حکومت کی ڈولی اب کہاروں کے حوالے ہے

شادی ہو چکی، ڈولی اٹھ چکی لیکن دلہا کو اب سمجھ آنا شروع ہوئی ہے کہ ڈولی کا رخ اس کے گھر کی بجائے کہیں اور موڑ دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے دلہن کے مستقبل کا فیصلہ تو اب کہار ہی کریں گے۔ باراتی بیچارے اس معاملے میں کیا کر سکتے ہیں کہ ان کا…

Read more

قصہ چہار درویش اور تھری اِیڈیٹس

کار، کوٹھی، بنگلہ اور بنک بیلنس انسان کا اثاثہ ہوتے ہوں گے لیکن پرخلوص دوست انسان کا حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں۔ مدینتہ الاولیا ملتان میرا محبوب شہر ہے۔ یہ شہر میری جنم بھومی تو نہیں لیکن اس نے مجھے بہت کچھ عطا کیا ہے۔ صحافت کا آغاز میں نے یہیں سے کیا، استادوں کے استاد…

Read more

ریپ سے بچائیے: بچیوں کو زندہ دفن کیجئے

پندرہ مئی دوہزار انیس کی شب دارالحکومت کے باسی اپنے آرام دہ بستروں میں اے سی کی ٹھنڈی ہوا میں خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے۔ کچھ دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ منال کے پر فضا مقام پر سحری بوفے کا لطف لے رہے تھے۔ کوئی بیس کلومیٹر کے فاصلے پر راولپنڈی کی…

Read more

کیاکم سن بچوں کی شادیاں خلاف اسلام ہیں ؟

’’تم ہندو ہو ، تمہیں یہ بل پیش ہی نہیں کرنا چاہئے تھا‘‘۔ یہ مشورہ نہیں پاکستان میں بسنے والے غیر مسلم ارکان پارلیمنٹ اور دستور پاکستان کے منہ پر زور کا طمانچہ ہے ۔ ہندوبرادری کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار نے ایک ٹی وی پروگرام میں یہ شکوہ کیا کہ کم سن بچوں کی شادیوں پر پابندی کابل پیش کرنے پر اس کی مخالفت کوئی انہونی بات نہیں لیکن جب یہ الفاظ ان ہی کی سیاسی جماعت کے وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے انہیں کہے تو انہیں افسوس ہوا ۔

Read more

سفاک مرد، مظلوم عورتیں اور آپا نور الہدی شاہ کا مشورہ

سنگدل ٹھٹھا اڑاتے ہیں اور نرم دلوں سے سہا نہیں جاتا۔ کبھی اگر تحریر لکھنے میں تاخیر ہو تو برادرم وجاہت مسعود بڑے دھیمے لہجے میں کہتے ہیں، خواجہ صاحب کوئی تحریرنہیں آئی؟ لکھوں کیا؟سوچتا ہوں شاید بے حس ہوجانا ہی حل ہے ورنہ دماغ پھٹ جانے کا احتمال ہے۔ جیسنڈرا آرڈرن کو صوفی اور…

Read more

ابھے نندن ورتھمان، پریانکا چوپڑا اوراخلاقی فتح

سات اکتوبر دوہزار سولہ، انہیں صفحات پر خاکسار نے اپنے کالم ”پاک بھارت جنگ ناگزیر ہے“ میں عرض کیا تھا کہ ”آخری بار پاکستان اور بھارت کے درمیان جو نتیجہ خیز مذاکرات ہوئے تھے وہ وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹواور بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے درمیان ہوئے تھے۔ نصف صدی ہونے کو آئی ہے لیکن…

Read more

رضوان رضی: آزادی صحافت اور قومی مفاد

سولہ جنوری کو انہیں صفحات پر شائع ہونے والے اپنے کالم میں گزارش کی تھی کہ ”صحافی یا تجزیہ نگار اگر اپنی ثقہ معلومات کی بنا پر یہ یقین رکھتا ہو کہ کوئی حکومتی عہدیدار یا اہلکار کسی غلطی یا بدعنوانی کا مرتکب ہو رہا ہے تو وہ اس کی نشاندہی کرنے کا پورا حق…

