عمرہ مبارک
عبادات اور رچول کسی بھی مذہب کا لازمی جز ہیں، میڈیٹیشن یا دھیان لگانا انسانی فطرت کا حصہ ہے اور کسی حد تک ضرورت بھی کیونکہ اس وسیع و عریض دیو ہیکل کائنات میں انسان اپنے آپ کو بہت حقیر پاتا ہے، اسے ہمیشہ سے کسی ایسی ہستی کی تلاش رہی ہے جو انسان کے لیے ان تمام قدرت کے مظاہر کو قابو کر سکے۔
ایک معاشرے کی مثبت تربیت میں مذہب انتہائی اہم کردار ادا کر سکتا ہے اگر اس مذہب کے رہنما اپنے پیروکاروں کو ریچولز کے ساتھ تمدنی شعور کا ادراک بھی دیں، ہر مذہب اچھائی اور نیکی کی تعلیم دیتا ہے، جھوٹ اور دھوکہ دہی کی ممانعت اور نفی کرتا ہے، لیکن بدقسمتی سے دنیا بھر کے مذہبی معاشروں میں جہاں عبادات کی بھرمار ہوتی ہے وہیں تمدنی شعور کا فقدان نظر آتا ہے۔
ہمارے معاشرے کا بھی یہی المیہ ہے کہ ہمارے علماء اور مولوی حضرات لوگوں کو مذہب کی اصل (جو حقوق العباد کے گرد گھومتی ہے ) کا شعور دینے میں بری طرح ناکام رہے ہیں، صرف اور صرف عبادات کو تمام مسائل کا حل قرار دے دیا گیا ہے، ہر قسم کے گناہ کی معافی کسی نہ کسی عبادت سے جوڑ دی گئی ہے، جس وجہ سے معاشرہ انحطاط کا شکار ہے، اس صورت میں مذہب (کم عقل، جاہل اور خود غرض لیڈران کی بدولت) ریورس ایفیکٹ کا باعث بن رہا ہے۔
ہمارے ایک امریکی پاکستانی دوست نے پاکستان میں کسی دوست کے کہنے پر ایک عدد پلاٹ خریدا، جب وہ اس کے کافی پیسے دے چکا تو معلوم ہوا کہ مذکورہ کالونی نے اپروول حاصل نہیں کی تھی اور بنیادی طور پر وہ علاقہ زرعی زمین کے کھاتے میں آتا ہے۔ اس نے متعلقہ کالونی کے مالک کو مسلسل کالیں کرنا شروع کیں، اس کا جب بھی پاکستان چکر لگا، نا چاہتے ہوئے بھی کالونی میں موجود اس کے دفتر جانا پڑا جو درود پاک اور آیت الکرسی کے خوبصورت اور بڑے بڑے پوسٹروں سے مزین تھا۔ اس نے جب بھی اسے کال کی تو اس کا جواب ہوتا تھا کہ میں نماز پڑھنے جا رہا ہوں یا نماز پڑھ کے نکلا ہوں، ابھی بات ہوتی ہے، میں فلاں بندے کو مغرب کے بعد ملوں گا، فلاں بندہ میرے ساتھ عشاء میں موجود ہوتا ہے تو میں اس سے پوچھوں گا وغیرہ وغیرہ، اس کے ہاتھ میں ہر وقت ایک تسبیح سجی رہتی تھی جو مسلسل گھومتی تھی۔
جب کچھ نا بن پایا تو اس نے اپنے ایک پولیس افسر دوست کو کال کر کے سارا مدعا بیان کیا، پولیس افسر نے اس پر پریشر بڑھایا تو اس نے ایک دن میرے دوست کو کال کی کہ میں آپ کے پلاٹ والے علاقے کی اپروول لینے کی کوشش کر رہا ہوں، میں جیسے ہی کامیاب ہوا تو بتاؤں گا، اس وقت متعلقہ افسر بہت ایماندار ہے وہ پیسے نہیں لیتا اسی وجہ سے میرے بہت سے کام پھنسے ہوئے ہیں۔ تقریباً ایک سال کی جدوجہد کے بعد ایک دن اس کی کال آئی کہ افسر تبدیل ہو گیا ہے اور نیا آنے والا افسر پیسے لیتا ہے، امید ہے ہمارا اور آپ کا کام ہو جائے گا، لیکن یہ آپ نے کسی سے ذکر نہیں کرنا، اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے بہت سے اوورسیز اور لوکل پاکستانیوں کے پیسے اسی بہانے دبا رکھے تھے۔
ایک دن اس کی خوشی سے چہکتے ہوئے کال آئی کہ دیکھیے میں ائرپورٹ پر بیٹھا ہوں اور مجھے یہاں خوشخبری ملی ہے کہ ہماری ڈیل ہو گئی ہے، میں عمرے پر جا رہا ہوں اور انشاءاللہ واپس آتے ہی آپ کو خوشخبری سناؤں گا، آپ کے لیے دعا بھی کروں گا اور آپ بھی پلیز میرے لیے دعا کریے، جزاک اللہ۔


