زرداری کے بعد

پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست کا حالیہ ماڈل مکمل طور پر آصف علی زرداری کی شخصی حکمتِ عملی، اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت، سیاسی توڑ جوڑ اور پارٹی کے اندر داخلی توازن کے قیام پر استوار رہا ہے۔ وہ پارٹی کے اندر موجود جاگیرداروں، سرمایہ داروں، وڈیروں، سرداروں، بوتاروں، مختلف لسانی و علاقائی دھڑوں کے درمیان ایک قوتِ توازن (پاور بیلنس) کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ ان کی غیر موجودگی، عدم فعالیت یا بیماری کے باعث سیاسی منظر نامے سے

Read more

پاکستان میں انٹرنیشنل ریلیشنز کی تدریس، تحقیق اور کانفرنسوں کا فکری بحران

پاکستان میں بین الاقوامی تعلقات (انٹرنیشنل ریلیشنز) کی تعلیم اور تحقیق کا منظرنامہ بظاہر علمی سرگرمیوں سے بھرپور دکھائی دیتا ہے۔ کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں۔ مقالے پیش کیے جاتے ہیں اور یونیورسٹیوں میں سیمینارز کا اہتمام ہوتا ہے۔ لیکن ذرا گہرائی میں جھانکیں تو یہ تمام سرگرمیاں علم کی تخلیق یا فکری آزادی کی بجائے مخصوص بیانیوں کی تصدیق اور حکومتی حلقوں کی خوشنودی کا ذریعہ معلوم ہوتی ہیں۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان میں انٹرنیشنل ریلیشنز کی

Read more

کینال اور کارپوریٹ فارمنگ: سی سی آئی میٹنگ ریاستی فراڈ اور وفاقی آمریت کا نیا ہتھیار

سندھ کے عوام کو ایک بار پھر ریاستی فراڈ کے ذریعے وفاقی مرکزیت کے شکنجے میں جکڑنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کا حالیہ فیصلہ سندھ دشمنی کی ایک اور گھناؤنی قسط ہے۔ یہ فیصلہ دراصل سندھ کے پانی، زمین، اور خودمختاری پر اسلام آباد کی آمریت کا تازہ ترین حملہ ہے جس کا مقصد سندھ کی عوامی مزاحمت کو وقتی طور پر دبانا اور آنے والے دنوں میں سندھو دریا پر قابض ہونے کی

Read more

معاہدہ کراچی : گلگت بلتستان کا غیر قانونی الحاق

جب ایک قوم کی تقدیر اس کی عوام کی مرضی کے بغیر بدل دی جائے جب ایک علاقے کا مستقبل محض چند طاقتور سیاست دانوں کے درمیان خفیہ معاہدوں میں طے ہو تو اس عمل کو نہ صرف غیر قانونی سمجھا جاتا ہے بلکہ اس میں اخلاقی اور سیاسی جواز کی بھی کمی ہوتی ہے۔ گلگت بلتستان 16 نومبر 1947 سے پاکستان کے زیر انتظام ہے۔ 28 اپریل 1949 کو معاہدہ کراچی کے تحت حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر سے

Read more

جنہوں نے خاموشی بیچی وہ آج بولنے کا حق نہ لیں

وفاقی حکومت کا سندھو دریا پر کینالز بنانے کے منصوبے سے پیچھے ہٹنا دراصل سندھ کے عوام کی زبردست جدوجہد اور مسلسل مزاحمت کا نتیجہ ہے نہ کہ کسی آئینی، اخلاقی یا پارلیمانی اصول کی پاسداری کا ثبوت۔ وفاقی حکومت کی یہ پسپائی واضح کرتی ہے کہ جب تک عوام سڑکوں پر نہ آئیں اپنی زمین، پانی اور شناخت کے لیے آواز بلند نہ کریں اس نظام سے کسی خیر کی توقع عبث ہے۔ وفاقی حکومت کا فیصلہ عوامی دباؤ

