پشاور ٹریفک کا گمبھیر مسئلہ


پش اور ویسے تو بے شمار مسائل کا شکار ہے اور اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہیں ہو گا کہ پشاور کا جسم ان مسائل کی وجہ سے زخموں سے چور چور ہے، ایسا کیوں ہے اس سوال کا تشفی جواب تو پشاور کے متعلقہ اعلیٰ حکام ہی دے سکتے ہیں لیکن اس حوالے سے پشاور کے قومی و صوبائی اسمبلی نیز بلدیاتی اداروں کے منتخب نمائندوں نے جو چھپ سادھ رکھی ہے وہ بذات خود ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ پشاور کی اس بے کسی اور کسمپرسی کی ایک اور وجہ ماضی کی اور موجودہ صوبائی حکومتوں کی بے اعتنائی اور خاص کر سابق اور موجودہ وزراء اعلیٰ کی بے رخی ہے، کچھ یہی کیفیت اس حوالے سے سول بیوروکریسی اور دیگر متعلقہ اعلیٰ سرکاری عہدیداران کی بھی ہے۔

اوپر سے لے کر نیچے تک یہ سب رہتے تو پشاور میں ہیں لیکن افسوس کہ انہیں پشاور کے مفاد کی ذرہ برابر بھی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ پشاور میں بجلی، گیس، پانی، صفائی، بے روزگاری، صحت و تعلیم، آلودگی اور نکاسی آب کے پیچیدہ مسائل تو ایک طرف اہل پشاور کا ٹریفک کے بدترین رش اور بدنظمی نے ناک میں جو دم کر رکھا ہے اس سے نے ہر کسی کو پریشانی اور تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے، بہرحال پشاور کو ٹریفک کے جن سنگین مسائل کا سامنا ہے یہ صورتحال یقیناً تمام متعلقہ حکام کے لیے قابل توجہ ہے۔

مایوسی کے اس عالم میں گزشتہ دنوں شائع اور نشر ہونے والی یہ خبر اہل پشاور کے لیے ہوا کا تازہ جھونکا ثابت ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے پشاور کے ٹرانسپورٹ کے سنگین مسئلے کا نوٹس لیتے ہوئے یونیورسٹی روڈ پر بدترین رش کی وجہ بننے والے پانچ مقامات کی کشادگی کے علاوہ یونیورسٹی روڈ اور رنگ روڈ پر سات مقامات پر انڈر پاسز بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس ضمن میں رنگ روڈ پر ٹریفک اژدہام والے چار مقامات کبوتر چوک (دلہ زاک روڈ) ، جمیل چوک، پشتخرہ فیاض شہید چوک اور باڑہ روڈ کسٹم چوک پر انڈر پاسز بنائے جائیں گے جبکہ یونیورسٹی روڈ پر پر بھی پانچ مقامات بورڈ بازار، ٹاؤن چوک، شیرپاؤ ہسپتال، اقرا ءچوک، تمبوانو موڑ کی کشادگی کی جائے گی جہاں پر بالعموم ٹریفک جام رہتا ہے۔ اسی طرح صوبائی حکومت نے 72 نئی بسیں خرید کر بی آرٹی سروس کو رنگ روڈ، باڑہ روڈ اور خیبر روڈ تک توسیع دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

یہ بات محتاج بیان نہیں ہے کہ ان دنوں بے ہنگم ٹریفک، لائن کی خلاف ورزی، ٹریفک قوانین سے عدم واقفیت، تنگ و تاریک سڑکیں اور ٹریفک پولیس و ٹریفک انجینئرنگ کے شعبے کی نا اہلی کی وجہ سے پشاور کے شہریوں کے لئے اپنے کام کاج کے لیے پشاور کی سڑکوں پر نکلنا کسی آزمائش سے کم نہیں ہے، صبح سے شام تک شہر کی مختلف سڑکوں بالخصوص بعض چوراہوں پر بدترین ٹریفک جام روز کا معمول ہے البتہ سوموار کا دن اس حوالے سے اور بھی زیادہ گمبھیر صورتحال کا حامل ہوتا ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ہفتہ وار چھٹیاں (ہفتہ، اتوار) ختم ہونے کے بعد پیر کے دن اہل پشاور کو سارا دن بالعموم اور صبح وشام کے اوقات میں بے پناہ رش کی وجہ سے جس ذہنی کوفت سے گزرنا پڑتا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ اس روز معمول سے زیادہ گاڑیاں اور لوگ سڑکوں پر آمد و رفت کرتے ہیں جس سے شہر میں شدید ٹریفک جام ہوتا ہے۔ اس رش کے مظاہر پشاور کے مختلف علاقوں ڈبگری گارڈن، خیبر بازار، چوک یادگار، سٹی سرکلر روڈ، ورسک روڈ، ایل آر ایچ ایمرجنسی روڈ، جی ٹی روڈ، کوہاٹ روڈ، باڑہ روڈ، یونیورسٹی روڈ، کا رخانو مارکیٹ اور دیگر مقامات پر گاڑیوں کی طویل قطاروں کی شکل میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

