پیکا ایکٹ میں ترامیم 3۔
قانون میں ترمیم کی گئی ہے کہ ”غلط اور جھوٹی خبر سے متاثرہ شخص کو اتھارٹی کو خبر ہٹانے یا یا بلاک کرنے کے لئے 24 گھنٹے سے قبل درخواست دینا لازمی ہو گا“ سوشل میڈیا پروٹیکشن ریگولیٹری اتھارٹی چیئرمین اور 8 ارکان پر مشتمل ہو گی سیکریٹری داخلہ، چیئرمین پیمرا اور چیئرمین پی ٹی اے بہ لحاظ عہدہ ارکان ہوں گے چیئرمین اور دیگر ارکان کی تعیناتی کا اختیار حکومت کے پاس ہو گا ان کی مدت 5 سال کے لئے ہو گی تاہم ایکسٹینشن نہیں دی جا سکے گی 10 سال پر محیط تجربہ رکھنے والا صحافی، سافٹ ویئر انجینئر، ایڈووکیٹ، سوشل میڈیا پروفیشنل، آئی ٹی انٹرپرینور اتھارٹی کے ارکان میں شامل ہوں گے اتھارٹی کے مالی سال کے آخر میں پارلیمنٹ میں سالانہ رپورٹ پیش کی جائے گی پالیسی میٹرز وفاقی حکومت اتھارٹی کو ہدایات جاری کر سکے گی۔
دلچسپ امر یہ ہے قانون میں کی گئی ترامیم کے مطابق نیک نیتی سے کیے گئے اقدامات اور فیصلوں پر اتھارٹی حکومت یا کسی شخص پر مقدمہ یا کوئی کارروائی نہیں کی جا سکے گی اس طرح کسی شخص کے خلاف کی گئی کارروائی پر اتھارٹی کے ارکان کا احتساب نہیں کیا جا سکے گا اس نئے قانون کے تحت سول میڈیا کمپلینٹ کونسل قائم کی جائے گی جو چیئرمین اور 4 ارکان پر مشتمل ہو گی جہاں عام لوگوں، تنظیموں اور شخصیات کی شکایات وصول کی جائیں گی چیئرمین اور ارکان کی تعیناتی 3 سال کے لئے ہو گی جس میں وفاقی حکومت 3 سال کی مزید توسیع کرنے کی مجاز ہو گی چیئرمین کے لئے بیچلر ڈگری اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، قانون اور سوشل میڈیا پالیسی یا متعلقہ فیلڈز میں 15 سالہ تجربہ درکار ہو گا۔
وفاقی حکومت ترمیم شدہ قانون کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن ٹربیونل قائم کرے گی ریگولیٹری اتھارٹی کے فیصلے سے متاثرہ شخص ٹریبونل میں درخواست دے سکے گا جب کہ ٹریبونل کے فیصلے سے متاثرہ شخص 60 دن میں سپریم کورٹ میں اپیل کر سکے گا ٹریبونل تمام کیسز کے فیصلے 90 دن میں کرے گا سوشل میڈیا پروٹیکشن ٹریبونل کا چیئرمین ایسا شخص ہو گا جو ہائی کورٹ کا جج رہا ہو یا ہائی کورٹ کا جج بننے کا اہل ہو ایک ممبر جرنلزم میں بیچلر ڈگری یافتہ ہو اور 12 سال کا پیشہ ورانہ تجربہ رکھتا ہو دوسرا ممبر سافٹ وئیر انجینئر ہو گا اور سوشل میڈیا ایکسپرٹ ہو گا چیئرمین اور ارکان کی نامزدگی 3 سال کے لئے کی جائے گی ترامیم شدہ قانون کے تحت نیشنل سائبر کرائم ایجنسی قائم کی جائے گی جو اس بات کی انوسٹی گیشن اور پراسیکیوشن کرے گی اس ایجنسی کے قیام کے بعد ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ تحلیل کر دیا جائے گا اس ونگ میں کام کرنے والے تمام اہلکار کیسز، انکوائریز، تحقیقات، اثاثے، پراپرٹیز ِ بجٹ حقوق اور استحقاق سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کو ٹرانسفر کر دیے جائیں گے۔