Read more

انڈس واٹر ٹریٹی: ایوبی آمریت، آبی غلامی، انڈیا اور بین الاقوامی قانون

  23 اپریل 2025 کو پہلگام جموں و کشمیر میں ہونے والے حملے کے بعد بھارت نے پاکستان پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے شدید سیاسی ردعمل کے تحت انڈس واٹر ٹریٹی کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا۔ انڈیا کی جانب سے انڈس واٹر ٹریٹی کی معطلی کا فیصلہ کسی قانونی جواز پر مبنی نہیں بلکہ مکمل طور پر ایک غیر ذمہ دارانہ سیاسی چال ہے جو شدید داخلی بحران، اپوزیشن کے

Read more

سماجی جبر ریاستی جبر سے زیادہ خطرناک ہے

  ”سماجی جبر ریاستی جبر سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتا ہے“ کالم کا یہ عنوان جان اسٹورٹ مل کی کتاب On Liberty سے ماخوذ ایک فکر انگیز جملے پر مبنی ہے۔ یہ کالم جان اسٹورٹ مل کے اس انتباہ سے آغاز لیتا ہے کہ اصل استبداد صرف حکومت نہیں بلکہ وہ سماج ہوتا ہے جو سوچنے کا حق چھین لیتا ہے۔ یعنی جب کوئی جبر ریاست، قانون یا پولیس کے ذریعے نہیں بلکہ رسم رواج، مذہب، ثقافت یا ”اکثریتی رائے“

Read more

اردو بولنے والوں کی گمشدہ آواز: شناخت کا بحران

وہ جو کل تک شہر کراچی کی شناخت تھے آج اسی شہر میں اجنبی بن چکے ہیں۔ اردو بولنے والے آج ایک ایسی خاموش اکثریت ہیں جن کی آواز کہیں پر بھی سنائی نہیں دیتی۔ یہ تحریر مہاجر سے معدوم ہونے کے اس عمل کی داستان ہے جس میں شناخت کا محاصرہ بھی ہے اقتدار سے بے دخلی بھی اور سیاسی خلا میں معلق ایک نسل کی بے وطنی بھی۔ بے وطنی اب صرف ایک جذباتی کیفیت نہیں رہی بلکہ

Read more

زندگی سے خالی پروفیسر

پاکستانی سماج ایک ایسا سماج ہے جو مجموعی طور پر اینٹی آرٹ/ فن مخالف مزاج رکھتا ہے۔ پاکستان میں فن / آرٹ کو یا تو غیر سنجیدہ سرگرمی سمجھا جاتا ہے یا پھر وقت کا ضیاع سمجھ کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ یہ تصور صرف عوامی حلقوں تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ ہمارے تعلیمی اداروں خاص طور پر اکیڈمیا میں بھی سرایت کیے ہوئے ہے۔ وہ یونیورسٹیاں جو تخلیق، تنقید، اور علم کا مرکز ہونی چاہیے وہ خود

Read more

جبری خوبصورتی کا تصور: ایک نفسیاتی بوجھ

خوبصورتی کا تصور ہمیشہ سے انسانی سماج کا حصہ رہا ہے لیکن جدید دور میں یہ تصور خاص طور پر خواتین کے لیے ایک گہرا نفسیاتی بوجھ بن چکا ہے۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا، فلموں، ٹی وی ڈراموں، اشتہارات، سوشل میڈیا اور فیشن انڈسٹری نے اس تصور کو ایک مخصوص معیار میں قید کر دیا ہے جس میں چمکتی ہوئی جلد، گوری رنگت، دبلا پتلا جسم، متناسب چہرہ، اور جدید طرزِ لباس شامل ہیں۔ خواتین کی اکثریت جو ان مصنوعی

