وزیرستان: قربانیوں کے بعد ایک اور امتحان


وزیرستان، وہ بدقسمت خطہ جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک جنگ، بدامنی اور معاشی تباہی کا شکار رہا۔ آپریشن ضربِ عضب سے پہلے یہاں روزانہ بم دھماکے، کرفیو اور غیر یقینی صورتحال عام تھی۔ مقامی کاروبار تباہ ہو رہے تھے، تجارتی قافلے راستوں میں رُکے رہتے، اور سبزیاں، میوہ جات و دیگر سامان برباد ہو جاتا، جس سے تاجروں کو کروڑوں کا نقصان اُٹھانا پڑتا۔ لیکن اصل قیامت اس وقت ٹوٹی جب بغیر کسی پیشگی اطلاع کے لاکھوں لوگوں کو اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور کر دیا گیا۔ بازار سامان سے بھرے چھوڑ دیے گئے، اور لوگ محض تن کے کپڑوں میں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے۔

پھر وہ دن بھی آئے جب وزیرستان کے باسیوں نے بے سروسامانی میں خیموں میں سخت گرمیاں اور یخ بستہ سردیاں گزاریں۔ دو تین سال کی بے وطنی کے بعد جب واپسی ہوئی تو امن کے ساتھ کاروباری مواقع کی امید بھی تھی۔ غلام خان بارڈر، جو وسطی ایشیا سے تجارت کے لیے ایک گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے، فعال ہو چکا تھا۔ آہستہ آہستہ کاروباری سرگرمیاں بحال ہونے لگیں۔ ایک سال کے اندر ہی 25 کلومیٹر کے علاقے میں دو بڑی اور پانچ چھوٹی منڈیاں قائم ہوئیں جہاں سبزیاں، میوہ جات، سیمنٹ، چاول اور کولڈ ڈرنکس کی امپورٹ ایکسپورٹ ہونے لگی۔ ہزاروں افراد برسرِ روزگار ہو گئے۔ کسی نے ہوٹل کھولا، کسی نے دکان، کسی نے ایکسپورٹ امپورٹ کمپنی بنائی، اور کئی مزدوری میں مصروف ہو گئے۔

2024 میں پاک۔ افغان تجارتی معاہدہ سامنے آیا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو مزید سہولت دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت: ٹرانزٹ ٹریڈ کی تجدید، کراچی بندرگاہ پر سہولیات میں اضافہ، بینک گارنٹی کی شرط کا خاتمہ، ملٹی ماڈل ائر ٹرانزٹ اور ٹرکوں کی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت جیسے عوامل شامل تھے۔

یہ معاہدہ مجموعی طور پر دونوں ممالک کی معیشت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتا ہے، لیکن وزیرستان کے لیے اس کے کچھ پہلو نقصان دہ ثابت ہوئے۔ خاص طور پر ٹرکوں کی آزادانہ نقل و حرکت نے وزیرستان کی نوزائیدہ معیشت پر کاری ضرب لگائی۔ اب افغانستان کے شہروں سے آنے والے ٹرک براہِ راست فیصل آباد، ملتان، اور گوجرانوالہ جا کر اپنا سامان اتارتے ہیں اور وہیں سے سامان لے کر کابل واپس چلے جاتے ہیں۔ اس سے وزیرستان مکمل طور پر تجارتی سرگرمیوں سے محروم ہو گیا۔ نہ یہاں لوڈنگ ان لوڈنگ ہو رہی ہے، نہ کمیشن ایجنٹوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے، نہ مقامی دکانیں اور ہوٹل آباد رہے۔ نتیجتاً، ہزاروں افراد ایک بار پھر بے روزگار ہو گئے۔

یہ نیا تجارتی نظام وزیرستان کی نوزائیدہ معیشت پر ایک اور کاری ضرب ثابت ہو رہا ہے۔ خاص طور پر رمضان کے مہینے میں جب ٹرکوں کی عدم دستیابی کے باعث بورا خیل منڈی، درپہ خیل منڈی، کمپلیکس مارکیٹ میران شاہ اور اس کے آس پاس کے گودام مال سے بھرے پڑے ہیں، کروڑوں، اربوں روپے کا سامان خراب ہو رہا ہے۔ مقامی تاجروں کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے، لیکن کوئی موثر حل نظر نہیں آ رہا۔

مزید برآں، غلام خان ٹرمینل پر محض ایک سکینر کی موجودگی کاروباری سرگرمیوں میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ تجارتی عمل کو تیز اور موثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سکینرز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ سامان کی کلیئرنس بروقت ممکن ہو اور وزیرستان کی تجارتی سرگرمیاں تیز تر ہو سکیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ معاشی جمود پورے علاقے کو ایک اور بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

چند دن پہلے میران شاہ پریس کلب میں بوراخیل انٹرنیشنل سبزی منڈی کے صدر حاجی سید الرحمن نے ایک پریس کانفرنس کی، جس میں انہوں نے اس صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرستان کے تاجروں کو پہلے ہی بہت نقصان ہو چکا ہے، اور اب یہ نیا تجارتی نظام مقامی کاروباری افراد کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غلام خان بارڈر کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے زیادہ موثر بنایا جائے تاکہ وزیرستان کے عوام معاشی استحکام حاصل کر سکیں۔

یہ بے روزگاری وزیرستان کے لیے ایک نیا بحران ہے۔ خالی ہاتھ اور بے روزگار دماغ جرائم، چوری، ڈکیتی اور بدامنی کو جنم دے سکتے ہیں۔ ایک ایسا علاقہ جو بڑی قربانیوں کے بعد امن کی طرف بڑھ رہا تھا، دوبارہ محرومی اور مایوسی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری اقدامات کرے اور وزیرستان کے کاروبار کو تحفظ دے۔ ٹرانزٹ ٹریڈ اور دیگر سہولتیں برقرار رہیں لیکن ٹرکوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے بجائے غلام خان بارڈر کو زیادہ فعال کیا جائے تاکہ وزیرستان میں تجارتی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔ مقامی لوگوں کو روزگار ملے، کاروبار بحال ہوں، اور یہ خطہ ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ اگر آج اس مسئلے کو نظر انداز کیا گیا تو کل یہ ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ حکام بالا کو چاہیے کہ وہ وزیرستان کے عوام کی آواز سنیں اور انہیں معاشی استحکام کی طرف لے جانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

Facebook Comments HS