جامعہ پنجاب، اسلامی جمیعت اور پشتون طلبا


کسی استاد کا نہیں ،اب یہ کام نصیراللہ بابر جیسے کسی سخت گیر منتظم کا ہے کہ وہ جامعہ پنجاب سمیت ملک کے تمام تعلیمی اداروں کو سیاسی جماعتوں کی بچہ تنظیموں سے پاک کر دے ۔جن کے باپ اپنا پیٹ کاٹیں اور مائیں زیور بیچ دیں انہیں اپنی توجہ تعلیم پر مرکوز کرنی چاہیے نہ کہ تعلیمی اداروں میں اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کی منصوبہ بندی۔ جا معہ پنجاب کے سابق وائس چانسلر نے جمیعت کا زور توڑنے کے لئے جو لائحہ عمل اختیار کیا وہ اگر جاری رکھا گیا تو اس کے نتائج وہی ہوں گے جو کراچی میں ایم کیو ایم کو پالنے پوسنے کے ہوئے ۔

سمعیہ راحیل قاضی سے میرا تعلق اتنا سا ہے کہ وہ مجھے بھائی کہہ کر بلاتی ہیں، ہو سکتا ہے میری یہ تحریر ان کو گراں گزرے لیکن قلم کی حرمت مجبور کرتی ہے کہ وہی لکھوں جو حقائق کے مطابق ہے ۔ کل ٹیلی فون پر انہوں نے جا معہ پنجاب میں ہونے والے حالیہ واقعہ کی ذرائع ابلاغ میں کوریج سے متعلق بہت گلے شکوے کئے اور بجا کئے ۔ ٹیلی ویژن چینلز پر جو کچھ بتایا جاتا رہا وہ یک طرفہ تو تھا ہی لیکن حقیقت سے بھی بہت دور تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گز ر چکا ہے۔ جامعہ پنجاب میں جمیعت کی جو دھاک تھی وہ اس واقعے کے بعد باقی نہیں رہی۔ تاریخ میں پہلی بار جمیعت کو جامعہ پنجاب میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، گو کہ اس کا دوسرا پہلو بھی اتنا ہی تاریک ہے جتنا جمیعت کی طرف سے تعلیمی اداروں میں ہنگامہ آرائی کا۔ جمیعت کو اگر اپنی سوچ مسلط کرنے کا حق نہیں دیا جاسکتا تو کسی دوسرے گروہ کو یہ اجازت کیسے دی جا سکتی ہے کہ وہ جمیعت کا زور توڑنے کی قیمت اپنی سوچ کو مسلط کر کے وصول کرے۔ عمران خان پر تشدد، انہیں ڈنڈہ ڈولی کر کے جامعہ سے اٹھا کر باہر پھینکنے سمیت بہت سے واقعات ایسے ہیں جن پر جمیعت کا موقف بہت کمزور اور دلائل بودے ہیں۔ جمیعت کے پاس کوئی ایسا اختیار نہیں کہ وہ ڈنڈے کے زور پر تعلیمی اداروں میں اپنی سوچ کو مسلط کر سکے لیکن بدقسمتی یہی ہے کہ ہمارے معاشرے کے ہر طبقے میں یہ طالبانی سوچ جڑ پکڑ چکی ہے۔ خود کو اعلیٰ علین میں شمار کرنا اور مخالفین کو اسفل سافلین گردان کر گردن زدنی قرار دینا ہمارا وطیرہ بن چکا ۔

لمحہ موجود میں پاکستان کے تعلیمی اداروں میں طلبا یونین پر پابندی ہے اوراس پابندی کا اطلاق سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی ایسے ہی ہونا چاہیے جیسا کہ جماعت اسلامی کے اعلی ذمہ داروں کے قائم کئے گئے تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے ۔ لیکن اگر ایک لمحے کے لئے اس سے صرف نظر بھی کیا جائے تو جمیعت سمیت کسی بھی طلبہ تنظیم کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ طاقت کے بل بوتے پر دوسروں پر اپنے نظریات مسلط کرے۔ لیکن صاحبان دانش اور اہل قلم پر بھی لازم ہے کہ اگر وہ جمیعت سے فکری اختلاف رکھتے ہیں توبھی معاملے کو عدل کے اصولوں کے مطابق پرکھیں ۔

جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ ذرائع ابلا غ میں اس واقعہ کی رپورٹنگ یک طرفہ ہوئی ہے ۔ اصل واقعات کچھ ایسے ہیں کہ جھگڑے والے دن جامعہ میں پشتون کلچرل فیسٹیول کے ساتھ ساتھ جمیعت کے زیراہتمام دو پروگرام جاری تھے ، پہلا تئیس مارچ کی مناسبت سے طالبات کا تقریری مقابلہ اور دوسری تصویر ی نمائش ۔ پشتون کلچرل فیسٹیول کے منتظم طلبا کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کہ اجازت کے باجود ان کو کئی دن سے دھمکیاں دی جارہی تھیں کہ یہ فیسٹیول نہیں ہونے دیا جائے گا اور یہ دھمکیاں جمیعت کے ناظم اسامہ اعجاز کے نوٹس میں بھی لائی گئیں۔ دوسری طرف جمیعت کے زیراہتمام ہونے والے دونوں پروگرام جامعہ پنجاب کی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر کئے گئے۔ (یونیورسٹی انتظامیہ سے پوچھا جانا چاہیے کہ وہ اتنی کمزور کیوں ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر جامعہ میں کوئی پروگرام ہو جاتا ہے) پشتون کلچرل فیسٹیول میں پنجاب کے وزیرتعلیم علی رضا گیلانی مہمان خصوصی تھے ۔اور اس فیسٹیول کے پنڈال سے کوئی سو گز کے فاصلے پر جمیعت کا پروگرام چل رہا تھا ۔ جمیعت کے پنڈال میں ا س کے ترانے چل رہے تھے اور پشتون کلچرل فیسٹیول میں پشتون موسیقی ، دونوں طرف لگائے گئے ساؤنڈ سسٹمز ایک دوسرے سے مقابلے میں چل رہے تھے جس دوران یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اس نے دونوں پنڈالوں میں بجلی کی سپلائی کاٹ دی ۔ یہی وہ وقت تھا جب جمیعت کے مجاہد پشتون کلچرل فیسٹیول کے پنڈال پرچڑھ دوڑے ،اندازہ یہ لگایا گیا تھا کہ جمیعت کو چیلنج کرنے والے ان طلبا کو چارسوٹے لگے تو بھاگ اٹھیں گے، لیکن دوسری طرف جمعیت کے ممکنہ حملے کا جواب دینے کی تیاری مکمل تھی اور پھر وہ ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ پشتون کلچرل فیسٹیول کے شرکا نے جمیعت کے لڑکوں کی خوب دھنائی کی اور پنجابی محاورے کے مطابق جماعتیوں کے” رج کے کھُنے سیکے“ ۔ اس وقت تک کی اطلاعات کے مطابق جمیعت کے چار پانچ طلبا ہسپتال کے آئی سی یو اور برن یونٹ میں ہیں اور میر ی اطلاع کے مطابق ان زخمیوں میں سمیعہ راحیل قاضی کا بھانجہ بھی شامل ہے ۔ پشتون طلبا نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ جمیعت کے زیراہتمام جاری طالبات کے پروگرام پر حملہ کیا گیا اور پنڈال کو آگ لگا دی ۔ بریکنگ نیوز کی بھوکی ٹی وی سکرینوں کا پیٹ بھرنے کے لئے اس طرح کی آگ بہت کام آتی ہے ، سو اس دن بھی آئی اور سارا میڈیا یہی سمجھتا رہا کہ جمیعت نے اپنی روایات برقرار رکھتے ہوئے ماضی کی طرح مخالفین کا پنڈال الٹ دیا ہے لیکن جب گرد تھمی تو پتہ چلا کہ جمیعت تو خود اپنے زخم چاٹ رہی ہے ۔ لیکن وہ کیا کہتے ہیں کہ بڑے بڑے دیشوں میں اس طرح کے چھوٹے چھوٹے واقعات تو ہوتے رہتے ہیں ۔ اگلے دن میڈیا کو نئی بریکنگ نیوز میسر آگئی اور رات گئی بات گئی ۔

اس سارے قضیے میں جمیعت کے اس مجاہد کو اکیس توپوں کی سلامی دی جانی چاہیے جس نے پشتون کلچرل فیسٹیول پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ میرا خیال ہے کہ بغیر اجازت کئے جانے والے پروگرام میں جانے سے سمیعہ راحیل قاضی صاحبہ کو معذرت کر لینی چاہیے تھی ۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ پشتون طلبا کو جمیعت کی مخالفت میں کھل کھیلنے کی اجازت دی جائے ۔ ایک مسلم معاشرے میں خواتین کا جو احترم ہے اسے ہر حال میں ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیے تھا ۔ بعض اطلاعات کے مطابق سمیعہ راحیل قاضی صاحبہ اور ان کے ساتھ دوسری خواتین کو بھی دھکے دئیے گئے اور ان کے ساتھ بدتمیزی کی گئی لیکن میرے ساتھ بات چیت میں خود سمیعہ راحیل قاضی صاحبہ نے اس پہلو پر کوئی بات نہیں کی بلکہ انہوں نے کہا کہ جب میں نے پشتو میں حملہ آور لڑکو ں کو مخاطب کر کے غصے سے یہ کہا کہ تم کن ماؤں کے بیٹے ہوں جنہوں نے تمھاری ایسی تربیت کی ہے تو ان میں سے دو لڑکے ٹھٹھک گئے اور واپس چل پڑے ۔ بہرحال یہ ایک انتہائی افسوسنا ک واقعہ ہے ۔ پنجابی کہاوت ہے ”دھیاں تے بھیناں سانجھیاں ہوندیاں نیں“ پنجاب کی سرزمین پر پشتونوں کی یہ حرکت انتہائی شرمناک ہے ۔ اور یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہمارے طلبہ کو اخلاقی گراوٹ کے اندھے کنویں میں گرنے سے بچانے کے لئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے ۔ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور مستقبل میں اس طرح کے کسی بھی واقعے سے بچنے کے لئے تعلیمی اداروں میں طلبا یونین پر پابندی کا سختی سے اطلاق کرے ۔ کالجز اور جامعات میں جانے والے سولہ ،اٹھارہ برس کے کچے ذہن اس قابل بالکل نہیں ہوتے کہ ان کو خوبصورت نعروں سے لبھا کر ان کی توجہ تعلیم سے ہٹا کر سیاست پر لگا دی جائے ۔ ایک ناکام طالب علم ایک کامیاب سیاستدان کبھی نہیں بن سکتا۔

Facebook Comments HS