کھلی آنکھ تو ہر طرف خسارہ ہی خسارہ تھا
امریکہ کے تلخ دورے کے بعد یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی یورپی ملکوں کے رہنماؤں کے اجلاس میں شرکت کے لیے جب برطانیہ پہنچے تو برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے گلے لگا کر ان کا شان دار استقبال کیا۔ انہوں نے یورپ کی سلامتی کے لیے یوکرین کی حمایت کو انتہائی ضروری قرار دیا۔ کیئر سٹارمر نے یوکرین کی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے اسے 2.6 ارب ڈالر کا قرض دینے کا اعلان کیا۔ یوکرینی صدر نے کنگ چارلس سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے رسمی سوٹ کی بجائے فوجی وردی زیب تن کی ہوئی تھی۔ یاد رہے کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے وقت سوٹ نہ پہننے پر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ برطانیہ میں ان کے اس پرتپاک خیر مقدم کی بظاہر ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یوکرین ایک یورپی ملک ہے جسے امریکہ کی جانب سے شرمندہ اور پریشان کرنے پر یورپ کے زیادہ تر ملک نا خوش نظر آتے ہیں۔ یوکرین یورپی یونین اور نیٹو اتحاد کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ روس نہیں چاہتا کہ ماضی میں سوویت یونین کا حصہ رہنے والا یہ ملک اس کے مخالف کیمپ میں شامل ہو جائے۔ یہ بات یوکرین پر روسی حملے کا سبب بھی بنی ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان دو سال سے جنگ جاری ہے۔ جس کی بھاری قیمت یوکرین، روس اور یورپ کے عوام ادا کر رہے ہیں۔
اس طویل جنگ میں یوکرین کو یورپ کی بھرپور حمایت حاصل ہے لیکن دیکھنا ہو گا کہ آخر ایسی کیا تاریخی وجوہ ہو سکتی ہیں جن کے باعث برطانوی وزیر اعظم اور دیگر یورپی ملک یوکرینی وزیر اعظم کی اس قدر پر جوش حمایت کر رہے ہیں۔
یہ امر نظر میں رہے کہ برطانیہ دوسری جنگ عظیم سے پہلے تک دنیا کی پہلی عالمی طاقت اور تاریخ کی سب سے بڑی سلطنت تھا۔ برطانیہ نے 1607 میں جیمس ٹاؤن ورجینیا میں اپنی پہلی نو آبادی قائم کرنے کے بعد شمالی، وسطی، جنوبی امریکہ اور کریبیئن کے وسیع علاقے کو اپنی نو آبادی بنا لیا۔ اٹھارہویں صدی تک دنیا کے بڑے حصے پر اس کا قبضہ ہو چکا تھا۔ اس دور میں برطانیہ کو فرانس اور ہندوستان کی جنگوں سے شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اپنے مالی خسارے کو پورا کرنے کی خاطر اس نے امریکی نو آبادی پر بھاری ٹیکس لگا دیے جس کے خلاف مزاحمت شروع ہو گئی۔ برطانیہ کو سب سے بڑی ہزیمت اس وقت اٹھانی پڑی جب شمالی امریکہ کی تیرہ نو آبادیوں نے اس کے خلاف جنگ آزادی کا آغاز کر دیا۔ اس جنگ میں انہیں فتح ملی اور 4 جولائی 1776 میں اعلان آزادی کے بعد ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے نام سے ایک خودمختار ملک دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔ 1883 کے معاہدہ پیرس کے ذریعے برطانیہ نے بالآخر امریکہ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا۔ فرانس کو شکست دینے کے بعد برطانیہ 19 ویں صدی میں دنیا کی سب بڑی فوجی طاقت بن گیا۔ برطانوی سلطنت 20 ویں صدی کے اوائل تک اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ دنیا کے 1 کروڑ 37 لاکھ مربع میل علاقے پر اس کا قبضہ تھا اور 48 کروڑ لوگ یعنی اس وقت کی 25 فیصد آبادی اس کی رعایا تھی۔
پہلی اور دوسری جنگ عظیم کا سب سے زیادہ نقصان برطانیہ کو اٹھانا پڑا۔ دونوں جنگوں میں اس کے دس لاکھ سے زیادہ فوجی ہلاک ہوئے۔ ایک جزیرے پر مشتمل اپنے وقت کی واحد عالمی طاقت کے لیے پوری دنیا میں پھیلی اپنی نو آبادیوں کا خود دفاع کرنا ناممکن اور مہنگا کام تھا۔ اس مشکل وقت میں انڈین آرمی کے 25 لاکھ فوجی ان کے کام آئے جنہوں نے دنیا کے ہر حصے میں برطانیہ کے لیے جنگ لڑ کر اپنی قیمتی جانیں گنوائیں۔ دوسری جنگ عظیم نے برطانیہ کی معیشت بھی تباہ کر دی۔ اس کی کل دولت کا 18 فیصد جنگ کی نذر ہو گیا اور اسے 21 ارب پونڈ کا مقروض ہونا پڑا۔ جس برطانوی سلطنت میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا، وہ پائی پائی کی محتاج ہو گئی۔ اس پر وہ برا وقت آ گیا کہ اسے عالمی جنگ لڑنے اور فوجیوں کی تنخواہ دینے کے لیے امریکہ سے 31 ارب ڈالر کی مدد لینی پڑی جسے اس نے سب سے پہلے اپنی نو آبادی بنایا تھا۔
جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے تو اس نے برطانیہ سے آزادی لینے اور سول وار کے خاتمے کے بعد صرف چند دہانیوں کے اندر اتنی حیرت انگیز ترقی کی جس کی مثال نہیں ملتی۔ انیسویں صدی کے اختتام تک اس نے مینوفیکچرنگ اور اسٹیل کے شعبوں میں برطانوی اجارہ داری کا خاتمہ کر دیا تھا۔
1920 میں امریکی معیشت برطانیہ سے آگے نکل گئی۔ نیویارک، لندن کی جگہ عالمی مالیاتی مرکز بن گیا اور پونڈ کی جگہ ڈالر نے لے لی۔ برطانیہ کے زوال کے بعد امریکہ اس قدر طاقتور ہو گیا کہ 20 ویں صدی امریکی صدی کہلانے لگی۔ سرد جنگ کے دوران سویت یونین نے اس کی عالمی بالا دستی کو چیلنج کرنا چاہا لیکن اس کوششں میں وہ خود شکست و ریخت کا شکار ہو گیا۔
امریکہ کتنی بڑی عالمی طاقت ہے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کے ہر براعظم سے تعلق رکھنے والے ملکوں میں اس کے ایک لاکھ ستر ہزار فوجی موجود ہیں، مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے تیس ہزار فوجی اہلکار تعینات ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 80 ممالک میں امریکی فوجی اڈے قائم ہیں۔ زیادہ تر فوجی اڈے سرد جنگ میں سویت یونین کو روکنے کی غرض سے قائم کیے گئے تھے۔ اس حوالے سے 2001 سے 2020 تک امریکہ 6 ہزار ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ وہ اپنے کل خرچ کا 12 فی صد جب کہ چین 4 فیصد فوج پر خرچ کرتا ہے۔
برطانیہ اور دیگر یورپی ملک یہ یقیناً سمجھتے ہوں گے کہ تیس سال کے مختصر ترین عرصے میں یورپ اگر دو عالمی جنگوں کی ہولناک تباہ کاریوں سے نہ گزرتا تو امریکہ اتنی جلد تاریخ کی سب سے عظیم معاشی اور فوجی طاقت نہ بنتا۔
پہلی جنگ عظیم 1914 میں شروع ہوئی اور امریکہ 1917 میں یورپ کی مدد کو آیا۔ دوسری جنگ عظیم کا آغاز 1938 میں ہوا لیکن امریکہ 1941 میں اس جنگ میں شامل ہوا۔ جاپان نے اگر پرل ہاربر پر حملہ نہ کیا ہوتا تو شاید امریکہ، اس جنگ سے الگ رہتا۔ یہ درست ہے کہ ان دونوں عالمی جنگوں میں شریک ہونا یا الگ رہنا امریکہ کی اپنی صوابدید تھی۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ امریکہ کی شمولیت کے بعد دونوں جنگیں بہت جلد ختم ہو گئیں۔ اگر وہ بر وقت ان جنگوں میں شمولیت کا فیصلہ کر لیتا تو کئی کروڑ انسان موت کے گھاٹ اترنے سے بچ گئے ہوتے اور دنیا کو اتنا غیر معمولی نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ ان عالمی جنگوں نے امریکہ کو بہت فائدہ پہنچایا اور اسے واحد عالمی طاقت بنا دیا۔
امریکہ کو عالمی منڈیوں میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، آسٹریا جیسے یورپ کے طاقتور معاشی ملکوں سے سخت مقابلے کا سامنا تھا۔ اس کے یہ اہم حریف یورپی ملک دو عالمی جنگوں میں تباہ ہو گئے اور برطانیہ عالمی طاقت بھی نہ رہا۔ پوری دنیا اب امریکہ کے لیے کھلی تھی۔ فوجی اور معاشی میدان میں دور دور تک کوئی اس کا مدمقابل نہیں تھا۔ امریکہ، طویل عرصے تک معیشت اور سیاست کی عالمی بساط پر تمام مہرے خود بچھاتا رہا۔ بیسویں صدی کے اختتام تک یہ کھیل جاری رہا لیکن رفتہ رفتہ بازی پلٹنے لگی۔ امریکہ پوری دنیا پر راج کرنے کے زعم میں پیسہ پانی کی طرح بہاتا گیا۔ اس دوران کئی ملک تیزی سے ترقی کر گئے۔ گزرتے وقت کے ساتھ مالیاتی نقصان ناقابل برداشت ہو گیا اور بیرونی منڈیاں بھی ہاتھ سے نکلنے لگیں۔ جب کھلی آنکھ تو ہر طرف خسارہ ہی خسارہ تھا۔ عالمی قیادت کا مہنگا شوق ختم کیے بغیر قرض کا بوجھ، تجارت اور بجٹ کا خسارہ کم نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا اب جنگوں کا خاتمہ، شاہانہ غیر ملکی فوجی اور سیاسی فضول خرچیوں کی بجائے کفایت شعاری اپنانی ایک مجبوری بن چکی ہے۔
یوکرین کے صدر کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کو ٹی وی پر دکھا کر تمام ملکوں کو یہ پیغام دے دیا گیا ہے کہ اب ہم سے ڈالر لینے کا نہیں بلکہ واپس کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ جو چاہے بہ صد شوق ہمارے پاس آئے لیکن آنے سے پہلے یہ سوچ لے کہ ہمیں دینے کے لیے اس کے پاس کیا ہے؟ دوسری جانب یوکرین کے صدر کا استقبال کرتے ہوئے برطانیہ کے وزیر اعظم اور یورپی رہنماؤں کی خوشی بھی امریکہ سے کہہ رہی تھی کہ کل ہم پریشان تھے۔ آج آپ کی باری ہے۔ کہیے کیسا محسوس ہو رہا ہے؟