وفاقی حکومت اس قانون کے تحت ایک یا ایک سے زیادہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیمیں بنا سکے گی جو تحقیقات کے لئے کسی بھی انوسٹی گیشن ایجنسی سے معاونت لے سکیں گی حکومت نے سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی میں صحافیوں کو نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن یہ نمائندگی موثر بنانے کی ضرورت ہے ترمیمی بل کے مطابق فیک نیوز پر پیکا ایکٹ کے تحت 3 سال قید اور 20 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جا سکیں گی، غیرقانونی مواد کی تعریف میں اسلام مخالف، ملکی سلامتی یا دفاع کے خلاف مواد اور جعلی یا جھوٹی رپورٹس شامل ہوں گی، غیرقانونی مواد میں آئینی اداروں بشمول عدلیہ یا مسلح افواج کے خلاف مواد شامل ہو گا۔
غیرقانونی مواد کی تعریف میں امن عامہ، غیر شائستگی، توہین عدالت، غیر اخلاقی مواد بھی شامل ہو گا اور غیرقانونی مواد میں کسی جرم پر اکسانا بھی شامل ہو گا۔ وزراء نے پیکا ایکٹ کی قانون سازی پر جلد بازی کا اعتراف کرتے ہوئے بات چیت عندیہ دیا ہے تاہم حکومت نے صحافتی تنظیموں سے ڈائیلاگ شروع نہیں کیا جس کی وجہ سے ایجی ٹیشن جاری ہے سینیٹر عرفان صدیقی نے بھی اعتراف کیا ہے کہ حکومت نے پیکا قانون سازی میں جلد بازی کی ہے اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی۔
وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ قوانین میں بہتری کی ہمیشہ گنجائش موجود رہتی ہے، ابھی پیکا ایکٹ کے رولز بننے ہیں، اس میں مشاورت اور بات چیت کی بہت گنجائش موجود ہے۔ وہ پیکا ایکٹ کی متنازعہ شقوں پر بات کرنے کو تیار ہیں۔ سوشل میڈیا پروٹیکشن اتھارٹی میں نجی شعبے سے نامزدگیاں کی جائیں گی، اتھارٹی میں پریس کلب یا صحافتی تنظیموں سے منسلک صحافیوں کو شامل کیا جائے گا
پیکا ایکٹ میں ترامیم کے حق میں بات کرنے والے ایک دانشور کا سوال ہے کیا پاکستان جیسے ملک جس کی بنیاد اسلام کے نام رکھی گئی ہے میں اسلام کے خلاف بات کرنے کی کھلی چھٹی دے دی جائے؟ کیا ہر ایرے غیرے کو ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹی خبریں اور بے بنیاد پراپیگنڈا کرنے کی اجازت دے دی جائے؟ کیا ”آرٹیفشل انٹیلی جنس“ کے ذریعے فوج، عدلیہ اور سیاست دنوں کی کردار کشی پر خاموشی سے بیٹھ جانا چاہیے؟ جب ان باتوں کی روک تھام کے لئے قانون سازی کی جاتی ہے تو پھر اس بات پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ آزادی اظہار پر پابندی لگائی جا رہی ہے؟
ایک رائے یہ ہے کہ پورا ملک سوشل میڈیا میں کی جانے والی ”دہشت گردی“ کے ہاتھوں عاجز آ گیا تھا لہذا متاثرہ افراد کی اشک شوئی کے لئے قانون کو حالات کے مطابق ڈھالنا وقت کی ضرورت ہے لیکن قانون بنانے والوں نے سوشل میڈیا کے کرداروں پر آہنی ہاتھ ڈالنے کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا کو بھی نکیل ڈالنے کی شعوری کوشش کی ہے صحافتی تنظیموں کی طرف سے جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے وہ بڑی حد تک حقائق پر مبنی ہیں اس قانون کی آڑ لے کر الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ افراد کی زندگی اجیرن بنا دی جائے گی۔ فیک نیوز کی تشریح اور اس بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کے لئے صحافتی تنظیموں کی موثر نمائندگی ضروری ہے پیکا ایکٹ کے تحت الزام کو قابل ضمانت قرار دیا جائے ٹریبونل کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے لئے ہائی کورٹ میں اپیل کا حق ملنا چاہیے۔

