ویسٹفیلین قومی ریاست: سیٹلر کالونیلزم کا تسلسل
معاہدہ ویسٹ فیلیا 1648 اور ویسٹفیلین قومی ریاست کے تصور کو بین الاقوامی تعلقات کے مضمون میں بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور کلاس رومز میں اسے ایک ابدی اور ازلی سچائی کے طور پر پڑھایا جاتا ہے اور اس بات کو نظر انداز کیا جاتا ہے کہ ویسٹفیلین اقتدار اعلیٰ ایک یورپی اور نئی دنیا کا تصور ہے اور کسی بھی ایک طاقتور (یورپی) گروہ کو اس کی تعریف و تشریح کا واحد اختیار نہیں دیا جا سکتا۔
بین الاقوامی تعلقات کے تمام موضوعات کی طرح یہ موضوع بھی یوروسینٹرک علمی نقطہ نگاہ اور نو آبادیاتی بیانیہ پر مبنی ہے۔ ویسٹفیلین ریاستی اقتدار اعلیٰ جو جدید، مقتدر اور مہذب قومی ریاست کا تصور پیش کرتا ہے دراصل یورپی کالونیل طاقتوں کا ایک انتظامی بندوبست تھا جسے انہوں نے اپنی نو آبادیاتی حکمرانی کو جواز فراہم کرنے کے لیے 1648 کے بعد مختلف مقامی اقوام اور ثقافتوں پر مسلط کیا۔ اس تصور کے ذریعے یورپی طاقتوں نے عالمی سطح پر اپنی قبضہ گیری اور تسلط پسندی کو قانونی حیثیت دی اور غیر یورپی نو آبادیاتی علاقوں میں اپنی حکمرانی کو ایک جائز، قانونی اور منطقی اصول کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ ویسٹفیلین قومی ریاست کا یہ یوروسینٹرک تصور مقامی اور غیر یورپی اقوام کی خودمختاری کو تسلیم نہیں کرتا تھا اور ان کی اپنی ثقافتی، سماجی، سیاسی اور معاشی آزادیوں اور حقیقتوں سے انکار کرتا تھا۔ ویسٹفیلین ریاست کے تصور کو نو آبادیاتی تسلط، جبر اور غلامی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جس نے عالمی سطح پر طاقت کے عدم توازن کو مستحکم کیا۔ موجودہ دور میں مروجہ قانون بین الاقوام جو ویسٹفیلین قومی ریاست کے قانونی فریم ورک پر مبنی ہے دراصل یورپی کالونیل طاقتوں کے مفادات کو مضبوط کرنے کا ایک آلہ اور نو آبادیاتی تاریخ کا تسلسل ہے جس کے ذریعے یورپی طاقتوں نے اپنی حکمرانی کو ”قانونی“ جواز فراہم کیا۔ ویسٹفیلین قومی ریاست کے تصور نے عالمی سطح پر نو آبادیاتی قبضہ گیری کو مستحکم کیا اور مقامی اقوام کی آزادی کے حق کو کچل دیا۔ یہ نقطہ ذہن میں رہے کہ یورپ میں ویسٹفیلین ریاستی تصور اقتدار اعلیٰ کے ابھرنے کا دور وہی تھا جب یورپی طاقتیں دنیا کے دیگر حصوں کو نو آبادی بنانے میں مشغول تھیں۔ اس سیاق و سباق میں ریاستی اقتدار اعلیٰ پر پیش کیے گئے فلسفیانہ مباحث نوآبادیات کو جواز فراہم کرنے کی کوششوں سے جڑے ہوئے تھے۔ ویسٹفیلین تصور آج بھی قومی ریاستوں کے نام پر درحقیقت سیٹلر کالونیلزم کو ہی برقرار رکھتا ہے۔
ویسٹفیلین اقتدار اعلیٰ کے تصور کو مقامی تصور اقتدار اعلیٰ یا خود مختاری کے تصور نے ہمیشہ سے چیلنج کیا ہے۔ دنیا بھر میں حق خود ارادیت کے تحت چلنے والی آزادی کی تحریکوں نے روایتی ویسٹفیلین قومی ریاست کے تصور پر سوالات اٹھائے ہیں۔ حالیہ برسوں میں پوسٹ کالونیل اسکالرز، بین الاقوامی تنظیموں اور مقامی حقوق کے حامیوں نے ویسٹفیلین خودمختاری کے نو آبادیاتی بیانیے کو چیلنج کیا ہے۔ جہاں ویسٹفیلین اقتدارِ اعلیٰ اور ریاستی خودمختاری کا تصور قابض کالونیل طاقتوں کے مفادات کو فروغ دینے کے لیے صدیوں سے بین الاقوامی سیاسی منظرنامے کی تشکیل کرتا رہا ہے، وہیں مقامی خودمختاری کی تحریکوں نے موجودہ دور میں کالونیل قبضہ گیری کے خلاف جدوجہد کو نیا رخ دیا ہے۔ یہ تحریکیں خود ارادیت، آزادی اور ثقافتی بقا کے لیے ایک مزاحمتی بیانیہ فراہم کرتی ہیں جو ویسٹفیلین نظام اور اس کی یوروسینٹرک جڑوں کو اکھاڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ویسٹفیلین تصور اقتدارِ اعلیٰ/خود مختاری اور مقامی تصور اقتدارِ اعلیٰ/خود مختاری دونوں سیاسی تشکیلات (Political Constructs) ہیں۔ یہ دونوں تصورات قدرتی طور پر وجود نہیں رکھتے تھے بلکہ یہ انسانوں کی جانب سے بنائے گئے نافذ شدہ یا قابل نفاذ تصورات یا نظریات ہیں جن کی تشکیل تاریخی، ثقافتی، سماجی، معاشی اور سیاسی عوامل کے تحت کی گئی ہے۔ ایک سیاسی تصور اور Construct کے طور پر اقتدار اعلیٰ کا نظریہ دنیا بھر میں جاری سیاسی جدوجہد، مزاحمتی تحریکوں اور مادی حالات کے تناظر میں مسلسل ارتقاء پذیر ہے کیونکہ مختلف اقوام اپنے حقوق اور آزادی کے لیے جدوجہد کرتی رہتی ہیں۔ یہ نظریہ صرف ریاستی حدود اور حکومتی اداروں تک محدود نہیں رہا بلکہ مقامی عوام، نسلی اقلیتوں اور نو آبادیاتی ماضی کے شکار علاقوں میں بھی خودمختاری اور آزادی کے مطالبات کی صورت میں جدید معنی اختیار کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ، عالمی سطح پر تبدیلیوں جیسا کہ عالمی معاشی نظام، ماحولیاتی بحران، اور ٹیکنالوجی میں تبدیلی بھی اقتدار اعلیٰ کے تصور کی تصور کو متاثر کرتی ہیں۔ کسی بھی نظریے یا تصور کو محض جامد اور ساکت انداز میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ اقتدار اعلیٰ بھی ایک لچکدار اور مسلسل بدلتا ہوا تصور ہے جو مختلف مادی اور سیاسی حالات کے تحت نئے معنی اختیار کرتا ہے۔
دوران تدریس کلاس روم میں اکثر طلبہ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا پھر ہمیں ویسٹفیلین تصور قومی ریاست کو بالکل رد کر دینا چاہیے یا اس کے متبادلات کیا ہو سکتے ہیں؟ یہ سوال اپنی جگہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ویسٹفیلین ریاست کا تصور عالمی سیاست، بین الاقوامی قانون، ریاستی نظام، حکومتی ڈھانچے اور اقتدارِ اعلیٰ کے بنیادی اصولوں کی یوروسینٹرک علمی تشریحات اور توجیہات کو دنیا بھر میں مستحکم اور مروج کر چکا ہے اور طلبہ اس تصور کو نہایت فطری اور تاریخی طور پر واحد سچ سمجھتے ہیں۔ چونکہ ویسٹفیلین ریاست کا تصور 1648 میں معاہدہ ویسٹفالیہ سے ابھرا تھا جس نے 30 سالہ جنگ کے بعد خودمختار قومی ریاستوں کی بنیاد رکھی اور عالمی سطح پر ریاستوں کی سرحدوں اور اقتدار کے اصولوں کی تشکیل کی۔ یہ تصور عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور اب تک بہت ساری ریاستوں کے اندرونی اور بیرونی تعلقات کے اصولوں کا تعین کرتا ہے۔ تاہم یہ تمام تصورات بنیادی طور پر یورپی کالونیل طاقتوں سے وابستہ ہیں اور یہی وہ پہلو ہے جس پر سوال اٹھایا جا رہا ہے۔
جب طلبہ ان اصولوں اور نظریات کو یوروسینٹرک علمی مہا بیانیہ کے تحت دیکھتے ہیں تو ان کا زاویہ نگاہ اور سوچنے سمجھنے کا انداز بھی یورپی قبضہ گیروں کا ہو جاتا ہے جس میں مقامی اقوام کی سرکوبی، قبضہ گیریت، ان کے وسائل کا استحصال، ان کی ثقافتوں و خودمختاریوں کا انکار بھی شامل ہو جاتا ہے۔
طلبہ عموماً ان تصورات کو اس یورپی علم و فکر، کالونیلزم کی بنیاد پر تشکیل شدہ یورپی کاسمولوجی اور کالونیلزم کی حامی نام نہاد یورپی اکیڈمک یونیورسلزم کی روشنی میں دیکھتے ہیں جو دنیا کے بیشتر حصوں میں مقامی اقوام کی آزادی اور خودمختاری کے خلاف رہا۔ اس تناظر میں اس بات پر بھی غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ویسٹفیلین ریاست کا یہ یوروسینٹرک تصور ابھی تک موجودہ عالمی سیاست میں مناسب اور منصفانہ ہے؟ یا پھر یہ ایک ایسا نو آبادیاتی سامراجی نظام ہے جس کو اب تبدیل کرنے کی ضرورت ہے؟ اور اس کے متبادل میں ایک ایسا تصور تلاش کرنا چاہیے جو مقامی اقوام کی ثقافت، خودمختاری، اور حقوق کو تسلیم کرے اور ایک زیادہ منصفانہ عالمی نظم کی طرف رہنمائی کرے۔

