محبوب آپ کے قدموں میں


میرے بچپن میں میرے تایا کے گھر کا ایک ملازم ہوا کرتا تھا۔ اسے محبوب کو اپنے قدموں میں دیکھنے کا شوق چرایا ہوگا! اور کسی کالے علم والے بابے نے اسے اس شوق کا عمل دیا ہوگا کہ قبرستان سے کسی مردے کے بال لے کر رات اندھیرے، کھلے آسمان تلے جلاؤ۔ محبوب تک اس کا دھواں پہنچے گا اور وہ تمہارے قدموں میں آ گرے گا۔ ایک تو محبوب صرف رات کے اندھیرے میں ہی نکل سکتا ہے، دوسرے ظالم زمانہ بھی سو رہا ہوگا۔ اس بیچارے نے یہ عمل تایا کے گھر کے ساتھ والے خالی پلاٹ پر کیا تو سہی پر میں اور میری کزن رات گئے چھت پر گپیں مار رہے تھے۔ عجیب سی بوُ سے ہم چونکے۔ ایک ملازمہ بھی جاگ رہی تھی۔ اس نے اعلان کر دیا کہ بال جلنے کی بوُ ہے۔ گھر کے کچھ اور افراد بھی جاگے۔ محبوب ابھی راستے میں ہی ہوگا کہ ملازم بیچارہ پکڑا گیا۔ صبح اس نے اعترافِ عشق بھی کر لیا۔ اس کی شادی تایا نے اسی محبوب سے سزا کے طور پر کروا دی۔ اس کے بعد کی زندگی دونوں نے ایک دوسرے کے دل جلاتے ہوئے گزاری۔

کچھ ایسا ہی اجتماعی حال ہمارا بھی ہے۔ ہم بھی رات کے اندھیروں میں مُردوں کے بال جلاتے ہیں۔ صبح اس امید پر کرتے ہیں کہ نواز شریف زندان برد ہو چکے ہوں گے پانامہ کیس کے نتیجے میں۔ عمران خان پاگل خانے میں داخل کیے جا چکے ہوں گے اور ان کے دیوانے بال نوچتے پھر رہے ہوں گے۔ زرداری کو کسی نے زہر دے کر مکافاتِ عمل کا نتیجہ بنا دیا ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان کسی میکدے سے رنگے ہاتھوں پکڑے جا چکے ہوں گے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے کئی جانثار تو پھانسی چڑھ ہی چکے ہوں گے۔ فریال تالپور کے گھر پر چھاپہ لگا ہوگا اور کڑک نوٹوں کی بوریاں درآمد ہوئی ہوں گی اور بلاول امریکہ کے کسی گے کلب میں دھر لیا گیا ہوگا۔ مریم نواز کو کیپٹن صفدر نے رات میں جو تھپڑ مارا ہوگا، اس کا نشان صبح کی خبروں میں عیاں ہوگا۔ چودھری نثار نے شب بھر جو بھاری بوٹوں والے پاؤں پکڑ کر آہ و زاری کی ہو گی، صبح صبح انہی بوٹوں تلے چودھری نثار کے کچلے جانے کی خبر ہوگی۔

قصہ مختصر ہماری مرضی کی فہرست کے مطابق انگنت پھانسیاں لگ چکی ہوں گی اور جیل بھرے جا چکے ہوں گے۔ رات بھر عدالتوں نے عین رائے عامہ کی مرضی کے مطابق فیصلے لکھ لکھ کر قلم توڑے ہوں گے۔ صبح گلی گلی، چوراہوں پر ہمارے ناپسندیدہ لوگوں کی لاشیں لٹک رہی ہوں گی جو ہماری رائے کے مطابق ملزم نہیں، مجرم ہیں۔ یوں ہم تمام رات اپنے خیالی قبرستانوں کے مردوں کے بال جلاتے ہیں اور ان کی بوُ پر محبوب قدموں میں دیکھنے کی تمنا کرتے ہیں، پر صبح ہونے پر محبوب ہمارے قدموں میں نہیں ہوتا اور ہمارے سارے کے سارے مجرم ہمارے سینوں پر مونگ دلنے کو جوں کے توں موجود ہوتے ہیں۔ دن ہمارا سوشل میڈیا کے چوراہوں پر اس کے ردِعمل میں گذرتا ہے۔