Read more

نفرت کی معیشت

پاکستان اور انڈیا کے تعلقات ہمیشہ سے کشیدگی، بداعتمادی اور دشمنی کے دائرے میں قید رہے ہیں۔ تقسیم ہند کے زخم، بار بار کی جنگیں، مسئلہ کشمیر اور سیاسی قیادتوں کی مصلحتیں دونوں ملکوں کے عوام کے ذہنوں میں ایک مستقل ”دشمن“ کا تصور راسخ کر چکی ہیں۔ مگر سوال محض یہ نہیں کہ تعلقات خراب کیوں ہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ دونوں ریاستوں نے اپنے اپنے عوام میں نفرت اور دشمنی کو کس طرح ایک انسٹیٹیوشنل عمل کے

Read more

نہری نظام کی نو آبادیاتی جڑیں

پاکستان میں سندھو دریا پر کینالز کی تعمیر کا معاملہ، سیلاب سے گاؤں دیہات کا اجڑنا، سمندر کا زمین کو نگلنا، سطح سمندر کی بلندی، خشک سالی، انڈس ڈیلٹا کی تباہی، پانی پر ہونے والی سیاست اور دیگر ماحولیاتی تباہی و وہ بربادی کے نو آبادیاتی پس منظر اور منصوبوں کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ یہ منصوبے کس لیے تشکیل دیے جاتے ہیں اور یہ کن قوتوں کے مفادات کو پورا کرتے ہیں۔ پاکستان میں اکثر سیلاب گاؤں

Read more

سچ کی عدالت میں دانشوروں کا مقدمہ

یہ وہ دور ہے جب پاکستان میں نہ صرف آئین و قانون کو روندنے کی رسم عام ہو چکی ہے بلکہ آزادیٔ اظہار، اختلافِ رائے اور سوال اٹھانے کی ہر کوشش کو غداری، فتنہ، سازش یا ایجنڈا قرار دے کر کچلا جا رہا ہے۔ یہاں سچ بولنے پر زبان کاٹ دی جاتی ہے لکھنے پر سیاہی خون سے بدل جاتی ہے اور سوچنے پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ ایسے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پاکستان کے

Read more

ذکری نسل کشی: تاریخ کا سیاہ باب

ہوت قبیلے سے تعلق رکھنے والے مکران کے آخری حاکم ملک مرزا نے جب ذکری بلوچوں پر ظلم و ستم کا آغاز کیا تو ذکریوں نے ابو سعید بلیدی کی قیادت میں ملک مرزا کے خلاف بغاوت کر دی۔ بلیدی اور گچکی مکران میں ذکری بلوچوں کے سب سے بڑے قبائل میں شمار ہوتے تھے۔ ابو سعید بلیدی نے گچکیوں کے ساتھ اتحاد کر کے ان کی مدد سے ملک مرزا کو شکست دی۔ نتیجتاً 1613 میں مکران میں بلیدیوں

Read more

پاکستانی ریاست اورثقافتی بالا دستی

  ”Dominance Without Hegemony: History and Power in Colonial India“ پروفیسر رنجیت گوہا کی کتاب ہے جو 1997 میں ہارورڈ یونیورسٹی پریس کے ذریعے شائع ہوئی۔ یہ کتاب جنوبی ایشیا میں نو آبادیاتی ریاست کا گرامچی کے نظریہ کے تحت جائزہ لیتی ہے۔ کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ نو آبادیاتی ریاست کا کردار طاقت کے ذریعے غلبہ قائم کرنے کا تھا نہ کہ عوام کو قائل کرنے والے ثقافتی تسلط کے ذریعے۔ پروفیسر رنجیت گوہا کی زیر نظر

Read more

سرکاری اعزازات کی سیاست

ہر سال کی طرح اس سال بھی 23 مارچ کو حکومت پاکستان نے مختلف شخصیات کو اعزازات و خطابات سے نوازا۔ سوشل میڈیا پر ان اعزازات حاصل کرنے والی بعض شخصیات کا نہ صرف مذاق اُڑایا گیا بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ حکومت ایسی شخصیات کو کیوں اتنے اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازتی ہے جن کا بظاہر کوئی بھی حقیقی کردار یا سماجی خدمات نظر نہیں آتیں۔ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں۔ یہ اعزازات صرف اور

