تے تاں کی اے
ہمارے ایک بہت پرانے دوست ہیں۔ ان وقتوں کے جب گاؤں کی زندگی سے نکل کر نئی دنیا میں نئے دوست بنانے کا موقع ملا۔ بہت صحت مند، خوش مزاج اور عمومی تکلفات سے عاری شخص تھے۔ میڈیکل ایمرجنسی ایک ایسا شعبہ تھا کہ جو نہایت ہی حساس تھا اور جہاں تھوڑی سی بھی غلطی کی گنجائش ممکن نہیں ہوتی۔ وہ صاحب وہاں بھی نہایت اہتمام، بے تکلفی اور بلا جھجک بڑے سے بڑے بلنڈر کر کے مطمئن رہتے۔ توجہ دلانے پر نہایت اطمینان، دلجمعی اور سکون سے دائیں ہاتھ کو پوری کلائی سے گھما کر کندھے تک لاتے اور گویا ہوتے
”تے تاں کی اے“ (یعنی پھر کیا ہوا؟ )
یہ تاں کی اے کا جملہ ان کی مطمئن نفسیات کا مستقل حصہ تھا۔ قوموں کی بھی ایک نفسیات ہوتی ہے جو ان کے مزاج سے جھلکتی ہے۔ پاکستانی قوم بھی بڑے سے بڑے بلنڈر کو بھی یوں اطمینان سے کرتے ہیں کہ گویا یہ کون سی بات ہے۔ اب آپ سڑک پر نکلیں تو کسی کے پاس لائسنس نہیں ہے، کسی کی نمبر پلیٹ نہیں ہے۔ کوئی بے ہنگم ٹریفک کے مخالف سمت جا رہا ہے۔ کوئی مسجد کے منبر پر بیٹھ کر نفرت پھیلا رہا ہے۔ کسی نے کبوتر چھت پر رکھ کر ہمسائیوں اور محلے کی جان اور پردہ داری کو مصیبت میں ڈال رکھا ہے۔ کوئی بجلی کے کنڈے لگا کر مطمئن ہے تو کوئی ساری سڑک پر قبضہ کر کے اطمینان سے مونچھوں کو تاؤ دیتا ہے۔ کوئی سینکڑوں ڈرم تازہ پانی گاڑیوں کے دھونے میں بہا کر مطمئن ہے تو کسی نے انسانوں کو جانور سمجھ کر گاڑی میں ٹھونس رکھا ہے اور گاڑی والا اور مسافر دونوں مطمئن ہیں اور پوچھنے پر یہی کہتے دکھائی دیں گے کہ
”تاں کی اے“
اب اس نفسیات کی حامل قوم پر جب پانی کی ایمرجنسی میں گاڑیاں دھونے پر مقدمات ہو رہے ہیں، اور ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع ہو رہا ہے تو یہ اعلانات کے باوجود اپنی نفسیات کے عین مطابق آخری دم تک مطمئن رہتی ہے۔ جیسے ہی آخری وقت جب دیو ہیکل کرین بپھرے ہوئے بھینسے کی طرح تجاوزات کو اٹھاتی ہے، گراتی ہے، اچکتی ہے یا ملیامیٹ کرتی ہے تو ان کی چیخیں آسمان تک پہنچتی ہیں۔ ”تاں کی اے“ جیسی قومی نفسیات کی حامل اس قوم کے لئے یہ سب ایک بھیانک خواب ہے، ایک انہونی ہے جو ان کی آنکھوں نے اس سے پہلے نہ دیکھی اور نہ ہی تصور کی۔
حکومتوں کو تو ووٹ چاہئیں، وہ کیوں کر عوام کی تباہی پھیر سکتے ہیں؟ ہماری منتھلی ادائیگیوں، ایم پی اے اور ایم این اے سے خاندانی تعلقات، ہماری یونینز کے ہوتے ہوئے ایسا کیونکر ہو سکتا ہے؟ واقعی نہیں ہو سکتا مگر یہ ہو رہا ہے۔ ہم خود بھی جب تباہی اور تخریب کے مناظر دیکھتے ہیں تو فیصلہ نہیں کر پاتے کہ اس کی تعریف کریں یا تنقید۔ اسے ایک نئی معاشرتی سوچ کی تعمیر کا پہلا قدم کہیں یا ایک ان پاپولر گورنمنٹ کی مزید ان پاپولر ہونے کی دانستہ کوشش کا نام دیں۔
ہم اسے جو بھی نام دیں، ہم اسے جو بھی سمجھیں اس سے حقائق کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ آپریشن ہماری معاشرتی سوچ کے دھارے کو بدل دے گا۔ ذہنوں میں پنپتی، رویوں میں جھلکتی اور دوسروں کی زندگی کو عذاب بنانے والی بے فکر اور عامیانہ سوچ کی یہ پہلی شکست ہے۔ اس رویے پر یہ پہلی ایسی چوٹ ہے جو ”تاں کی اے“ کے ذہن نشین بیانیے کو اکھاڑ دے گی۔ لوگ ایسے اقدامات اٹھاتے ہوئے سو بار سوچیں گے۔ ان کو یقیناً یہ احساس ہو گا کہ ان کے اور عوام کی تکالیف کے درمیان ایک تیسری قوت بھی موجود ہے۔ یہ تیسری قوت حکومت ہے۔ یہ حکومت کسی پارٹی کی بھی ہو، اس کی موجودگی کا احساس فرد کی سوچ اور اس سے اٹھتے معاشرتی رویوں کو بدل کر رکھ دے گا۔


