کوشئین پہاڑ سے ملاقات

کوشئین پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا ہوا، میرے قدموں تلے زمین کی ٹھنڈک اور ہوا کی سرگوشیاں مجھے ایک نئی دنیا میں لے جا رہی تھیں۔ یہ پہاڑ نہ صرف ایک جغرافیائی نشان تھا، بلکہ میرے لیے ایک روحانی علامت کی حیثیت بھی رکھتا تھا، جس کے ساتھ میری یادیں، خواہشیں، اور خواب جڑے ہوئے تھے۔ میں نے اپنے دل میں محسوس کیا کہ یہ پہاڑ مجھ سے کچھ کہنا چاہتا ہے، اور میں اس کی آواز سننے کے لیے

Read more

افسانہ چائے کی پیالی کا تنقیدی جائزہ

حسن عسکری صاحب نے افسانہ چائے کی پیالی شعور کی رو کی تکنیک میں لکھی ہے اس وجہ سے سب سے پہلے ہم شعور کی رو کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ شعور کی رو دراصل ولیم جیمز کا نظریہ ہے۔ اس نظریے کے مطابق انسانی ذہن ایک سیال چیز ہے۔ جس میں تاثرات، خیالات اور تصورات ایک مسلسل رو کی شکل میں ابھرتے ہیں۔ جن میں منطقی ربط نہیں ہوتا اور یہ تصورات و خیالات بے ہنگم اور غیر

Read more

تین سال اور گزر گئے

جہاں تک میرا خیال ہے ہم عصروں میں راقم کو زیادہ پسینہ آتا ہے۔ انتہائی تنگ ہونے کے باوجود آج بڑی خوشی ہوئی مینگورہ شہر کی سخت گرمی پہ بڑا پیار آیا کہ پسینہ پونچھتے ہوئے آنسوؤں کو بھی ٹشو سے صاف کرتا گیا۔ مجھے آج چارلی چپلن بڑے شدت سے یاد آ رہے تھے انھوں نے کہا تھا میں بارش میں اس وجہ سے چلنا پسند کرتا ہوں کہ لوگ میرے آنسوں نہ دیکھے۔ منیر نے چار سال بڑے کٹن حالات میں گزارے مراد ذہنی میچورٹی اور حساسیت ہے۔ بھائیوں جیسا تعلق رہا۔

Read more

جب دریائے سوات و درال کی لہریں غضب ناک ہوئیں

انسانی زندگی میں طرح طرح کے واقعات اور حادثات ہوتے رہتے ہیں جن میں بعض سانحات ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں بھولنے میں عمریں لگ جاتی ہیں۔ دنیا میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی راز چھپا ہوتا ہے جس کو سمجھنے میں ہمیں صدیاں بیت جاتی ہے۔ خیر جو کچھ بھی ہوتا ہے اس میں انسان کی بھلائی ہوتی ہے کیونکہ جو خدا ماؤں سے بھی زیادہ بندے کو چاہتا ہے وہ اپنے ہی بندوں کو عذاب دے گا، ہرگز نہیں!

انسان کے ساتھ جو برا ہوتا ہے، وہ اس کے اعمال کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ماضی میں ہم گر دیکھیں گے تو ہمیں قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں اور خاندانوں کا ذکر ملے گا۔ بالکل اسی طرح سوات کے علاقے بحرین میں بھی زلزلے طالبانائزیشن اور سیلاب کی زد میں آ کر اہل کافی لوگوں نے مالی جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ یعنی جو آفتیں آئیں خانہ خراب کر کے چلی گئی۔

Read more

اور امی جی بھی چلی گئیں

غم دنیا غم ہستی غم الفت غم دل کتنے عنوان ملے ہیں مرے افسانے کو گھر میں بڑا بیٹا ہونے کی حیثیت سے ہاسٹل میں رہتے ہوئے بھی ذمہ داریاں سونپی گئی، خیر چند دن پہلے پھر کسی گھریلو کام کے باعث مارکیٹ پہنچا تھا کہ والد صاحب کی کال آئی اور حسب معمول سمجھ کر کال اٹھا تو لیا مگر آواز میں بدلاؤ جان کر وجہ پوچھنا ہی چاہتا تھا کہ وہ گویا ہوئے کہ خورشید کی اہلیہ کو