Read more

بارڈر تھنکنگ اور سبالٹرن نالج: نان ویسٹرن علمی و فکری نظریہ

زیر نظر مضمون بنیادی طور پر میرے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (IBA) کے مرکزی آڈیٹوریم میں دیے گئے ایک لیکچر کی تحریری شکل ہے۔ بارڈر تھنکنگ (Border Thinking) ایک ایسا علمی و فکری نظریہ ہے جسے ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے ماہر بین الاقوامی تعلقات، سیاسیات، علم علامات، ادبی نظریات و تعلیمات، ڈائریکٹر سینٹر فار گلوبل اسٹڈیز اینڈ ہیومینیٹیز، ڈیوک یونیورسٹی کیرولینا، امریکہ کے پروفیسر والٹر ڈی مگنولو نے اپنی کتاب ”Local Histories، Global Design: Coloniality، Subaltern Knowledge and

Read more

ویسٹفیلین قومی ریاست: سیٹلر کالونیلزم کا تسلسل

معاہدہ ویسٹ فیلیا 1648 اور ویسٹفیلین قومی ریاست کے تصور کو بین الاقوامی تعلقات کے مضمون میں بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور کلاس رومز میں اسے ایک ابدی اور ازلی سچائی کے طور پر پڑھایا جاتا ہے اور اس بات کو نظر انداز کیا جاتا ہے کہ ویسٹفیلین اقتدار اعلیٰ ایک یورپی اور نئی دنیا کا تصور ہے اور کسی بھی ایک طاقتور (یورپی) گروہ کو اس کی تعریف و تشریح کا واحد اختیار نہیں دیا جا سکتا۔

Read more

کیا زیلنسکی مستقبل میں نیگن وان تھیو بن سکتے ہیں؟

یوکرائنی صدر زیلنسکی اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان اوول آفس میں ہونے والی بحث و تکرار ایک اہم واقعہ ہے جس نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی۔ منظر عام پر آنے والی یہ بحث و تکرار نہ صرف ان دونوں رہنماؤں کے درمیان موجود سیاسی اختلافات کو ظاہر کرتی ہے، بلکہ اس کے ذریعے دنیا کو ایک اہم پیغام بھی مل رہا ہے۔ یہ پیغام اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عالمی سیاسی مفادات تیزی سے

Read more

زبانوں کی ترقی کا نوآبادیاتی بیانیہ

پاکستان جیسے پوسٹ کالونیل ملک میں برطانوی نو آبادیاتی حکومت کے اثرات اس قدر گہرے ہیں کہ 77 سال بعد بھی پاکستان کا پڑھا لکھا طبقہ ایسٹ انڈیا کمپنی ( 1857 کے بعد برطانیہ ) کی قبضہ گیر حکمرانی کو باعث شرف سمجھتے ہوئے اس کی عظمت کے گن گاتے ہیں۔ علمی، تاریخی اور تہذیبی طور پر نو آبادیاتی عوام کی نفسیات اور ان کا تشخص اس قدر مسخ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ہی فاتحین اور قابضین کی

Read more

جارج حباش الحکیم: ٹائیگر آف زرقا

جارج حباش الحکیم 1926 کو فلسطین کے شہر لِدّا میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک آرتھوڈوکس مسیحی عرب گھرانے سے تھا۔ بچپن میں حباش مقامی چرچ میں کوائر ممبر بھی تھے۔ وہ ایک فلسطینی سیاستدان، مزاحمتی انقلابی رہنما، گوریلا جنگجو اور میڈیکل ڈاکٹر تھے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام اور عرب۔ اسرائیل جنگ کے دوران حباش کے خاندان سمیت شہر کی عرب فلسطینی آبادی کو جبری طور پر بے دخل کر دیا گیا۔ جبری بے دخلی کے دوران حباش

