ابھے نندن ورتھمان، پریانکا چوپڑا اوراخلاقی فتح

سات اکتوبر دوہزار سولہ، انہیں صفحات پر خاکسار نے اپنے کالم ”پاک بھارت جنگ ناگزیر ہے“ میں عرض کیا تھا کہ ”آخری بار پاکستان اور بھارت کے درمیان جو نتیجہ خیز مذاکرات ہوئے تھے وہ وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹواور بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے درمیان ہوئے تھے۔ نصف صدی ہونے کو آئی ہے لیکن…

Read more

رضوان رضی: آزادی صحافت اور قومی مفاد

سولہ جنوری کو انہیں صفحات پر شائع ہونے والے اپنے کالم میں گزارش کی تھی کہ ”صحافی یا تجزیہ نگار اگر اپنی ثقہ معلومات کی بنا پر یہ یقین رکھتا ہو کہ کوئی حکومتی عہدیدار یا اہلکار کسی غلطی یا بدعنوانی کا مرتکب ہو رہا ہے تو وہ اس کی نشاندہی کرنے کا پورا حق…

Read more

مساجد! رحمت کی فیکٹریاں یا تفرقہ بازی کے گڑھ

یہ تین فروری دو ہزار انیس کی دوپہر تھی جب لندن پولیس کو شہر کے علاقے ویمبلے کے اسلامی مرکز کی مسجد میں طلب کیا گیا۔ مسجد کی انتظامی کمیٹی نے پیش امام کو صرف اس لئے برطرف کردیا تھا کہ وہ بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے تھے اورپھر اس بات پر فساد اتنا بڑھا کہ پولیس طلب کرنا پڑی۔ بات اتنی سادہ نہیں، معاملے کا پس منظر سمجھنے کے لئے آپ کو برطانیہ میں مساجد کی تعمیراور ان کے انتظام کا نظام سمجھنا ہوگا۔

برطانیہ میں مسجد کی تعمیر کے لئے مقامی قانون کے تحت ایک فلاحی تنظیم رجسٹرڈ کروانی پڑتی ہے جو تعمیر کیے گئے اسلامی مرکز یا مسجد کا انتظام سنبھالتی ہے۔ تنظیم کے عہدیداران ٹرسٹی کہلاتے ہیں اور یہی مسجد یا مرکز کے انتظام کے ذمہ دار ہوتے ہیں جبکہ باقاعدہ مسجد میں آنے والوں کو مصلے کی نسبت سے ”مصلی“ یعنی نمازی یا اسلامی مرکز کا رکن کہا جاتا ہے۔ برطانیہ چونکہ ایک خوشحال ملک ہے تو یہاں رہنے والے مسلمان مساجد پربھی اپنی حیثیت کے مطابق دل کھول کر خرچ کرتے ہیں۔

Read more

کم از کم جانتے بوجھتے تو زہر مت کھائیں

یہ گوگل بھی کمال کی چیز ہے۔ ایک لفظ ٹائپ کریں تو ہزار نہیں لاکھوں کروڑوں اطلاعات کا دروازہ آپ پر کھول دیتا ہے۔ ایسے ہی گوگل پر گھومتے گھامتے حکیم محمد سعید کی تصویر پر نظر پڑگئی۔ حکیم سعید کیا کمال آدمی تھے جو اپنی تحریروں اور گفتگو میں اکثر قوم کو بسیار خوری سے گریز کا مشورہ دیتے۔ اپنے تجربات اور تحقیق کی روشنی میں وہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے تھے کہ انسان کو دن میں 3 بار نہیں بلکہ 24 گھنٹے میں صرف 2 بار کھانا تناول کرنا چاہیے۔

قوم لیکن ہماری دھن کی ایسی پکی ہے کہ حکیم صاحب کی بات پر کان تک نہیں دھرا۔ پیٹ بھر کر نہیں ٹھونس ٹھونس کر ہم کھاتے ہیں اور پھر حکیموں کی پھکیاں اور ڈاکٹروں کی رنگ برنگی مہنگی دوائیاں کھا کر ہم خود کو امیر اور بڑا آدمی سمجھتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے خاکسار کو رات گئے شدید پیچس کی شکایت لاحق ہوئی۔ دن چڑھے نقاہت اس قدر بڑھ گئی کہ پانی کا گلاس ہاتھ میں لینا ممکن نہ رہا۔ جیسے تیسے کرکے ڈاکٹر کے پاس پہنچا اور پھر ان کے نسخے کے مطابق ایک بڑے اسٹور سے ہزار آٹھ سو روپے کی دوائیں لے کر گھر پہنچا۔

Read more

سانحہ ساہیوال! سیاسی مقاصد کے لئے استعمال مت کیجئے

غصے میں انسان کو فیصلہ نہیں کرنا چاہیے اور شادمانی کے لمحات میں وعدہ لیکن ہماری قوم ان دونوں کاموں میں طاق ہے۔ ایک گروہ وہ ہے جس نے ہتھیلی پر سرسوں جمانے کا پیمان کیا تھا لیکن ابھی تک یہ ادراک نہیں کر پایا کہ ہوائی قلعے مسمار ہو چکے۔ مد مقابل دوسرا گروہ…

Read more

ہمارے ہاں کی ’صحافت‘ کا حال مت پوچھو

بھارتی ریاست کرناٹک کے شہر میسور کے ایک یوگی ہیں ’سادھ گرو جگی واسو دیو‘۔ دنیا بھر میں یوگا سکھاتے ہیں اور ان کی بنائی گئی ’ایشا فاؤنڈیشن‘ تعلیم، صحت اور دیگر سماجی کاموں میں بھی پیش پیش ہوتی ہے۔ سادھ گرو کی صحت، مذہب اور روحانیت پر لکھی گئی کتابوں کو نیویارک ٹائمز نے…

Read more

تعلیمی ادارے کیسے بچوں کی صحت تباہ کر رہے ہیں

رات ملتان میں مادر علمی جامعہ ذکریا میں گزری، مجھے علی الصبح بہاولپور روانہ ہونا تھا۔ تقریباً سواسات بجے کا وقت تھا جب میں تیار ہو کر باہر نکلا۔ گاڑی سڑک پر آئی تو شدید دھند کی وجہ سے چند فٹ کے فاصلے پر بھی کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ طلوع آفتا ب کا وقت تھا لیکن دھند کی وجہ سے سورج کا نظر آنا ممکن نہ تھا۔ گاڑی چند میٹر آگے یونیورسٹی ہاسٹلز اور ڈیپارٹمنٹ کے درمیان مرکزی سڑک پر پہنچی تو طلبا و طالبات کو گھروں سے یونیورسٹی لانے والی روٹ کی بسیں مختلف ڈیپارٹمنٹس کے سامنے طلبا و طالبات کو ان کی منزل پر اتار رہی تھیں۔

شدید دھند کے عالم میں بچے بچیاں سردی سے ٹھٹھرتے، جمے ہوئے ہاتھوں کو آپس میں رگڑکر سردی کی شدت کو کم کرنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ گاڑی بسوں کے قریب سے گزری تو ڈرائیور نے احتیاطا رفتار انتہائی کم کر دی۔ طلبا و طالبات کے پاس سے گزرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ خشک سردی اور شدید دھند میں بسوں سے اترتے طلبا و طالبات کے چہروں کی رنگت زرد ہورہی تھی۔ سخت حیرت ہوئی کہ ایسے شدید موسم میں اتنی صبح سویرے کلاسز شروع کرنے کی مجبوری کیا ہے۔ تھوڑی سی معلومات کے بعد عقدہ کھلا کہ یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات میں کلاسز صبح آٹھ بجے سے شروع ہوجاتی ہیں۔ پنجاب کی تمام جامعات، کالجز اور سکولوں میں بھی صورتحال کم و بیش یہی ہے۔

Read more

سو دن، کرتار پورہ اور سشمادیدی کا ندیدہ پن

سو دن کہ جن کا وعدہ تھا ہم دیکھ چکے ، ہم دیکھ چکے۔ وزیراعظم عمران خان نے تنقیدی حلقوں سے یہ گزارش کی تھی کہ حکومت کو سو دن کا وقت دیا جائے اور سو دن کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے رائے قائم کی جائے ،لیجئے !سو دن پورے ہوئے ۔ تبدیلی کا نظام…

Read more

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ دو دن

بارتھی میں وزیراعلیٰ کے آبائی گھر کے پاس ہی جلسے کا انتظام تھا جہاں عوام کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ کے لئے بھی فرشی نشست کا اہتمام تھا۔ وزیر اعلیٰ کا ہیلی کاپٹر نظر آیا تو مقامی افراد نے ڈھول کی تھاپ پر روایتی بلوچی تلواروں کے ساتھ رقص کرتے ہوئے سردار عثمان بزدار کا استقبال کیا۔

وزیراعلیٰ کا وہ گھر جس کے بارے میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ وہاں بجلی تک نہیں اس کے سامنے لگے کھمبے پر نصب نیا ٹرانسفارمر ”میرے گاؤں میں بجلی آئی ہے“ کا اعلان کر رہا تھا۔ سردار عثمان بزدار نے ثابت کیا کہ وزارت اعلیٰ سنبھالنے کے بعد سو دن کے اندر اندر بارتھی اور گردونواح میں تو تبدیلی آچکی تھی۔ سردار عثمان بزدار نے جلسے سے پہلے تقریبا ستر کلومیٹر سڑک کے دو منصوبوں، بارتھی کے رورل ہیلتھ سنٹر کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بنانے اور ڈیر ہ غازی خان کے قبائلی علاقوں میں ریسکیو 1122 سروس کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔

Read more

سید محمد عظیم المعروف قلندر بابا اولیاؒ کی صوفیانہ شاعری

باری تعالیٰ نے آدم و حو ّا کو پیدا کیا۔پھر نسل آدم پھیلانے کے لئے زمین پر بھیج دیا۔ اس ربّ ذوالجلال کی مرضی اور منشاء کے مطابق آدمی کی تخلیق کا سلسلہ برابر جاری ہے۔ جیسے جیسے آبادیاں اور گروہ بڑھتے گئے، آدمی کی ضرورتوں میں اضافہ ہوتا رہا۔ دن، مہینے اور سال گزرتے…

Read more