کوشئین پہاڑ نے مجھے نہ صرف اپنی بلندیوں کا احساس دلایا، بلکہ میرے اندر کی گہرائیوں کو بھی روشن کر دیا۔

یہ تھی میری کوشئین پہاڑ کے ساتھ ملاقات۔ ایک ایسی ملاقات جس نے مجھے اپنے وجود کے نئے زاویے دکھائے، اور مجھے اپنی ذات کے سفر پر گامزن کر دیا۔

Facebook Comments HS