وائٹ مین یا گورے مرد کا تصور: ایک تنقیدی جائزہ

مغربی معاشروں میں ”وائٹ مین“ یا ”گورے مرد“ کا تصور ایک ایسی اصطلاح کے طور پر ابھرا ہے جو علمی حلقوں سے لے کر عام گفتگو اور میڈیا تک مسلسل زیر بحث رہتی ہے۔ یہ ایک متنازعہ مگر انتہائی اہم تصور ہے جو طاقت کے ساختی استعمال، نسلی تفاوت اور صنفی امتیاز کے پیچیدہ نظام کو واضح کرتا ہے۔ تاریخی طور پر یہ تصور ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ کس طرح مخصوص نسلی گروہوں کے مردوں نے

Read more

ضیائی دور کی نسل کی فکری دشواریاں

فرانسیسی فلسفی مشیل فوکو نے کئی نئی اصطلاحات متعارف کروائیں، جن میں سے ایک اہم اصطلاح ”گورنمنٹلٹی“ ہے۔ اس کے ذریعے انہوں نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ ریاست کس طرح غیر محسوس انداز میں اپنے شہریوں کی ذہن سازی کرتی ہے۔ اسی لیے بعض مفکرین اسے ”گورن منٹلٹی“ ”ذہنوں پر حکمرانی“ بھی کہتے ہیں۔ یہ حکمرانی ایک خاص ڈسکورس یا علمی بیانیے کے ذریعے کی جاتی ہے، جس میں علم کو ایک مخصوص انداز میں پیش کیا

Read more

افغان پنا گزینوں کی بے دخلی: ایک انسانی بحران

پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی بے دخلی کا معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ پاکستانی حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ ان لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو ملک سے نکالا جائے جو جنگ اور عدم استحکام کے باعث کئی دہائیوں سے پاکستان میں مقیم ہیں۔ یہ اقدام ان کی زندگیوں پر شدید اثر ڈال رہا ہے اور ایک سنگین انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان ہزاروں

Read more

مرد پیدا نہیں ہوتا، بنایا جاتا ہے

مشہور فرانسیسی وجودی فلسفی اور نسائی مفکر سیمون دی بووا نے کہا تھا کہ ”عورت پیدا نہیں ہوتی بلکہ بنائی جاتی ہے۔“ یہ جملہ یونہی نہیں کہا گیا تھا بلکہ وہ اپنی زندگی فلسفہ، نفسیات، تاریخ، اور معاشرتی مطالعات میں گزارنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچیں کہ عورت محض ایک حیاتیاتی حقیقت نہیں، بلکہ سماجی اور ثقافتی عوامل اس کی تشکیل کرتے ہیں۔ یہی اصول مرد پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ مرد نہ صرف پیدا ہوتا ہے بلکہ بنایا

Read more

کہوں تو کیا کہوں اور کس سے کہوں؟

”آج یونیورسٹی نہیں جانا ہے کیا؟ اٹھو، دیر ہو رہی ہے۔“ ذکیہ کے کانوں میں ماں کی آواز گونجی تو اس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔ آنکھیں ادھ کھلیں تو پردوں کے درمیان سے کمرے میں داخل ہوتی ہوئی سورج کی کرنوں نے اسے چندیا دیا۔ کرنوں سے نظر ہٹا کر اس نے چھت کی طرف دیکھا۔ اس کی نظر پنکھے پر پڑی جو درمیانی رفتار سے چل رہا تھا اور ہر چند سیکنڈ بعد ایک ہلکی سی آواز

Read more

ہنزہ میں بجلی کا بحران اور دھرنا

بجلی موجودہ دور کی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ روشنی فراہم کرنے سے لے کر آلات چلانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، لین دین، صحت کی سہولیات اور تعلیم تک رسائی جیسے ہر اہم پہلو بجلی پر منحصر ہیں۔ بجلی کے بغیر زندگی کا تصور آج تقریباً ناممکن ہو چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے انسانی بنیادی حقوق میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہنزہ کے عوام اس وقت روزانہ 22 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کر

Read more

ایک اور تعلیمی ایمرجنسی: کیا یہ کارگر ہو گی؟

یہ دسمبر 2010 کی بات ہے، جب پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک میں تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا۔ شور اٹھا کہ ملک میں تقریباً دو کروڑ سے زیادہ بچے اسکول سے باہر ہیں اور انہیں فوری طور پر تعلیم کے نظام میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے ٹاسک فورس بنائی گئی، ٹی وی پر تعلیمی مباحثے ہوئے، کانفرنسز اور سیمینارز کا انعقاد ہوا۔ لیکن حسب معمول کچھ ہی عرصے بعد خاموشی چھا گئی اور

Read more

لکیر کا تعاقب

انسان کا لکیر سے دلچسپی کب شروع ہوئی، اس بارے میں یقین سے کچھ کہنا دشوار ہے۔ تاہم، یہ واضح ہے کہ انسان اور لکیر کا رشتہ نہ صرف قدیم ہے بلکہ انتہائی مضبوط بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لکیر کے اثرات انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں، جیسے زبان، ریاضی، سیاست، اور معاشرہ۔ اردو زبان پر لکیر کے اثرات خاص طور پر نمایاں ہیں۔ جب میں لکیر کے بارے میں سوچتا

Read more

گلگت بلتستان کی خواتین اور ثقافت

یوں لگتا ہے کہ گلگت بلتستان کی ثقافت شیشہ سے بھی نازک ہے۔ جب بھی گلگت بلتستان کی خواتین کسی سماجی سر گرمی مثلاً کھیل، موسیقی، شاعری وغیرہ میں حصہ لینے کی کوشش کرتی ہیں تو فوراً ثقافت کا پیالہ چور چور ہوتا ہے۔ ادھر خواتین کے لیے کوئی سرگرمی کا اعلان ہوتا ہے ادھر ثقافت کی بنیادیں ہلنے لگتی ہے۔ حال ہی میں گلگت میں خواتین کے لیے سپورٹس میلہ کا انعقاد کا اعلان ہوا تو ایک بار پھر

Read more

کیا میں ایک عورت نہیں ہوں؟

کیا میں ایک عورت نہیں ہوں؟ یہ سیاہ فام امریکی خاتون، سوجورنر ٹروتھ (Sojourner Truth) کی وہ تاریخ ساز تقریر ہے جو انھوں نے 1851عسیوی میں امریکہ کی ریاست اوہائیو میں منعقد ہونے والی خواتین کنونشن میں کی تھی۔ یہ تقریر نہ صرف آج بھی طرفداران انسانی اور نسوانی حقوق میں مشہور ہے بلکہ غیر سفید فام نسوانی حقوق کے علم برداروں کے لیے ایک مشعل راہ ہے۔ سوجورنر ٹروتھ سیاہ فام امریکیوں کی غلامی کے خاتمہ اور خواتین کے

Read more