پش اور کے شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے پشاور میں سات مقامات پر انڈر پاسز کی منصوبہ بندی اور 72 نئی بی آرٹی بسیں چلانے کا اعلان تو کر دیا ہے تاہم پیر کے روز ٹریفک کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے جس کا براہ راست نقصان شہریوں کو مختلف شکلوں میں اٹھانا پڑ رہا ہے۔ مزید یہ کہ ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی پر بھی ٹریفک پولیس خاموشی اختیار کیے نظر آتی ہے جبکہ سال کے چند مخصوص ایام میں ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے عائد کر کے ٹارگٹ پورا کرنے کی کارروائی ڈالی جاتی ہے۔

ٹریفک جام میں مریضوں کی گاڑیوں کے علاوہ سکولوں کے بچوں کی گاڑیاں بھی رش کی نذر ہو جاتی ہیں۔ بے تحاشا رش کی وجہ سے سڑکوں پر جھگڑوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جبکہ سول اور بلدیاتی انتظامیہ شہر سے تجاوزات کے خاتمے میں بھی مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے جس کا اثر ٹریفک کی روانی پر پڑتا ہے۔

حیران کن امر یہ ہے کہ ٹریفک کے رش پر قابو پانے کے لیے ٹریفک پولیس کے پاس ان دنوں واحد نسخہ رش کی حامل بعض بڑی سڑکوں پر پرانے اور روایتی یو ٹرنز کی غیر منطقی اور عاجلانہ بندش رہ گیا ہے جس سے اگر ایک طرف رش کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ گیا ہے تو دوسری جانب اس سے گاڑیوں کی مسافت اور وقت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے ، یہ ایک عام فہم بات ہے کہ یو ٹرنز کی تعداد میں اضافے سے ٹریفک کا رش کسی ایک جگہ پر بڑھنے کی بجائے مختلف مقامات پر تقسیم ہونے سے ٹریفک میں روانی کے ساتھ ساتھ وقت اور مسافت کی بچت بھی ہوتی ہے لیکن پتا نہیں ٹریفک کے کس اصول یا ریسرچ کی بنیاد پر ان یو ٹرنز کا فاصلہ اتنا بڑھا دیا گیا ہے جس سے ٹریفک کا رش کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ گیا ہے ۔

اسی طرح یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ ٹریفک اہلکاروں کی مرکزی شاہراہوں پر گشت کا کوئی خاص انتظام نہیں ہے بلکہ یہ اہلکار بالعموم چوکوں اور چوراہوں میں کھڑے نظر آتے ہیں جن کی توجہ رش اور ٹریفک منیجمنٹ سے زیادہ رکشوں، ٹرالیوں، پک اپس اور موٹر سائیکل سواروں کے جرمانوں پر ہوتی ہے حالانکہ اگر ٹریفک اہلکاروں کو مرکزی شاہراوں پر مسلسل گشت کے لیے موٹر بائیکس فراہم کی جائیں تو اس سے ٹریفک کے نظام میں کافی بہتری آ سکتی ہے۔

پشاور میں ٹریفک کے اژدہام اور پیچیدگی کی ایک اور وجہ سڑکوں بالخصوص چوراہوں سے ٹریفک سگنلز کا گم ہونا بھی ہے، اکثر چوکوں میں یا تو سرے سے ٹریفک سگنل موجود ہی نہیں ہیں اور اگر یہ کہیں پر موجود بھی ہیں تو یہ کام نہیں کر رہے ہیں۔ اسی طرح پشاور کے ٹریفک میں اضافے کی ایک اور وجہ پشاور شہر کا چاروں سمتوں میں مسلسل پھیلاؤ اور اس پھیلاؤ کی روشنی میں کسی ٹریفک پلان کا وجود میں نہ آنا ہے۔ اسی طرح پورے صوبے کی ٹریفک کا پشاور کی طرف رخ ہونا بھی یہاں ٹریفک کے مسائل میں اضافے کی ایک اور اہم وجہ ہے۔

اگر صوبے کے دوردراز علاقوں سے پشاور آنے والی نجی گاڑیوں کی محفوظ پارکنگ کے لیے پشاور کے تمام انٹری پوائنٹس کے قریبی بی آرٹی سٹیشنز پر کار پارکنگ کا بندوبست کیا جائے اور اس ضمن میں لوگوں میں آگاہی پیدا کی جائے کہ اگر وہ پشاور کے ٹریفک کے رش سے بچنا چاہتے ہیں اور اس رش میں اضافے کا حصہ بھی نہیں بننا چاہتے تو انہیں اپنی گاڑیاں متذکرہ بی آرٹی سٹیشنز پر پارک کر کے شہر میں اپنی آمد و رفت کے لیے بی آرٹی سروس کا استعمال کرنا چاہیے لہٰذا اس اقدام سے بھی ٹریفک کے اضافی رش کو کنٹرول کرنے میں کافی حد تک مدد لی جا سکتی ہے۔ #

Facebook Comments HS