چین کی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ترقی

مصنوعی ذہانت جدید ٹیکنالوجی کا وہ میدان ہے جس نے اکیسویں صدی میں انسانی ترقی کے دھارے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس شعبے میں چین کی تیز ترقی نے نہ صرف عالمی طاقتوں کی توجہ حاصل کی ہے بلکہ ترقی پذیر ممالک کے لئے بھی مواقعوں سے بھرپور دنیا کا نقشہ کھینچا ہے۔ مصنوعی ذہانت میں چین کی پیشرفت صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں، بلکہ یہ اس کی قومی حکمت عملی، معاشی اہداف، اور عالمی تعاون کو مضبوط بنانے کا اہم ذریعہ بن چکی ہے۔
چین کی حالیہ کامیابیوں کی ایک سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ چین نے مصنوعی ذہانت کو اپنی قومی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ 2017 ء میں چینی حکومت نے ”نیکسٹ جنریشن آرٹیفیشل انٹیلی جنس ڈویلپمنٹ پلان“ جاری کیا تھا جس کا ہدف 2030 ء تک چین کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں دنیا کا رہنما بنانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت حکومت نے تحقیق و ترقی یعنی آر اینڈ ڈی، تعلیمی اداروں، اور پرائیویٹ سیکٹر کو بھاری مالی وسائل فراہم کیے۔ چین کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے مل کر اے آئی اسٹارٹ اپس کو سپورٹ کیا اور بیدو، علی بابا اور ٹینسینٹ جیسی ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں بھی اپنے بجٹ کا ایک بڑا حصہ اے آئی پر خرچ کر رہی ہیں۔
چین نے مصنوعی ذہانت کے متعدد شعبوں میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ چین کی 1.4 ارب سے زائد آبادی اور ڈیجیٹلائزیشن نے اسے ڈیٹا کے ذخیرے کا سب سے بڑا مرکز بنا دیا ہے۔ اے آئی الگورتھمز کو تربیت دینے کے لیے ڈیٹا کی اس کثرت سے چین کو فائدہ ہو رہا ہے۔
چین کی کمپنیاں جیسے Sensetime اور Megvii دنیا میں چہرہ پہچاننے کی ٹیکنالوجی میں سر فہرست ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کا استعمال نگرانی، پبلک سیکیورٹی، اور شہری خدمات کو بہتر بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ بیدو کی خودکار گاڑی اپولو اور ڈی جے آئی کے ڈرونز عالمی مارکیٹ میں چین کی برتری کی علامت ہیں۔ طبی شعبے کی بات کی جائے تو یہاں بھی اے آئی سے استفادہ کرتے ہوئے چین نے کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
رواں سال کے دو اجلاسوں میں سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی ایک مقبول موضوع رہا۔ چین میں حالیہ دنوں میں کئی ایسی خبریں بھی سامنے آئی ہیں جہاں ہیومینائڈ روبوٹس کی تیز ترقی نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی ہے۔ ان روبوٹس اور اس انڈسٹری نے اس وقت خاص توجہ حاصل کی جب 2025 کے اسپرنگ فیسٹول گالا میں کئی روبوٹس ہاتھ میں سرخ رومال لئے اسٹیج پر رقص کرتے نظر آئے۔ تب یہ بحث عام ہوئی کہ ان روبوٹس کی ترقی چین میں مینوفیکچرنگ سمیت کئی شعبوں میں حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کر کے انسانوں کی روز مرہ زندگی میں انقلاب بر پا کرنے والی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل چین میں آٹو موبائل صنعت میں بھی ان روبوٹس کی مدد حاصل کرنے کے منصوبے سامنے آئے ہیں جس سے مستقبل میں صنعتوں کا منظر نامہ تبدیل ہو سکتا ہے۔ اسپرنگ فیسٹیول گالا میں انسان نما روبوٹس کے علاوہ ہانگ چو اسٹارٹ اپ ڈیپ سیک نے کم لاگت میں اعلیٰ کارکردگی کا حامل اے آئی ماڈل لانچ کر کے دنیا کو حیران کیا۔ اس کے بعد ، علی بابا کے تھونگ ای چھیئن ون کو وین کے ڈیریوڈ ماڈلز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جس نے میٹا کی لاما ماڈل سیریز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور دنیا کا پہلا اوپن سورس لارج ماڈل بن گیا ہے۔ چینی اسٹارٹ اپ کمپنی مونیکا نے باضابطہ طور پر مانس نامی روزمرہ مقاصد کی ایک عام اے آئی ایجنٹ پروڈکٹ جاری کی ہے جس پر اب دنیا بھر میں بہت زیادہ بات ہو رہی ہے۔ یہ پراڈکٹ منصوبہ بندی سے لے کر عملدرآمد تک کے سارے امور کو خود مختاری سے مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جیسے رپورٹس لکھنا اور فارم بنانا وغیرہ۔ یعنی اس کی تحقیق اور ڈیٹا کے لئے بھی اب انسان کی ضرورت نہیں۔
ایک کے بعد ایک کارآمد جدت طرازی نے عالمی رائے عامہ کی توجہ ”چین کی مصنوعی ذہانت“ کی طرف مبذول کروائی ہے، اور اس سے چین کی بین الاقوامی مسابقت کی ازسرنو تفہیم اور عالمی سطح پر چین کی مارکیٹ ویلیو کی دوبارہ پہچان کا بھی آغاز ہوا ہے۔ 2024 میں، ہیومینائڈ روبوٹس کی عالمی مارکیٹ کا سائز تقریباً 14 بلین یوآن رہا، اور اس میں چینی سائز دنیا کا تقریباً ایک تہائی ہے۔ متعدد سرمایہ کاری بینکوں اور تھنک ٹینکس نے پیش گوئی کی ہے کہ 2035 تک، ہیومینائڈ روبوٹس کی صنعت ایک ٹریلین تک پہنچ جائے گی۔ یہ ترقی بھی ایک حکمت عملی کے تحت حاصل ہو رہی ہے۔ 2023 میں، چینی وزارت صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جاری کردہ ”ہیومینائڈ روبوٹس کی جدت طرازی اور ترقی پر رہنما رائے“ نے تجویز کیا تھا کہ 2025 تک، چینی ہیومینائڈ روبوٹ جدت طرازی کا نظام ابتدائی طور پر قائم کیا جائے گا۔ 2027 تک، انسان نما روبوٹس کی تکنیکی جدت طرازی کی صلاحیت کو نمایاں طور پر بہتر بنایا جائے گا، بین الاقوامی سطح پر مسابقتی صنعتی ماحول قائم کیا جائے گا، اور جامع طاقت دنیا کے اعلیٰ درجے کی سطح تک پہنچ جائے گی۔
چین کی مصنوعی ذہانت کی دوڑ صرف ایک معاشی کھیل نہیں، بلکہ یہ چینی تہذیب میں بھی ایک موڑ ہے۔ اگر چین اپنے ہدف کے مطابق 2030 ء تک اے آئی میں عالمی قیادت حاصل کر لیتا ہے، تو یہ نہ صرف ٹیکنالوجی کے میدان میں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت میں بھی ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔ چین کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ وہ تکنیکی خود انحصاری حاصل کرنے، اور اپنی اے آئی مصنوعات کو عالمی معیارات کے مطابق ڈھالنے میں کتنا کامیاب ہوتا ہے۔ لیکن دنیا کی دیگر طاقتیں، خاص طور پر مغربی ممالک، کے لیے ضروری ہے کہ وہ چین کی اس دوڑ کو نظر انداز کرنے کی بجائے اس کے ساتھ تعاون اور مقابلے کا متوازن راستہ اپنائیں، تاکہ مصنوعی ذہانت کی طاقت انسانی فلاح کے لیے استعمال ہو سکے۔