Read more

بے مقصد مباحثے

انسان کی ہمیشہ سے یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے احساسات اور جذبات کو بہتر سے بہترین طریقے سے بیان یا قلم بند کریں لیکن سلیقہ ہزاروں میں ایک دو سیکھ پاتے ہیں۔ عموماً راقم حیران ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی ہوتا ہے کہ آیا لوگوں کے پاس اتنا بے مقصد بحث مباحثے کے لئے وقت آتا کہاں سے ہے۔ سوچ سوچ کر برا حال کردیا ہے کہ انسان اتنا فارغ ہو بھی کیسے سکتا ہے۔ جب دیکھتا

Read more

ہماری کالام وادی میں پھیلی گندگی

قدرت نے بالخصوص پاکستان اور بالعموم پوری دنیا کو حُسن سے نوازا ہے۔ پاکستان سمیت اکثر ممالک میں بالکل خالص حُسن موجود ہے جس کی سوشل میڈیا اور مختلف کے ذرائع سے ہمیں خبر ہوئی۔ دنیا میں بعض مقامات حد سے زیادہ حسین ہیں مگر درحقیقت وہ Artificially بنے ہوئے ہیں۔ سوات کے علاقے کالام پر خدا نے خصوصی مہربانی فرما کر بنایا ہے کیونکہ کالام جیسے علاقے کا مثل دنیا جہاں میں نہیں ملتا اس وجہ سے کالام کو

Read more

ادھورے لوگ جنہیں انسان نہیں سمجھا جاتا

قرآن مجید کا چونکہ اصل موضوع تکمیل انسانیت ہے سو اس وجہ سے قرآن مجید میں انسانیت کے ساتھ بہترین اخلاق و برتاؤ کرنے کا حکم جابجا موجود ہے۔ مذاہب کے علاوہ عالمی چارٹر آف ورلڈ میں بھی انسانیت کے ساتھ عمدہ طرزعمل رکھنے پر زور ہے اور اس متعلق بنیادی انسانی حقوق پر سینکڑوں قوانین بنائے گئے ہیں۔ انسانی معاشروں میں خواجہ سراء یعنی مرد و عورت کے بیچ تیسری ساخت کی ایک معصوم مخلوق بھی موجود ہے۔ جنہیں ان کی جسمانی ساخت کی وجہ سے مرد اور عورت دونوں طبقوں میں نہ صرف کمزور سمجھا جاتا ہے، بلکہ انہیں انسانیت سے بھی کم درجے میں گنا جاتا ہے، حالانکہ پوری جسمانی ساخت، ڈھانچے کی ترتیب اور حواس کے ساتھ وہ مکمل انسان ہیں۔ خواجہ سراوں کو مختلف تضحیک آمیز القاب اور توہین آمیز ناموں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بالخصوص تیسری جنس کی اہمیت سے غالباً سب لوگ انکاری ہیں۔ یہاں جس طرح اُن پر ظلم و ستم ہورہا ہے شاید ہی کسی عام شہری پر ہو

Read more

بیٹیوں کے حقوق بھی دیجئے

  ہم اپنے فرسودہ رسوم و رواج اور خیالات کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کی زندگیاں تباہ کرتے ہیں۔ حالانکہ ہماری ریاست کو اسلامی جمہوری ریاست کا نام دیا گیا ہے، مگر اسلام یہاں اب صرف اور صرف نمائش کےلئے رہ گیا ہے۔ بات اسلام کی ہو جائے تو سب ٹھیکیدار بنتے ہیں لیکن عمل کا وقت آجائے تو اسلام کے بجائے فرسودہ رواج کے تحت عورت کو عزت نہیں دی جاتی ہے۔ ہمارے یہ نام نہاد اسلامی ٹھیکیدار صرف

Read more

قبیح رسومات!!

