بنگلہ دیش میں چند دن – قسط : 5
تحریر ڈاکٹر شیرشاہ سید: ترجمہ اور تخلیص گوہر تاج
میں اپنی عادت کے مطابق سفر کے دوران ٹیکسی ڈرائیوروں کا انٹرویو لے رہا ہوں جو مجھے بتا رہے ہیں کہ ڈھاکہ میں بہت سے پاکستانی، ہندوستانی، نیپالی اور عرب طلباء ہیں۔
پاکستانی طلباء کا انداز کچھ زیادہ دوستانہ ہے۔ اور ہم انہیں پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے مجھے اپنی زندگیوں کے بارے میں بھی بتایا۔ مثلاً ان کی شادی کیسے ہوئی۔ ان سبھوں کے دل محبت کے ہاتھوں ٹوٹے ہوئے تھے اور وہ اعتماد کے ساتھ ایک ایسے پاکستانی سے دل کی بات اطمینان سے کر رہے تھے جو ان کی کہانی کو صیغہ راز میں رکھے گا۔ وہ سب دوہری ملازمتیں کرنے والے محنتی انسان ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کی بیویاں بھی کام کر رہی ہیں، اور ان سب کی خواہش ہے کہ ان کے بچے تعلیم حاصل کریں۔ ان میں سے اکثر کے پاس اپنی جدوجہد کی دکھ بھری کہانیاں ہیں۔ کس طرح وہ اپنے گاؤں چھوڑ کے شہر آئے اور ڈھاکہ میں انہیں کتنے برے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسی ہی کہانیاں جو ہمارے ملک میں بھی عام ہیں۔
زچگی کی دوران بیوی کی موت، بچوں کی سوتیلی ماں، اپنی بہن کی شادی کے لیے پیسے جمع کرنا، اپنے بیمار والدین کے علاج کے لیے پیسے حاصل کرنے کی سرتوڑ کوشش اور لاپتہ افراد کی افسوسناک کہانیاں۔ لیکن حکومت کو ان کی کوئی پرواہ بھلا کہاں تھی۔ ان میں سے اکثر وہ تھے جنہیں اغوا کیا گیا کیونکہ وہ سرینگر، پشاور، کوئٹہ یا پشاور میں سرگرم تھے۔
بنگلہ دیش کے لوگوں میں اچھی بات یہ ہے کہ وہاں اچھے پڑھے لکھے لوگ لوگوں کی خاصی تعداد ہے، جو سمجھداری سے بات کرتے ہیں۔ وہ بنگلہ دیش کے مستقبل کے بارے میں پر امید ہیں اور سب ہی تعلیم کو فوقیت دیتے ہیں۔
ڈھاکہ ایک قدیم شہر ہے۔ جہاں انسان پانچ سو سال قبل مسیح سے پہلے رہ رہے ہیں۔ کامروپہ کے بعد پالا، چادرکا، سانا خاندان ترکوں، مغلوں اور برطانویوں نے دنیا کے اس حصے پر حکومت کی۔ ایک چھوٹے سے شہر سے شروع ہو کر اب ڈھاکہ ایک بڑا شہر بن چکا ہے۔ اور گنجان آبادی اور دوسرے چیلنجوں کے باوجود اس کا نظام قدرے منظم ہے۔
میں نے شہر کے مختلف حصوں میں 15 میل سے زیادہ پیدل کا سفر طے کیا۔ لیکن میں نے گلیوں میں گٹر کا پانی بہتا ہوا، محمد پور یا میر پور جیسے علاقوں میں بھی خراب سڑکیں نہیں دیکھیں۔ یہاں سب ٹریفک قانون کی پابندی کرتے ہیں۔ میں نے ایک بھی گاڑی، ٹیکسی، رکشہ کو قانون توڑنے یا غلط طرف آتے ہوئے نہیں دیکھا۔ قانون کی خلاف ورزی تو کراچی کے حصے میں آئی ہے۔ جو آئی جی ٹریفک پولیس ہمارے تباہ شدہ شہر کے شہریوں کو فراہم کرتی ہے۔
”یہاں سے سنارگاؤں ہوٹل تک کتنا خرچ آئے گا؟“ میں نے رکشہ ڈرائیور سے پوچھا
”رکشہ پر ایک سو چالیس ٹکے اور ٹیسلا پر ایک سو ستر ٹکے۔“ اس نے جواب دیا۔ ”کیا مطلب؟“ میں نے پھر سوال کیا۔
”ٹیسلا تیز رفتار سواری ہے اور بجلی سے چلتی ہے۔“ مجھے بتایا گیا کہ رکشہ کا پچاس فیصد چارج ایبل بیٹری میں بدل جاتا ہے۔ ایک نئے رکشے کی قیمت بیس ہزار ٹکے اور ایک ٹیسلا کی قیمت پچاس ہزار ٹکے ہے۔ حکومت رکشہ کو ٹیسلا میں تبدیل کرنے کے لیے کم سود پر قرضہ فراہم کر رہی ہے۔ علی الصبح ساڑھے پانچ یا چھ بجے ٹیسلا میں بیٹھنے اور شہر کا چکر لگانے کے لیے اچھا وقت ہے۔ صبح کی تازگی میں کسی کو سواری بوجھ نہیں محسوس ہوتی۔
ہر روز شہر میں اشیاء فروخت کرنے والے محنت اور مزدوری سے دن کا آغاز کرتے ہیں، تاکہ پیسہ کما سکیں۔ اگر آپ غریب ہیں تو زندگی ہر وقت جہد مسلسل ہے۔ بنگلہ دیش بھی جدید دنیا کی ایک مثال ہے جہاں وسائل اشرافیہ کے زیر کنٹرول ہیں جو اپنی دولت کو بانٹنا نہیں چاہتے۔
لیکن بنگالی معاشرہ اس طبقاتی فرق سے واقف ہے۔ باوجود اس کے کہ یہاں امیروں کے لیے کام کرنے والے ملا اور انقلاب کے مردہ گھوڑے پر سوار دانشور بھی ہیں، شہری سماج انسانی حقوق کی جنگ لڑ رہا ہے جس کی قیادت اچھے ایماندار لوگ کر رہے ہیں۔
شہر میں عمارتوں اور گھروں میں بہتے ہوئے پانی کے ساتھ تمام بنیادی سہولیات موجود ہیں۔ حکام کی جانب سے شہر کے کنٹرول میں کوئی ٹینکر مافیا موجود نہیں ہے۔ بجلی بہت کم جاتی ہے۔ سکول کالج کام کر رہے ہیں، کسی نہ کسی وجہ سے اچانک بند نہیں ہو جاتے، جیسا کہ ہم پاکستان میں دیکھتے ہیں۔ ڈھاکہ اوور ہیڈ پل اور زیر زمین گزرگاہوں سے بھرا ہوا ہے۔ جنہیں دیکھ کر کوئی بھی ان کے تعمیراتی معیار کا اندازہ لگا سکتا ہے۔
ڈھاکہ میں متعدد اونچی عمارات ہیں۔ لیکن کسی نے بھی سڑکوں اور گلیوں پر غیر قانونی قبضہ نہیں کیا۔ ہاکر اور سڑک کے تاجر بھی قانون کی پیروی کرتے ہیں یہاں تک کہ گلی کے کتے بھی مجھ جیسے پاکستانی پر مہربان ہیں۔ گو ڈھاکہ اسٹریٹ کرائمز اور بھکاریوں سے پاک نہیں ہے۔ لیکن کراچی سے موازنہ کریں تو اس قسم کے واقعات بہت کم ہیں۔
(جاری ہے )