Read more

مساجد! رحمت کی فیکٹریاں یا تفرقہ بازی کے گڑھ

یہ تین فروری دو ہزار انیس کی دوپہر تھی جب لندن پولیس کو شہر کے علاقے ویمبلے کے اسلامی مرکز کی مسجد میں طلب کیا گیا۔ مسجد کی انتظامی کمیٹی نے پیش امام کو صرف اس لئے برطرف کردیا تھا کہ وہ بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے تھے اورپھر اس بات پر فساد اتنا بڑھا کہ پولیس طلب کرنا پڑی۔ بات اتنی سادہ نہیں، معاملے کا پس منظر سمجھنے کے لئے آپ کو برطانیہ میں مساجد کی تعمیراور ان کے انتظام کا نظام سمجھنا ہوگا۔

برطانیہ میں مسجد کی تعمیر کے لئے مقامی قانون کے تحت ایک فلاحی تنظیم رجسٹرڈ کروانی پڑتی ہے جو تعمیر کیے گئے اسلامی مرکز یا مسجد کا انتظام سنبھالتی ہے۔ تنظیم کے عہدیداران ٹرسٹی کہلاتے ہیں اور یہی مسجد یا مرکز کے انتظام کے ذمہ دار ہوتے ہیں جبکہ باقاعدہ مسجد میں آنے والوں کو مصلے کی نسبت سے ”مصلی“ یعنی نمازی یا اسلامی مرکز کا رکن کہا جاتا ہے۔ برطانیہ چونکہ ایک خوشحال ملک ہے تو یہاں رہنے والے مسلمان مساجد پربھی اپنی حیثیت کے مطابق دل کھول کر خرچ کرتے ہیں۔

Read more

کم از کم جانتے بوجھتے تو زہر مت کھائیں

یہ گوگل بھی کمال کی چیز ہے۔ ایک لفظ ٹائپ کریں تو ہزار نہیں لاکھوں کروڑوں اطلاعات کا دروازہ آپ پر کھول دیتا ہے۔ ایسے ہی گوگل پر گھومتے گھامتے حکیم محمد سعید کی تصویر پر نظر پڑگئی۔ حکیم سعید کیا کمال آدمی تھے جو اپنی تحریروں اور گفتگو میں اکثر قوم کو بسیار خوری سے گریز کا مشورہ دیتے۔ اپنے تجربات اور تحقیق کی روشنی میں وہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے تھے کہ انسان کو دن میں 3 بار نہیں بلکہ 24 گھنٹے میں صرف 2 بار کھانا تناول کرنا چاہیے۔

قوم لیکن ہماری دھن کی ایسی پکی ہے کہ حکیم صاحب کی بات پر کان تک نہیں دھرا۔ پیٹ بھر کر نہیں ٹھونس ٹھونس کر ہم کھاتے ہیں اور پھر حکیموں کی پھکیاں اور ڈاکٹروں کی رنگ برنگی مہنگی دوائیاں کھا کر ہم خود کو امیر اور بڑا آدمی سمجھتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے خاکسار کو رات گئے شدید پیچس کی شکایت لاحق ہوئی۔ دن چڑھے نقاہت اس قدر بڑھ گئی کہ پانی کا گلاس ہاتھ میں لینا ممکن نہ رہا۔ جیسے تیسے کرکے ڈاکٹر کے پاس پہنچا اور پھر ان کے نسخے کے مطابق ایک بڑے اسٹور سے ہزار آٹھ سو روپے کی دوائیں لے کر گھر پہنچا۔

Read more

سانحہ ساہیوال! سیاسی مقاصد کے لئے استعمال مت کیجئے

غصے میں انسان کو فیصلہ نہیں کرنا چاہیے اور شادمانی کے لمحات میں وعدہ لیکن ہماری قوم ان دونوں کاموں میں طاق ہے۔ ایک گروہ وہ ہے جس نے ہتھیلی پر سرسوں جمانے کا پیمان کیا تھا لیکن ابھی تک یہ ادراک نہیں کر پایا کہ ہوائی قلعے مسمار ہو چکے۔ مد مقابل دوسرا گروہ…

Read more
––>