ہمارے بالائی سوات وادی بحرین و کالام اور گرد و نواح میں بھی شدت سے یہ ظالمانہ رسومات نافذ ہیں۔ ان بے معنی رسومات کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان کے زد میں ہمیشہ غریب اور کمزور طبقے آجاتے ہیں اور زندگی کے اکثر معاملات میں پس کر رہ جاتے ہیں۔ جیسے علاقے کے با اثر افراد اور طاقتور قوموں کی غلامی، ان کا بیگار، اور عورتوں پر ستم و مظالم ان رسومات کی خصوصیات ہیں۔ لیکن اس سب کے برعکس وادی بحرین میں ایک عجیب طرح کی رسم رائج ہے جو ہر لحاظ، ہر پیمانے اور ہر اصول کے رو سے انسانی حقوق کی سراسر منافی اور خلاف ورزی ہے۔ جیسے کہ شادی بیاہ کے لئے جہیز کے نام پر پورے خاندان کو گروی بنا دینا اور گھر کے ایک شخص کی شادی میں ان کی برسوں کی جمع پونجی سے انہیں محروم کردینا سرفہرست ہے

Read more

پرورش سے علامہ بنتے ہیں!

خدارا اپنی اولاد کی نہایت خوش اخلاقی اور مکمل دھیان سے تربیت کریں اگر کوئی چاہتا ہے کہ میرا بیٹا انسانیت کے حامل اور اعلیٰ اخلاق کا مالک ہو تو اولاد کی اس طرح پرورش کریں کہ معاشرے کے لیے ایک مثال بنے۔ اولاد کی اچھی تربیت سے ان کا مستقبل بہتر ہوگا وہ کم عمری میں یہ سیکھ پائیں گے کہ ہمیں کچھ بننا ہے معاشرے میں نام کمانا ہے۔

کہنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ اولاد کو سب فیسلیٹیز مہیا کریں، مقصود یہ ہے کہ اولاد کے ساتھ کم از کم دن میں آدھا گھنٹہ بیٹھیں کہ وہ کیا کرتا ہے، کہاں کھیل کود میں مصروف رہتا ہے؟ کن کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ صرف بچے پیدا کرنا مسلے کا حل نہیں ان کی پرورش بھی کچھ معنی رکھتی ہے۔ بچے کی پرورش میں 80% والدین کا ہاتھ ہوتا ہے خصوصاً ماں کا، اگر ماں تعلیم یافتہ (دینی و دنیاوی) ہو تو پورا معاشرہ تعلیم یافتہ ہوگا۔

Read more

بچوں کا مستقبل تباہ کرنے والے استاد

میں کوئی انہونی باتیں نہیں کر رہا بلکہ میرے ساتھ جو ہوا وہی قلم بند کر رہا ہوں ”جب میں آٹھویں کلاس میں تھا تب ہمارے کلاس میں ایک لڑکا ہوا کرتا تھا جو ہم سے عمر میں بڑا تھا۔ بیچارے نے داڑھی بھی رکھی ہوئی تھی۔ ایک بار ہمارے ایک نام نہاد استاد نے کسی بات پر طیش میں آکر اسے کہا اپنی اس داڑھی کو دیکھو اور ان بچوں کے درمیان بیٹھ کر سبق پڑھنا دیکھو، اگر کچھ شرم رکھتے ہو تو ایسا کرو سکول چھوڑ دو۔ پھر کیا تھا! دوسرے دن اس نے کسی سٹوڈنٹ کے زبانی جواب بھیج دیا کہ فلاں استاد کو کہو میرا سکول آج سے ختم۔

Read more

پرائمری کا استاد

گورنمنٹ پرائمری سکول کے اساتذہ جو نہایت ایماندار اور پرخلوص شخصیات کے مالک ہونے کے باوجود ایک طرف قوم کے بچے سنبھالتے ہیں تو دوسری جانب ان کو تنقیص کی بجائے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ استاد معاشرے میں ایک الگ مقام رکھتا ہے استاد کا صبر، بچوں کی شرارتیں برداشت کرنا اور رحم دلی کا مظاہرہ بہت کم لوگوں کے علم میں ہے۔

Read more