پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط (سلسلہ وار 6 )


Writing and Outlining

 

خوش رہنا بھی ایک آرٹ ہے ہم خوش اس لئے نہیں رہ پاتے کہ ہم بڑی خوشیوں کے انتظار میں رہتے ہیں جس کی وجہ سے چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہمیں نظر نہیں آتیں اور ہم ان پر خوش نہیں ہو پاتے منزل پر پہنچنے سے زیادہ اس سفر میں مزہ ہے جس کی بدولت ہمیں منزل ملتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونا آنا چاہیے۔

انسان کا دل اگر غنی ہے تو وہ چھوٹی سی بات میں بھی خوشی ڈھونڈ لے گا ورنہ بڑی سے بڑی بات پہ بھی خوشی کا احساس نہیں ہو گا۔ زندگی کو آج میں جینا چاہیے۔ ہم ہمیشہ اپنے سے اوپر دیکھتے ہیں یہ کوئی بری بات نہیں ہے مگر اس کے ساتھ ہمیں اپنے سے نیچے بھی دیکھنا چاہیے تاکہ ہم شکر ادا کر سکیں۔

مجھے یاد ہے جب ہم چھوٹے تھے تو کئی برس عید پر امی ہمارے نئے کپڑے نہیں بنا سکیں وہ ہم تینوں بہن بھائیوں کو بلا کر کہتیں کہ اس سال میں عید پر نئے کپڑے نہیں بنا سکوں گی اور میں اور سحینا یہ سوچتے کہ ہم کون سے کپڑے عید پر پہنیں گے ان کے ساتھ ہار بندے کون سے اچھے لگیں گے اور تیاریوں میں مصروف ہو جاتے زریون بھی کبھی شکایت نہیں کرتا کہ عید پر نئے کپڑے کیوں نہیں بنے۔

اس دور میں آج کی طرح ہر وقت کولڈ ڈرنک نہیں پی جاتی تھی کبھی کسی شادی کی تقریب میں کولڈ ڈرنک پی لی جاتی یا کسی خاص موقع پر ان دنوں امی ایک بوتل منگا کر ہم تینوں کو برابر دیتی تھیں اور ہم تینوں اپنے گلاس میں سے امی کو بھی پلانا چاہتے تھے جو وہ اکثر منع کر دیتی تھیں اور کبھی بہت زور دینے پہ ایک گھو نٹ لے لیتی تھیں۔ ہمارا کئی دفعہ بجلی کا بل وقت پہ ادا نہ کرنے کی صورت میں بجلی بھی کٹی مگر اس سب کے باوجود ہم خوش رہتے تھے اور نہ اس وقت کبھی ہمیں اس سب پر دکھ یا شرمندگی ہوئی اور نہ آج یہ سطریں لکھتے ہوئے کوئی ملال ہے۔

زندگی کرنے کے لئے انسان کی ضرورت پڑتی ہے اور اگر چھوٹی چھوٹی باتوں پہ خوش ہونا سیکھ لیا جائے تو زندگی بہت سکون کے ساتھ گزر سکتی ہے۔ آج کی زندگی میں جتنی بھاگ دوڑ افراتفری اور مقابلہ شامل ہو گیا ہے ایسا ہمارے بچپن میں نہیں تھا۔ زندگی میں آگے بڑھنا برا نہیں ہے مگر آگے بڑھتے ہوئے اپنوں کو پیچھے چھوڑ جانا یا شکر ادا نہ کرنا غلط ہے۔

ہم کو اندازہ بھی نہیں ہے کہ ہم کتنے خوش نصیب ہیں دنیا میں لوگ افلاس، بھوک، بیماری اور جنگوں سے لڑ رہے ہیں اور ان لوگوں کے لئے زندگی کو گزارنا ایک امتحان ہے۔ ہم خوشی بہت پیسہ خرچ کر کے تلاش کرتے ہیں۔ میری پہلی چار سالگرہیں بڑے دھوم دھام سے منائی گئی تھیں دو ڈھائی سو لوگ بلائے گئے تھے قریبی عزیز تو دو دن پہلے سے گھر پر موجود تھے۔ میں جب پیدا ہوئی تھی اس وقت ہمارے معاشی حالات بہت اچھے تھے اور جب ہمارے معاشی حالات خراب ہوئے جب بھی میں نے کبھی امی کو ہمارے ساتھ یا باقی گھر والوں کے ساتھ تلخ ہوتے نہیں دیکھا۔ وہ تب بھی خوش رہتی تھیں اور کس طرح ان سب مشکلات کا سامنا کرتی تھیں اس کی تھکن اور فکر ہم تک نہیں آنے دیتی تھیں۔ میں نے زندگی کو کیسے سر اٹھا کر جیا جاتا ہے یہ ان سے اور نانی اماں سے سیکھا ہے۔

مجھے یاد ہے میں اور سحینا جھونپڑی بنا کر کھیلتے اور اس پر خوش ہوتے ہم نے ایک رسی کا جھولا ڈالا ہوا تھا اس پر جھول کر جو مزہ آتا تھا اس کا لطف آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔ میں بہت لاڈ پیار سے پلی اور مجھے جس طرح پالا گیا اس کا تصور بھی بچے نہیں کر سکتے۔ میں نے شروع سے امی کے وہ دن دیکھے جب ہمارے حالات بہت اچھے تھے ہم روز طارق روڈ جاتے تھے اور Silver Spoon سے رول کھاتے امی اور خالہ چاٹ کھاتے اور مجھے پاپ کورن اور رول دلایا جاتا تھا چاٹ میں اس لئے نہیں کھاتی تھی کہ اس سے میرا گلا خراب ہو جاتا تھا۔ پھر جب حالات خراب ہوئے تو ہم عید پر بھی بازار نہیں جاتے تھے۔ مگر ہمیں نہ تو کبھی اس بات پر افسوس ہوا اور نہ احساس محرومی اس کی وجہ ہمارے بڑے تھے جو ہمیں چھوٹی چھوٹی باتوں میں کیسے خوشی تلاش کرنی ہے وہ سکھا پائے تھے۔

ہمارے گھر میں ہر تہوار منایا جاتا تھا۔ میں نے زندگی میں اچھا اور برا وقت دونوں دیکھا ہے مگر میں سمجھتی ہوں کہ مجھے دونوں طرح کے وقت نے ایک بہتر فرد بنایا میں آج میں زندہ رہتی ہوں خوش ہونا اور خوش رکھنا جانتی ہوں۔ میں نے خوش رہنے کا ہنر تم دونوں بہن بھائی میں منتقل کیا ہے۔

تم دونوں یہ یاد رکھنا کہ زندگی میں چاہنے والے موجود ہوں اور ہمیں خوشی تلاش کرنا آتی ہو تو سخت سے سخت وقت ہم کو نہ تو دکھی کر سکتا ہے اور نہ ہرا سکتا ہے۔ زندگی میں خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں اپنے اردگرد وہ لوگ جو تم جتنے خوش اور خوش نصیب نہ ہوں ان کو جب خوشی دے سکو ضرور دینا۔ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا اور وقت کو بدلنے کی طاقت رکھو۔ پرما تم بڑی ہو کوشش کرنا کہ تم دنیا میں کہیں بھی ہو تم اور فرجاد آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ خوشیوں کو بانٹ سکو میں نے اور کامران نے کوشش کی ہے کہ جب تم دونوں کئی برس بعد مڑ کر دیکھو تو تمہارے چہرے پر مسکراہٹ ہو۔

Facebook Comments HS