ہم شخصیت پرست بھی ہیں اور شخصیت شکن بھی ہیں۔ ہم شخصیات کے گرد منڈلانے والے لوگ ہیں۔ نظام میں ہم یقین نہیں رکھتے۔ اپنے خوابوں کو نظام سمجھتے ہیں۔ جیسے علامہ اقبال کا قومی اور سرکاری خواب۔ جیسے سراج الحق صاحب کا خواب کہ نواز شریف ایک دن اذان دیں اور صدر جماعت کی امامت کریں۔ جیسے لال مسجد مارکہ خواب کہ ملک کی تمام خواتین برقع پوش ڈنڈا بردار ہوجائیں۔ جیسے ملحدین کا رد المذہب خواب۔

یوں جب اپنے خوابوں کے مطابق اسلامی نظام کی بات کی جاتی ہے تو سوچ بھی اسلامی نظام کے نام پر برقع پوشی اور خونریزی تک محدود ہوتی ہے۔ جب سیکولر سیاسی نظام کی بات کی جاتی ہے تو بھی سوچ صرف سیاست میں رد المذہب تک محدود دکھتی ہے۔ اسلامی نظام کی بات کرنے والے کبھی بھی حقوق العباد اور انصاف اور مذاہب کی آزادی اور اقلیت کے تحفظ اور عورت کے حقوق اور سماج میں موجود غلط روایات اور فساد و دہشت گردی جیسے مسائل پر بات نہیں کریں گے۔ کیونکہ ان کی بقا اسی میں ہے۔ اسی طرح نام نہاد روشن خیال کو شخصیات کی سزا کے ساتھ ساتھ مذہب سے اختلافِ رائے کے نام پر توہین کا زہر ملانے سے کچھ زیادہ ہی اور بے صبرانہ دلچسپی ہے۔

اس پر ہم بظاہر نظام بدلنے کی بات تو کرتے ہیں مگر نظام کی حد اپنے ارد گرد بھی مقرر نہیں کرتے۔ انسان کے اندر سیلف سینسر کا سسٹم موجود ہے جو اس کے گرد نظام کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے، اس سے جُڑے کئی دوسرے لوگوں کو بھی اس دائرے میں سمیٹ کر لے آتا ہے جو بلآخر سماج کا اجتماعی رویّہ بن جاتا ہے۔

ایک اچھا منصفانہ نظام سب سے پہلے افراد کو حقوق العباد (اسلامی زبان میں) یا لبرلز کی زبان میں (ہیومن رائٹس) کی طرف لے جاتا ہے۔ اور اس کی بنیاد پر افراد اور سماج کی تربیت کرتا ہے۔ مجرم اور ملزم کا فرق سکھاتا ہے اور ان کے حق تک کی بات کرتا ہے۔ تعصب کو نہ صرف قانونی طور پر بلکہ انسانی ضمیر کے لیے بھی جرم قرار دیتا ہے۔ فرد کی ذاتی رائے کی حد مقرر کرتا ہے۔ نہ عربی کو عجمی پر ترجیح دیتا ہے اور نہ عجمی کو عربی پر۔

مگر ہمارا اجتماعی رُخ نظام کی اجتماعی کوشش کی طرف نہیں ہے۔ جیسے ہم کرپشن کے خلاف آگ بگولہ تو ہیں مگر خود بھی ذاتی زندگیوں میں کسی نہ کسی طرح چھوٹی بڑی کرپشن اور جھوٹ میں مبتلا ہیں۔ کرپٹ لوگوں کے ساتھ تعلقات نباہتے ہیں اور ان کی دولت پر رشک کرتے ہیں۔ میرے تایا کے ملازم کی طرح ہماری شادی بھی اسی محبوب سے ہو چکی ہے اور اب ہم محبوب کو قدموں میں دیکھنے کے لیے بال جلانے کے ساتھ ساتھ محبوب کے ہم سفر بن کر صرف دل ہی جلا رہے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 97 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah