پردہ اور تعلیم: عصری پختون روایت


پردہ یا حجاب ایک ایسا موضوع ہے جو نہ صرف اسلامی معاشرت میں اہمیت رکھتا ہے بلکہ مختلف ثقافتوں میں بھی اپنی گہری جڑیں رکھتا ہے۔ عربی لفظ ”حجاب“ اور فارسی لفظ ”پردہ“ دونوں تقریباً ایک ہی معنی رکھتے ہیں، جو کسی عورت کے جسم کو غیر محرموں کی نظروں سے چھپانے کی حالت کو ظاہر کرتے ہیں۔ پردے کا مقصد محض جسم کی پوشیدگی نہیں بلکہ اس کے ذریعے عورت کی عزت، وقار اور حفاظت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ اس میں نہ صرف جسمانی تحفظ شامل ہوتا ہے بلکہ یہ معاشرتی اور اخلاقی حدود کے تعین کا بھی ذریعہ ہے۔

اسلام میں پردے کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور اس کے بارے میں قرآن اور حدیث میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ قرآن مجید میں ایک آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

”اے نبی اپنی بیبیوں، صاحبزادیوں اور مسلمان عورتوں سے فرما دیجئے کہ وہ اپنے اوپر چادریں ڈالے رہیں تاکہ انہیں پہچانا جائے اور انہیں ایذا نہ پہنچے۔ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا، بہت رحم کرنے والا ہے۔“

اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پردہ ایک فرض اور ضروری عمل ہے، جس کا مقصد عورت کو معاشرتی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اسلام میں پردے کو صرف جسم کے چھپانے تک محدود نہیں کیا گیا بلکہ یہ ایک اعلیٰ اخلاقی اور روحانی مقصد کی تکمیل کے لیے بھی ہے۔ پردے کے ذریعے نہ صرف عورت کی عزت کا تحفظ ہوتا ہے بلکہ یہ مردوں کے لیے بھی ایک اخلاقی ضابطہ فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اپنی نظروں کو نیچا رکھیں اور غیر ضروری خواہشات سے بچیں۔

اسلام میں پردے کی حقیقت صرف لباس تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ثقافتی اور سماجی معیار بھی ہے۔ جہاں ایک طرف اسلامی تعلیمات میں پردے کو اخلاقی، سماجی اور روحانی لحاظ سے اہم قرار دیا گیا ہے، وہیں دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے کہ پردے کے تصور کو صحیح تناظر میں سمجھا جائے۔ اسلام میں پردے کی اصطلاح محض جسم کے پوشیدہ رکھنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ انسان کی فطری حیاء اور اخلاقی حدود کی عکاسی کرتی ہے۔

پختون ثقافت میں پردہ ہمیشہ سے ایک اہم جزو رہا ہے۔ پشتون معاشرت میں عورت کی عزت و وقار کا تحفظ انتہائی اہمیت رکھتا ہے اور پردہ اس کا لازمی حصہ ہے۔ پختونوں کے دیہات میں برقعہ خاص کر ٹوپی والا اور بڑی چادریں خواتین کے لیے معمول کی بات ہیں۔ یہ روایات محض مذہبی نہیں بلکہ ثقافتی اور سماجی حیثیت رکھتی ہیں۔ پختون معاشرت میں خواتین کا باہر نکلنا کسی بھی صورت میں آسان نہیں ہوتا اور یہ کام محض مردوں کی نگرانی میں کیا جاتا ہے۔ جب خواتین بازار جاتی ہیں یا کسی ضروری کام کے لیے باہر نکلتی ہیں، تو وہ ہمیشہ اپنے ساتھ کسی محرم یا بچے کو ساتھ لے کر چلتی ہیں تاکہ ان کی عزت محفوظ رہ سکے۔

پختونوں میں ایک روایتی روایت یہ ہے کہ خواتین بازار میں دکانداروں کے ساتھ بات چیت کم کرتی ہیں اور اس کام کے لیے زیادہ تر مردوں کو دکان پر بھیجا جاتا ہے۔ خواتین کا کام صرف خریداری کی تکمیل ہوتا ہے، اور وہ ہمیشہ اپنے پردے کا مکمل خیال رکھتی ہیں۔ شادی بیاہ کے معاملات میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ عورت کی پسند کی چیزیں دکان پر منگوا کر خریدی جاتی ہیں تاکہ ان کی عزت کو برقرار رکھا جا سکے۔

اسی طرح، پختون معاشرت میں جب خواتین سڑک پر چل رہی ہوتی ہیں تو مردوں کی نظر سے بچنے کے لیے وہ سڑک کے ایک طرف ہو کر چلتی ہیں تاکہ غیر محرم کے سامنے نہ آئیں۔ اس طرح کے رویے کا مقصد صرف پردہ ہی نہیں بلکہ ایک بڑی اخلاقی ذمہ داری ہے جس کا مقصد خاندان کی عزت کی حفاظت کرنا ہے۔ یہاں تک کہ اگر کسی مرد کی کسی عورت کی طرف نظر اٹھتی ہے، تو وہ فوراً اپنی نظریں جھکا لیتا ہے، کیونکہ یہ پختون معاشرت میں ایک غیرت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

آج کے دور میں جہاں دنیا بھر میں خواتین کے حقوق اور آزادی کے معاملے پر بحث کی جا رہی ہے، وہاں پردہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر مختلف زاویوں سے بات کی جا رہی ہے۔ جدید معاشرتی حالات میں پردے کا تصور مختلف ثقافتوں میں مختلف طریقوں سے قبول کیا جا رہا ہے۔ مغربی دنیا میں خواتین کے حقوق کے بارے میں مختلف آوازیں اٹھائی جاتی ہیں، جن میں کچھ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پردہ ایک قسم کی آزادی کی کمی ہے، لیکن یہ نقطہ نظر اسلام اور مختلف ثقافتوں میں پردے کے اہمیت کو سمجھنے میں کمی محسوس کرتا ہے۔

پردہ محض ایک لباس کی شکل نہیں بلکہ یہ ایک عورت کی اپنی ذات، عزت، اور وقار کا اظہار ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف جسم کی پذیرائی کو روکنا ہے بلکہ عورت کو ایک مخصوص اخلاقی اور سماجی حدود کے اندر رہنے کی ترغیب دینا ہے۔ جیسا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2024 کے الیکشن میں کہا تھا:

”افغان خواتین ہزاروں سالوں سے پردہ کر رہی ہیں۔ وہ پردہ کرنا چاہتی ہیں، تو ہمیں اس معاملے میں کیوں دخل دینا چاہیے؟“

یہ بات اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ پردہ ایک ذاتی حق ہے اور ہر فرد کو اپنی مرضی کے مطابق اس پر عمل کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ میں اس بات پر اس لیے زور دے رہا ہوں کیونکہ کہ 2024 میں جب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا بورڈ امتحانات میں شاندار کارکردگی دکھانے والے بچوں میں انعامات تقسیم کر رہے تھے تو ان بچوں میں ایک لڑکی شٹل کاک برقع پہن کر آئی تھی اور جب اسے لوگوں نے سوشل میڈیا پر دیکھا تو اس کی ذات اور پختونوں پر مختلف انداز سے تنقید شروع کی تھی۔

اسلام میں خواتین کی تعلیم کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ وہ چاہے دینی تعلیم ہو یا عصری، دونوں کی تعلیم کا حصول عورتوں پر فرض قرار دیا گیا ہے۔ پختون معاشرت میں یہ بات مشاہدہ کی جاتی ہے کہ خواتین کی تعلیم حاصل کرنے کی شرح پہلے بہت کم تھی لیکن اب اس میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اب چونکہ پختون معاشرت میں تعلیم کا رجحان بڑھ رہا ہے اور خواتین کی تعلیم میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔ پہلے جہاں خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا جاتا تھا، اب وہ نہ صرف اپنے گھروں میں بلکہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ پختون خواتین کا تعلیم کے میدان میں کامیابی حاصل کرنا ایک بڑی تبدیلی ہے اور یہ ثقافتی تبدیلی ایک مثبت قدم ہے۔ یہ خواتین اپنے پردے اور حجاب کو برقرار رکھتے ہوئے معاشرت میں فعال کردار ادا کر سکتی ہیں۔

اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف علم کا حصول نہیں بلکہ یہ ایک فرد کی شخصیت کی تعمیر بھی ہے۔ پختون خواتین کی تعلیم کو پروان چڑھانا اس بات کا اشارہ ہے کہ معاشرتی تبدیلیاں ممکن ہیں، اور پردے کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی پختونوں کی ثقافت کا حصہ بن چکی ہے۔

پردہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے مذہب اسلام اور پختون ثقافت دونوں نے ایک اہم اصول کے طور پر اپنایا ہے۔ پردہ صرف عورتوں کی جسمانی پذیرائی کو روکنے کا عمل نہیں ہے، بلکہ یہ ان کے عزت و وقار، اخلاقی حدود، اور معاشرتی ذمہ داریوں کا ایک حصہ ہے۔ پختون معاشرت میں پردے کی یہ اہمیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ صرف ایک روایتی یا مذہبی فریضہ نہیں، بلکہ ایک ثقافتی اور سماجی ضابطہ ہے جسے خواتین اور مرد دونوں اپنی ذاتی اور اجتماعی عزت کے تحفظ کے لیے اپناتے ہیں۔ اب اگر اکا دکا ایسا واقعہ ہوتا ہے جو غیر موزوں ہو تو وہ اس چیز کی نفی نہیں کرتا بلکہ یہ انسانی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ کہ کوئی بھی شخص یا معاشرہ سو فیصد مکمل اور پرفیکٹ نہیں ہوتا۔

اسلام میں پردے کے بارے میں جو تعلیمات دی گئی ہیں، وہ ایک مکمل اور متوازن زندگی کے اصول ہیں۔ پردے کو ایک معاشرتی ضرورت کے طور پر دیکھنا چاہیے جو کسی کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرتا بلکہ ہر فرد کی عزت، خودمختاری اور آزادی کی حفاظت کرتا ہے۔ پختون خواتین کی تعلیم میں حالیہ تبدیلی جو انشاء اللہ مزید بھی ہو گی، اس بات کا مظہر ہے کہ معاشرتی ترقی اور پردے کی حفاظت دونوں ایک ساتھ چل سکتے ہیں اور دونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔

Facebook Comments HS