Read more

سنہ 1884 کی برلن کانفرنس: افریقی غلامی کا سیاہ باب

عام طور پر بین الاقوامی تعلقات اور عالمی سیاسی نظام میں بین الاقوامی معاہدوں کی ہی بین الاقوامی تعلقات کے مضمون کی روح اور نفس مضمون کے طور پر تدریس کی جاتی ہے۔ عموماً تدریس کے دوران ان معاہدوں کو غیر سیاسی طور پر تجریدی (Abstract) انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے ان معاہدوں کے سیاسی، معاشی، تجارتی یا عسکری سیاق و سباق کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان معاہدوں کے جاری کردہ اعلامیے طاقتور

Read more

مادری زبانوں کا عالمی دن

ہر سال 21 فروری کو ہم ان بنگالی طلبہ کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی مادری زبان بنگلہ کی خاطر 21 فروری 1952 ء کو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پاکستانی ریاست کی جانب سے ڈھاکہ کے طلبہ کی پولیس فائرنگ سے شہادت کے بعد ہر سال 21 فروری کو مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں یومِ شہداء کے طور پر منایا جانے لگا۔ یہ ان بنگالی طلبہ کی ہی قربانیاں اور جدوجہد تھی

Read more

پاکستان کی پیکانائزیشن

کراچی پریس کلب میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور کراچی یونین اف جرنلسٹس کے زیر اہتمام پیکا ایکٹ (PECA) کے حوالے سے ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔ مذاکرے میں مجھ سمیت سینیئر استاد ڈاکٹر توصیف احمد خان، سینیئر صحافی جناب مظہر عباس، پریس کلب کے سابق صدر جناب سعید سر بازی، حقوق نسواں کی تحریک سے وابستہ سینیئر ایکٹیوسٹ محترمہ مہناز رحمان، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر جناب طاہر حسن خان اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان

Read more

پاکستان میں تبدیلی مذہب کی وجوہات

پاکستان بھر میں ہندوؤں، مسیحیوں اور کیلاشیوں کے تبدیلی مذہب کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ بعض حلقے اسے جبری تبدیلی مذہب قرار دیتے ہیں، تو بعض اسے برضا و رغبت مذہب اسلام میں شمولیت کہتے ہیں۔ پاکستان میں تبدیلی مذہب کے متعلق مختلف واقعات میں مذہب تبدیل کرنے والے افراد کے حوالے سے متعدد مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ بعض مواقع پر نابالغ کم عمر افراد سے زبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ دوسری جانب ایسی مثالیں بھی

Read more

سید سردار شاہ، کلمتی بلوچ اور مکران

حسب معمول اپنے موبائل فون پر فیس بک اسکرولنگ کے دوران سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار شاہ کی سندھ اسمبلی میں کی جانے والی ایک تقریر کا ویڈیو کلپ دیکھا۔ سید سردار شاہ اپنی تقریر میں سندھ کے عظیم تاریخ دان جناب گل حسن کلمتی کو سندھ کی تاریخ پر گرانقدر تحقیقی کام سر انجام دینے پر خراج تحسین پیش کر رہے تھے۔ بلاشبہ گل حسن کلمتی نے کراچی کی گمشدہ عوامی تاریخ کو منظر عام پر لا کر

Read more

قانون بین الاقوام کی نو آبادیاتی بنیادیں

  کسی بھی مضمون کی تدریس کے حوالے سے اساتذہ اس مضمون کے تاریخی آغاز، ابتداء اور ارتقاء کو ایک منطقی نقطہ نظر کے طور پر پیش کرتے ہیں تاکہ آگے چل کر طلبہ اس مضمون کے اصول و نظریات، طریقہ کار، تشریح اور تنقید کی ایک بہتر تفہیم حاصل کر سکیں۔ قانون بین الاقوام کی تدریس کے سلسلے میں عام طور پر فرانسسکو ڈی وٹوریا اور یوگو گروٹیس کو بابائے قانون بین الاقوام کے طور پر پیش کیا جاتا

