مرد پیدا نہیں ہوتا، بنایا جاتا ہے
مشہور فرانسیسی وجودی فلسفی اور نسائی مفکر سیمون دی بووا نے کہا تھا کہ ”عورت پیدا نہیں ہوتی بلکہ بنائی جاتی ہے۔“ یہ جملہ یونہی نہیں کہا گیا تھا بلکہ وہ اپنی زندگی فلسفہ، نفسیات، تاریخ، اور معاشرتی مطالعات میں گزارنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچیں کہ عورت محض ایک حیاتیاتی حقیقت نہیں، بلکہ سماجی اور ثقافتی عوامل اس کی تشکیل کرتے ہیں۔ یہی اصول مرد پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ مرد نہ صرف پیدا ہوتا ہے بلکہ بنایا بھی جاتا ہے۔ آج ہمارے پاس جو ”مرد“ کا تصور ہے، وہ ہزاروں بلکہ لاکھوں سال کے ارتقا کا نتیجہ ہے۔ اس لیے یہ کہنا بجا ہو گا کہ مرد ایک حیاتیاتی حقیقت کے ساتھ ساتھ ایک سماجی تشکیل بھی ہے۔
مردانگی کیا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا کوئی ایک نہیں بلکہ متعدد جواب ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر معاشرے اور ثقافت میں مردانگی کا اپنا ایک تصور ہے۔ عمومی طور پر مردانگی کو طاقت سے منسوب کیا جاتا ہے اور مرد کو دوسرے جنس، خاص طور پر عورت کے مقابلے میں برتر سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی لیے دی بووا نے اپنی مشہور کتاب کا نام ’دی سیکنڈ سیکس‘ رکھا۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ یاسر جواد نے ’عورت‘ کے نام سے کیا ہے۔
ہمارے معاشرے میں بھی مردانگی کو اکثر طاقت اور برتری کے ساتھ جوڑا جاتا ہے اور دوسرے جنس، خاص طور پر عورت پر برتر سمجھا جاتا ہے۔ اگر ہم عام گفتگو دیکھیں تو روزمرہ زندگی میں اس کی مثالیں بکثرت ملتی ہیں۔ مثلاً ’مرد کا بچہ بنو‘ ، ’مرد بنو عورت کی طرح مت رو‘ ، ’تم نے چوڑیاں پہن رکھی ہیں‘ ، ’عورت کی عقل اس کی ایڑی میں ہوتی ہے‘ ۔ اور تو اور عورت کو زر اور زمین جیسا تصور کرتے ہیں، ’زن، زر، زمین فساد کی جڑ ہے‘ ۔ یہ مثالیں ہمیں بتاتی ہیں کہ مرد کو معاشرتی طور پر طاقتور اور ذہین تصور کیا جاتا ہے جبکہ عورت کو کمزور اور جائیداد کے برابر گردانا جاتا ہے۔
ایک لڑکے کے ذہن میں عورت پر برتری کا تصور اسی دن پیدا ہو جاتا ہے جب اس کے گھر والے اسے کہتے ہیں کہ وہ اپنی بڑی بہن کے ساتھ باہر جائے تاکہ وہ ”محفوظ“ رہے۔ چار سالہ لڑکا خود کو اپنی پندرہ یا بیس سالہ بہن کا محافظ سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ اس کی روزمرہ زندگی کا انحصار اسی بہن پر ہوتا ہے۔ اس طرح، لڑکا پیدائش کے وقت سے ہی برتری کا احساس پیدا کرتا ہے۔ کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ بیٹی کی خواہشی میں دوسری شادی کی جاتی ہو۔
عورت کی طرح دوسرے جنس جیسے ٹرانس جینڈر کو بھی مرد سے کمتر سمجھا جاتا ہے۔ مرد ایک دوسرے کو چھیڑنے کے لیے ’کھسرا‘ اور ’ہیجڑا‘ پکارتے ہیں۔ لہذا مرد نے تاریخی طور پر اپنے آپ کو برتر تصور کیا ہے اور اپنے آپ کو مثالی جنس قرار دیا ہے۔ جبکہ عورت اور مختلف جنس کے لوگوں کو کمتر قرار دیا ہے۔ اس لیے ان پر طاقت کا استعمال اور تشدد بھی نارمل ہوتا گیا۔ ان تصورات کو تشکیل دینے میں مذہب نے بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔
اگر ہم دی بووا کے نظریے کو آگے بڑھائیں اور مردانگی کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تصور مردانگی تاریخی اور معاشرتی تشکیل ہے۔ اس کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اگر معاشرہ صنفی ناہمواری اور تشدد کو کم کرنا چاہتا ہے تو عورت پر پابندی لگانے کے بجائے مرد کی تعلیم و تربیت پر زور دیا جائے تو یہ معاشرتی مسئلہ کافی حد تک حل ہو سکتا ہے۔


