جدائی کے کچھ دن گزارنے ہوں گے
دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا جدید انقلاب اس عالمی نظام کی کایا پلٹ کر رہا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد وجود میں آیا تھا۔ اس عالمی نظام کے ذریعے صنعت یافتہ مغرب نے امریکہ کی زیر قیادت دنیا پر اپنی سیاسی اور معاشی بالا دستی کو یقینی بنانے کی پالیسی کا آغاز کیا۔ عالمی سطح پر ہر قسم کا مالی لین دین ڈالر میں کیا جانے لگا۔ ہر ملک کی کرنسی کی قدر ڈالر کے تناسب سے متعین ہونے لگی، جس ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر زیادہ تھے اس کی کرنسی کی قدر ان ملکوں کی کرنسیوں کے مقابلے میں زیادہ تھی جن کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کم تھے۔ ڈالر پر امریکہ کا کنٹرول تھا لہٰذا بین الاقوامی تجارت پر بھی اس کا عمل دخل بہت مضبوط ہو گیا۔ ڈالر کے ذخائر رکھنا چین جیسے ملک کی بھی مجبوری ہے جو دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے۔ اس وقت چین کے پاس 3 ٹریلین ڈالر یعنی 3 ہزار ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔
دنیا کو معاشی اور تجارتی طور پر زیر دست رکھنے کے لیے ملکوں پر اپنی حامی حکومتیں مسلط کرنا انتہائی لازمی تھا۔ ابتدا میں یہ کام نسبتاً آسان تھا لیکن بعد ازاں، سیاسی مزاحمت کے باعث مغرب کی مشکلات بڑھتی گئیں۔ نو آبادیاتی قبضے کے خلاف قومی آزادی کی کامیاب تحریکوں کے نتیجے میں ملک تیزی سے آزاد ہونے لگے۔ نو آزاد ملکوں کی سیاسی طاقتیں اور رائے عامہ مغرب کے سابق آقاؤں کے خلاف تھی جس کے باعث ان ممالک میں اپنی من پسند حکومتیں مسلط کرنا بہت مشکل ہو گیا۔
مغرب اور امریکہ کی مشکلات اس وقت مزید بڑھ گئیں جب دوسری جنگ عظیم کے بعد اشتراکی سوویت یونین دنیا کے منظرنامے پر ایک طاقتور ملک بن کر سامنے آیا۔ اس نے دنیا میں جاری قومی آزادی کی تحریکوں اور جنگوں کو سیاسی، مالی اور فوجی مدد فراہم کرنی شروع کر دی۔ یہیں سے سرد جنگ میں شدت پیدا ہوئی اور ملکوں پر اپنی حامی حکومتیں مسلط کرنے کی خوں ریز جنگ کا آغاز ہو گیا۔ یہ وہ دور تھا جب اپنی حامی قوتوں کو اقتدار میں لانے کی خاطر ہر حربہ آزمایا گیا۔ اس حوالے سے کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ انڈونیشیا کے صدر احمد سوئیکارنو غیر وابستہ تحریک کے بانیوں میں شامل تھے۔ ان کا جھکاؤ امریکہ کی بجائے سوویت یونین کی طرف تھا جس کے باعث ملک کے اندر کمیونسٹ پارٹی بہت مضبوط اور مقبول ہو گئی تھی۔ یہ صورت حال امریکہ کے لیے ناقابل قبول تھی۔ بحر اوقیانوس سے ستر فیصد عالمی تجارت ہوتی ہے لہٰذا جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے انڈونیشیا کی اہمیت آج کی طرح اس وقت بھی کافی اہم تھی۔ انڈونیشیا میں مغرب نواز حکومت لانے کے لیے 20 ویں صدی کا ایک بہت بڑا قتل عام کرایا گیا۔ امریکہ اور برطانیہ کی مدد سے جنرل سوہارتو کے فوجیوں نے کمیونسٹ پارٹی کے ارکان، ہمدردوں اور دیگر مخالفین کو چن چن کر موت کے گھاٹ اتارا، محتاط اندازوں کے مطابق دس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو انتہائی بربریت سے قتل کر دیا گیا۔ جنرل سوہارتو کے ذریعے مغرب نے اس اہم خطے پر اپنی بالا دستی قائم کر لی۔ اس ضمن میں دوسری مثال ویتنام کی ہے۔ ہوچی منہ کی قیادت میں قومی آزادی کی جو جنگ لڑی جا رہی تھی اسے سوویت بلاک کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ ہوچی منہ کی کامیابی اس اہم خطے میں مغرب کی بالا دستی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتی تھی لہٰذا ویتنام جنگ میں امریکہ براہ راست خود کود پڑا۔ اس جنگ کا دائرہ کمبوڈیا اور لاؤس کے پڑوسی ملکوں تک پھیل گیا۔ اس طویل جنگ میں 13 لاکھ شہری ہلاک ہوئے۔ فوجی ہلاکتوں کی تعداد بھی غیر معمولی تھی۔ امریکہ کے 2 لاکھ 82 ہزار جب کہ شمالی اور جنوبی ویت نام کے چار سے چھ لاکھ فوجی مارے گئے۔ خونی فوجی انقلابات کے ذریعے دنیا پر اپنا عالمی نظام قائم کرنے لیے 1950 کے بعد سے 2022 تک 492 کامیاب اور 247 ناکام فوجی انقلاب برپا کیے گئے۔ سب سے زیادہ 220 کامیاب انقلاب افریقہ میں لائے گئے، لاطینی امریکہ میں 146، ایشیا میں 99 اور سب سے کم 17 انقلاب یورپ میں کامیاب ہوئے۔ استعماری طاقتوں کے خلاف قومی آزادی کی تحریکوں کا مرکز بھی یہی خطے تھے جن کے عوام نے آزادی کے لیے بے پناہ قربانیاں دی تھیں۔ لہٰذا اپنی حامی حکومتیں مسلط کرنے کے لیے بار بار فوجی انقلاب برپا کرنے کی ضرورت پیش آتی رہی۔ جن ممالک میں غربت آخری حدوں کو چھو رہی تھی وہاں فوجی انقلاب برپا کرانا کافی آسان تھا۔ دنیا کا پس ماندہ ترین براعظم افریقہ، 54 ملکوں پر مشتمل ہے جس میں 45 ملک ایسے ہیں جن میں کم از کم ایک بار انقلاب لانے کی کوششں ضرور کی گئی، ان غریب ملکوں میں گنی، چاڈ، مالی اور نائیجر جیسے ملک شامل ہیں جن کی جی ڈی پی 2022 میں 22 ارب ڈالر سے کم تھی۔ ذرا غور فرمائیں اتنے مفلس ملکوں تک کو بھی آزادی سے جینے کی اجازت نہیں تھی۔ اس صورت حال سے بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد مغرب نے اپنا عالمی نظام مسلط کرنے کے لیے دنیا میں ہر جانب قیامت برپا کیے رکھی اور کوئی خطہ خونی انقلابات سے نہیں بچ سکا۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی، دنیا پر جو نیا عالمی نظام مسلط کرنا چاہتے تھے اس کی راہ میں سوویت بلاک ایک بڑی طاقت بن کر حائل تھا۔ 1917 میں سوویت یونین اور 1948 میں چین میں اشتراکی انقلاب کامیاب نہ ہوتا تو امریکہ اور اس کے مغربی حلیفوں کو نہ دنیا پر اپنی معاشی اور سیاسی بالادستی قائم کرنے میں کسی مضبوط سیاسی مزاحمت کا سامنا ہوتا، نہ دنیا کے درجنوں ملکوں میں فوجی انقلاب لانے اور اپنی حامی حکومتوں کو برقرار رکھنے کے لیے کئی ہزار ارب ڈالر کا مالی نقصان ہوتا۔ سرد جنگ کے پورے دور میں امریکہ نے، دنیا کو سوویت غلبے سے ’بچانے‘ کے لیے بہت سے ملکوں کی مالی مدد کرنے، قرض دینے، واپس نہ ملنے پر معاف کردینے اور اپنی سول اکانومی کی بجائے ملٹری انڈسٹریل کمپلکس پر غیر معمولی سرمایہ ضائع کر دیا۔ دوسری جانب سوویت یونین نے بھی اپنی استطاعت سے بڑھ کر ہر اس ملک کو مالی اور فوجی مدد فراہم کی جو غیر وابستہ رہنا یا مغربی بلاک کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا۔ اس ’کار خیر‘ میں وہ خود تو تباہ ہو گیا لیکن جاتے جاتے، امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کی معیشتوں کو بھی بدترین معاشی تنزلی اور سنگین بحرانوں کا شکار کر گیا۔
چین اور ہندوستان سمیت دنیا کے درجنوں ملکوں نے سرد جنگ کے دوران بڑی دانش مندی سے امریکی اور سوویت بلاک کے درمیان جاری محاذ آرائی سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ان کی معیشتیں حیرت انگیز تیزی سے ترقی کر گئیں اور آج امریکہ اور یورپ کو چیلنج کر رہی ہیں۔ دنیا پر اپنا عالمی نظام مسلط کرنے کی جنگ میں امریکہ چونکہ مغرب کی قیادت کر رہا تھا لہٰذا سب سے زیادہ مالی نقصان بھی اسے اٹھانا پڑا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکی معیشت قرض کے جال میں پھنس کر بدترین کساد بازاری کا شکار ہو گئی۔ حالیہ امریکی انتخابات میں ’امریکی معاشی قوم پرستی‘ کے حق میں آنے والے نتائج اس حقیقت کا مظہر ہیں۔
امریکہ کو معاشی بحران سے نکالنا صدر ٹرمپ کی درست طور پر اولین ترجیح ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آج کی دنیا معاشی اور سیاسی اعتبار سے کثیر قطبی ہو چکی ہے۔ لہٰذا حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ عالمی قیادت کا شوق چھوڑ کر اپنے ملک کی فکر کی جائے۔ وہ جانتے ہیں کہ دنیا کو امریکی منڈی کی کم اور امریکہ کو دنیا کی منڈیوں کی زیادہ ضرورت ہے۔ ایشیا کے پاس کئی ارب صارفین موجود ہیں، برکس پلس کے ذریعے اس منڈی کو مزید توسیع دی جا رہی ہے۔
اس وقت اپنے اندرونی و بیرونی اخراجات کم کرنا امریکہ کی پہلی ترجیح ہے لہٰذا وہ دوسرے ملکوں کے تنازعات میں کم سے کم ملوث ہو گا۔ روس، یورپ، چین، ہندوستان اور پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ملکوں کو اپنے تنازعات خود طے کرنے ہوں گے۔ پاکستان بھی اگر کسی بڑی مایوسی سے بچنا چاہتا ہے تو وہ امریکہ یا قریبی دوست ملکوں سے زیادہ توقعات وابستہ نہ کرے۔ اس وقت کسی کے پاس فرصت نہیں ہے۔ تمام اہم ملک نئے عالمی حالات کے تناظر میں اپنی ترجیحات ازسر نو ترتیب دینے میں مصروف ہیں۔
امریکہ اور دنیا کے درمیان ستر سال سے قائم، رفاقت اور رقابت کے تلخ و شیریں رشتے کا بندھن اب ٹوٹ رہا ہے۔ تاریخ کے ارتقائی عمل سے جو دوریاں پیدا ہوئی ہیں انہیں ختم ہونے میں وقت لگے گا۔ اس دوران، امریکہ اور دنیا کو ایک دوسرے کی جدائی میں کچھ دن گزارنے ہوں گے۔