Read more

شام: علاقائی و عالمی سامراجیت کا شکار

شام میں بشار الاسد کے زوال اور حکومت کے خاتمہ کو انتہاپسند پراکسی گروپ ہیئت تحریر الشام جسے مغربی میڈیا میں ”شامی باغی“ کا خوش کن ٹائٹل دیا گیا ہے کی کامیابی کے طور پر دکھایا جا رہا ہے۔ ایک ایسی تصویر کشی کی جا رہی ہے جس میں امریکی و علاقائی سامراجی ممالک کے بدلتے ہوئے مفادات اور تقاضوں کے تحت داعش اور القاعدہ سے نکلے ہوئے جنگجوؤں کو ”معتدل“ دکھایا جا رہا ہے۔ وہی مغربی میڈیا جو اپنی

Read more

جناح: گورنر جنرل پاکستان

مصطفیٰ زیدی نے کیا خوب کہا تھا عقل کو زہر ہے وہ بات جو معمول نہیں یہ مصرع اس لیے پیشِ خدمت ہے کہ زیرِ نظر تحریر میں کچھ ایسی گزارشات پیش کی گئی ہیں جو معمول نہیں۔ تاہم میری گزارشات عقل کے لیے زیر ہے یا نہیں اس کا فیصلہ قارئین پر چھوڑتا ہوں۔ قارئین اپنے اپنے علم، تجربے، شعور، عقیدے، جذباتی وابستگی، ریاستی نظریات و سرکاری نصاب کی روشنی، تنقیدی ذہانت، تاریخی واقعات اور کورس کی کتابوں میں

Read more

کیا جغرافیائی سرحدیں مقدس ہوتی ہیں؟

بین الاقوامی تعلقات، سیاسیات، سماجیات، مدنیات اور سماجی علوم کے دیگر مضامین کے اکثر و بیشتر طلبہ، اساتذہ اور دیگر وابستہ افراد اس خیال کے حامی ہوتے ہیں کہ قومی ریاستوں (نیشن سٹیٹس) کی سرحدیں انتہائی مقدس ہوتی ہیں۔ چونکہ مذکورہ بالا تمام مضامین یورو سینٹرک نظریہ علم کے تحت پروان چڑھائے گئے تھے لہٰذا ریاستوں یا سرحدوں کی تقدیس کا نظریہ یورپی کالونیل مفادات کے عین مطابق تھا۔ تاہم یہ امر پیش نظر رہے کہ ریاستوں اور ان کی

Read more

کشمیر : علاقائی قوم پرستی کا نوآبادیاتی تصور

    کشمیر پر پاکستان اور انڈیا میں جب بھی کوئی گفتگو، مباحثہ، سیمینار یا کانفرنس ہوتی ہے تو وہ پاکستان اور انڈیا کے ریاستی نقطہ نگاہ اور سیاسی مفادات کے تشکیل شدہ بیانیوں کے اندر رہتے ہوئے کی جاتی ہے۔ چونکہ تقسیم کے وقت تقسیم کی کوششیں علاقائی قوم پرستی کے نوآبادیاتی تصور کی بنیاد پر رکھی گئی تھیں لہٰذا انڈیا کی تقسیم میں دیگر بہت سارے مالی، سیاسی اور معاشی عوامل کے ساتھ جداگانہ شناخت کی سیاست کا

Read more

دھرتی کے گمنام ہیرو

یہ کتنی تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں مطالعہ پاکستان، معاشرتی علوم اور تاریخ عام جیسے مضامین کی درسی کتابوں میں انگریز سامراج کے خلاف جنگ کرنے، وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے اور سیاسی جدوجہد کرنے والے دھرتی کے فرزندوں کی کوئی جگہ نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ انفرادی سطح پر بہت سے لوگ ان حریت پسندوں کے کارناموں اور ناموں سے واقف ہوں تاہم بحیثیت مجموعی قومی سطح پر ان آزادی کے متوالوں کو نئی

