قربانی کا گدھا


قربانی کے بکروں کے بارے میں تو سب نے عام سنا ہو گا جنھیں مسلمان مہنگے داموں خرید کر بقر عید پہ قربان کرتے ہیں۔ قربانی کے دولہے بھی ہوتے ہیں جو خاندان کی لڑکیوں پہ قربان کیے جاتے ہیں۔ لیکن اب مارکیٹ میں گدھوں کو بھی متعارف کروایا جا رہا ہے، جو پاک چین دوستی پہ قربان ہوں گے۔ ویسے تو یہ قوم ہر وقت قربانی دینے کو تیار ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ چین چار ٹانگوں والے گدھوں کی قربانی مانگتا ہے۔

جب سے سامان کی نقل و حمل کے لیے لوڈر رکشے آئے ہیں تب سے گدھوں کی زندگی کا کوئی خاص مقصد نہیں رہا۔ گدھے فارغ پڑے پڑے ہڈ حرام ہو رہے تھے کہ چین والوں نے اسے ادویات میں استعمال کرنے کا سوچا۔ گدھے پہلے بار برداری کے کام آتے تھے اب یہ ناز برداری کے کام آئیں گے۔ ان کی کھال خوبصورتی بڑھانے والی ادویات میں استعمال کی جائے گی۔ یوں گدھے بوجھ ڈھونے کے ساتھ ساتھ چہروں کی کالک دور کرنے کا باعث بنیں گے، کاش کوئی ایسا نسخہ بھی تیار ہو جو دلوں کی کالک دور کر سکے۔ گدھی کا دودھ بھی جلد کی خوبصورتی کے لیے بہترین ہے لیکن چین انڈا نہیں مرغی کھانا چاہتا ہے۔ چین میں اس کی کھال اور ہڈیوں سے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانے والی ادویات بھی بنتی ہیں، یعنی انسانی نسل بڑھانے کے لیے گدھوں کی نسل کو قربان ہونا پڑے گا۔ کیا پتہ لاہور کی آبادی بڑھنے کی وجہ بھی گدھے کا گوشت ہی ہو۔

ایک طرف حکومت آبادی کو کنٹرول کرنے کا کہتی ہے اور دوسری طرف ملک میں سالانہ ایک لاکھ گدھوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ چین سے معاہدہ طے کرنے والی کمیٹی کے رکن کی تجویز ہے کہ اعلیٰ معیار کے گدھوں کی افزائش کی جائے۔ یعنی گدھوں کے لیے بھی نسلی ہونا ضروری ہے۔ جانے یہ کیسے پتہ چلے گا کہ یہ اعلیٰ نسل کے ہیں یا پھر گدھے ہی ہیں۔ گدھے اپنی چمڑی دے کر پاکستانیوں کو دمڑی دلائیں گے افسوس پھر بھی ان کے نسلی ہونے پہ شبہ کیا جا رہا۔

زندہ گدھوں کو برآمد کرنا مشکل کام لگ رہا تھا اس لیے گوادر میں گدھوں کے مذبح خانے بنائے گئے۔ اگر متعلقہ محکمہ والے یونان لے جانے والے انسانی اسمگلروں سے رابطہ کرتے تو مذبح خانوں میں کاٹ پیٹ کرنے کی بجائے گدھوں کو زندہ چین منتقل کیا جا سکتا تھا۔ کچھ لوگوں میں تشویش پائی گئی ہے ہڈیاں اور کھال تو چین برآمد ہو جائے گی لیکن گدھے کے گوشت کا کیا کیا جائے گا۔ تاہم اس ضمن میں کسی کو پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ امید ہے ہوٹل مینجمنٹ والوں سے اس کا معاہدہ پاک چین معاہدے سے بھی پہلے ہو چکا ہو گا۔ تاہم ملکی وقار اور سلامتی کے لیے اکثر کچھ معاہدے صیغہ راز میں رکھنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ شاید یہ معاہدہ بھی انھی رازوں میں سے ایک ہو۔ گدھا نہاری، گدھا کڑاہی کھانے کا اعزاز پہلے اہل لاہور کو حاصل تھا۔ لیکن اب گوادر کے قرب و جوار کے تمام علاقے اس سے مستفید ہوں گے۔ چینی کمپنیاں کراچی پورٹ کے قریب بھی مذبح خانے بنانے کا ارادہ رکھتی ہے تو اس طرح گوشت کھانے کے حوالے سے اہل کراچی کا جو شکوہ لاہوریوں سے تھا وہ بھی جاتا رہے گا۔

Facebook Comments HS