کشمیری عورت فرقہ وارانہ قدروں اور ثقافتی رسومات کی قید میں

اِس نوعیت کا ایک واقعہ یوں ہے کہ پاکستان کے پنجاب کے میرا والا گاؤں میں 2002 میں نیچی ذات کے ایک لڑکے کو اونچی ذات کی عورت کے خلاف جرم کرنے پر پنچائیت نے عبرتناک سزا سنائی۔ کئی ایام تک غوروخوض کرنے کے بعد اِس پنچائیت نے اپنے فیصلے میں کہا، کہ اونچی ذات کے مرد لوگ مجرم کی نابالغ بہن مختاراں مائی کی اجتماعی عصمت دری کریں۔ پنچائیت کے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا، کہ اونچی ذات کے مستوئی خاندان کی عزت بچانے کے لئے مائی کے بھائی شکور کو اُس عورت کے ساتھ شادی کرنے کا پابند بنایا جائے، جس کے ساتھ غیر قانونی روابط قائم رکھنے کا الزام عاید تھا۔ اِس کے ساتھ ساتھ مائی کی مستوئی قبیلے میں شادی طے کی جائے۔ استغاثہ کے مطابق جب مائی نے اِس فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا، تو مستوئی قبیلے کے آدمیوں نے اُس کی اجتماعی آبرو ریزی کی اور ہزاروں تماشائیوں کی موجودگی میں گھر تک نیم برہنہ حالت میں جانے کے لئے مجبور کردی گئی۔ ایک ملزم کے وکیل نے بحث کرتے ہوئے کہا کہ آبرو ریزی کا الزام اِس وجہ سے ناقابل شنوائی تھا، کیونکہ مائی اصولی طور حادثے کے وقت ملزم کی منکوحہ تھی۔ (خلیج ٹایمز 27،اگست 2002 )۔ اِس نوعیت کے تشدد کے واقعات برصغیر میں قومیت، قبیلے اور برادری کے اصولوں پر مبنی تصور کئے جاتے ہیں۔
خواتین سے متعلق زیادہ تر دلخراش کہانیاں لوک کہاوتوں کے ساتھ جوڑی جاتی ہیں اور اِس طرح سے اِن کی سچائی اور اہمیت کو سرکاری اور قومی معاملات میں نظر انداز کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔ میں یہاں واضح کرنا چاہوں گی کہ وطن کو ماں کے نام کے ساتھ جوڑ کر یعنی مادر وطن یا ماتر بھومی کے نام پر ہندوستانی سپاہوں اور کشمیری قوم پرستوں (خط انتظام کے آرپار) کا اپنی جانیں قربان کرنے کا عہد کرنا درحقیقت خواتین کی روایتی عظمت اور آزادی کی وقعت کو کم کرنا ہوتا ہے۔ جموں کشمیر میں اگرچہ کشمیری خواتین کی شبیہ کو اِس طرح کی اہمیت دینا مشتبہ ہے، تاہم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے نیم جاگیردارانہ ماحول میں اِس طرح کی سوچ کو پروان چڑھایا جاتا رہا ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام یہ علاقہ جاگیرداروں کے لئے کھیل کا میدان بنا ہوا ہے، جہاں وہ اپنے اختیارات نافذ کرتے اور اپنے خزانوں کو بھرتے رہتے ہیں۔ ’’آزاد کشمیر‘‘ میں قبائلی خواتین کو آج بھی مرد ذات کے حد اختیار میں جاگیردارانہ نظام کے قاعدے قوانین کی تابع داری کرنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔ اور اِنہیں اپنی ذات کو ابھارنے کا کوئی موقعہ میسر نہیں ہے۔ (پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 2008 میں سماجی وسیاسی محرکین کے ساتھ تبادلہ خیال کے حوالے سے ۔ اِس بارے میں قیام پاکستان سے متعلق کوہن 2004 اور تالبولٹ 2000 کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے)۔