Read more

خاتون حر حلقہ زنجیر میں

موہلن برگ کالج امریکہ کی یہودی پروفیسر، مصنفہ اور کلچرل اینتھروپولوجسٹ ڈاکٹر ماورا فنکیلیسٹن کو فلسطینیوں کی آزادی کے لیے آواز اٹھانے، صیہونیت اور اسرائیلی نسل پرست پالیسیوں پر تنقید کرنے کی پاداش میں کالج انتظامیہ نے نوکری سے معطل کر دیا۔ ڈاکٹر ماورا نے فلسطینی شاعر ریمی کنازی کی ایک نظم اپنے ذاتی انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی تھی۔ ڈاکٹر ماؤرا کا جرم صرف یہ تھا کہ انھوں نے حالیہ غزہ جنگ میں 45 ہزار افراد (عورتوں و بچوں

Read more

یونیورسٹیوں میں کارپوریٹ نظامِ تعلیم

ہائر ایجوکیشن کمیشن قائم ہونے کے بعد سے پاکستان بھر میں یونیورسٹیوں میں پارٹ ٹائم اساتذہ کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ TTS Adjunct پروفیسر اور فی لیکچر استاد (دیہاڑی دار) کے تصور نے اساتذہ کو کانٹریکٹ لیبر میں تبدیل کر دیا ہے۔ اساتذہ ایک ایسے سستے مزدور کے طور پر سامنے آئے ہیں جن کا استحصال سب سے زیادہ آسان ہو گیا ہے، جنہیں نہ صرف ملازمت میں توسیع کے حوالہ سے انتظامیہ کی جانب سے خوف اور دباؤ

Read more

اردو کا ادراکی تنقیدی دبستان

18 اکتوبر 2024 ء کو انجمن ترقی پسند مصنفین اور انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل ریسرچ کراچی کے زیرِ اہتمام معروف شاعر، ادبی نقاد، عصرِ حاضر کے دانشور اور غیر روایتی فکر کی حامل شخصیت محترم فرحت عباس شاہ کی کتاب ”اردو کا ادراکی تنقیدی دبستان“ پر سہیل یونیورسٹی کراچی میں ڈاکٹر سید جعفر احمد کی زیرِ صدارت نقدو نظر کی محفل کا اہتمام کیا گیا۔ اس علمی و فکری محفل میں ڈاکٹر سید جعفر احمد، پروفیسر شاہد کمال،

Read more

 Palestine in Israeli School Books: Ideology and Propaganda in Education 

 کتاب کا نام: Palestine in Israeli School Books: Ideology and Propaganda in Education تبصرہ نگار: ڈاکٹر اصغر دشتی تعارف مصنفہ  : کتاب کی مصنفہ نورت پیلیڈ الہانان اسرائیلی یہودی شہری ہیں۔ الہانان ماہر لسانیات و تعلیم اور Hebrew یونیورسٹی یروشلم میں ادبیات و تعلیمات کی پروفیسر ہیں۔ الہانان کو یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے * ”سخاروف ایوارڈ برائے آزادیِ خیال“ * سے نوازا گیا ہے۔ الہانان اسرائیلی ریاست کی نسل پرستانہ پالیسیوں پر تنقید کے حوالے سے مشہور ہیں۔ الہانان

Read more

تعلیم برائے امن

امن کی تعلیم کسی بھی سماج یا ریاست کے مستقبل کی سمت کا تعین کرتی ہے کیونکہ ہماری موجودہ دنیا جنگوں، دہشت گردی، نیو کالونیل ازم، معاشی بحران اور اس سے جڑے پرتشدد کلچر اور نفسیاتی شکست و ریخت کا مرکز بن چکی ہے۔ تعلیم برائے امن لوگوں کی ذہنیت، رویوں اور طرزِ عمل کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ امن کی تعلیم سے ہی بنیادی آزادیوں کے احترام، افہام و تفہیم، رواداری اور انسان دوستی کو فروغ اور

Read more

ورناکیولر کا مطلب؟

گزشتہ دنوں XGen Media Production سے وابستہ معروف پوڈ کاسٹر علی احمد جان کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ کرتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ انگریز (ایسٹ انڈیا کمپنی / برطانوی راج) اردو سمیت دیگر زبانوں کو ورناکیولر زبان کہتے تھے جس کا مطلب ہے ”غلاموں کی زبان“ ۔ سوشل میڈیا پر پوڈ کاسٹ دیکھنے والے کافی افراد نے اس حوالہ سے مجھ سے سوالات کیے کہ اس نقطہ کو ذرا زیادہ واضح انداز میں بتایا جائے۔ چونکہ 50 منٹ

Read more

کالونیل تصور علم

کالونیل تصور علم کی سمجھ بوجھ اور تفہیم تیسری دنیا سمیت پاکستان جیسے پوسٹ کالونیل ممالک کے عوام کے لیے انتہائی ضروری ہے جہاں رسمی طور پر کالونائزیشن کے خاتمے کے بعد بھی نیو کالونیل ازم پوری طرح جاری و ساری ہے۔ پاکستان کا سیاسی، معاشی، عدالتی، عسکری اور تعلیمی نظام ہندوستان پر برطانوی قبضے کے دوران کی جانے والی کالونیل پالیسیوں کا ہی تسلسل ہے۔ اگست 1947 میں اسی کالونیل نظام کے تسلسل کو تقسیم ہند کا نام دے کر

Read more

پاکستان: نیوکالونیل ازم کے 76 سال

برطانوی کالونیل عہد کے سیاسی اور معاشی پالیسیوں کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ تقسیم ہند کے 76 سال بعد بھی ان تمام حقائق تک پہنچنا آسان نہیں۔ دراصل پاکستان کے پوسٹ کالونیل سسٹم میں رائج نظریہ علم اور تعلیمی نظام ان حقائق تک پہنچنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس نظریہ علم کی ترویج کے لیے کالونیل عہد کی طاقتیں آج بھی سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ اپنی علمی بالادستی کے ذریعہ ایک مخصوص سانچہ

Read more

پاکستان: نیو کالونیل ازم کے 76 سال

برطانوی کالونیل عہد کے سیاسی اور معاشی پالیسیوں کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ تقسیم ہند کے 76 سال بعد بھی ان تمام حقائق تک پہنچنا آسان نہیں۔ دراصل پاکستان کے پوسٹ کالونیل سسٹم میں رائج نظریہ علم اور تعلیمی نظام ان حقائق تک پہنچنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس نظریہ علم کی ترویج کے لیے کالونیل عہد کی طاقتیں آج بھی سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ اپنی علمی بالادستی کے ذریعہ ایک مخصوص سانچہ

Read more

آن لائن کلاسز کے حوالہ سے کیا مؤقف اپنایا جائے؟

آن لائن کلاسز کے حوالہ سے اردو یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل کا اجلاس منعقد ہونے والا ہے۔ تاہم اکیڈمک کونسل کے اجلاس سے قبل ہی بورڈ آف اسٹڈیز، بورڈ آف فیکلٹیز، آن لائن ٹریننگ سیشنز اور دیگر ضروری تیاریوں کے احکامات زور و شور سے جاری ہیں۔ گویا آئندہ ہونے والے اجلاس میں ان تمام امور کو رسمی سند قبولیت بخش دی جائے گی۔ اکیڈمک کونسل کے اجلاس میں تمام اساتذہ کو اپنی سوچ اور فکر کے مطابق اپنی آزادانہ

Read more