اینٹی بایوٹکس، ایک اہم اور انتہائی ضروری دوا اور استعمال میں احتیاط


اینٹی بایوٹک کا نام ہر شخص نے سنا ہے اور استعمال بھی کی ہو گی۔ میرے پاس جو مریض آتے ہیں ان کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو ضرورت کے باوجود اینٹی بایوٹکس استعمال کرنے سے انکار کر دیتے ہیں اور دوسرے وہ جو ہر مرض کے لئے اینٹی بایوٹکس مانگتے ہیں۔ دونوں کو سمجھانے میں کافی وقت صرف کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس اہم موضوع پر بات کی جائے۔

سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ اینٹی بایوٹکس کیا ہیں؟ اینٹی بایوٹکس وہ ادویات ہیں جو جراثیم کو مارتی ہیں اور ان امراض کو جو جراثیم کی وجہ سے ہوتے ہیں ان کے علاج کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا تمام اینٹی بایوٹکس ایک جیسی ہوتی ہیں؟ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ اینٹی بایوٹکس کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں جو مختلف جراثیموں کے خلاف استعمال ہوتی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی بیان کرنا بہت ضروری ہے کہ ایک اینٹی بایوٹک بہت سے مختلف جراثیموں کے خلاف استعمال ہوتی ہیں اور ایک قسم کے جراثیم کے خلاف کئی مختلف اینٹی بایوٹکس استعمال کی جا سکتی ہیں۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا ایک اینٹی بایوٹک ایک قسم کے جراثیم کے شکار ہر مریض میں استعمال کی جا سکتی ہے اور فائدہ دے سکتی ہے؟ اس سوال کا جواب بھی نفی میں ہے۔ مثال کے طور پر ٹائیفا‏ئڈ کے جراثیم کے خلاف سیفیکسیم (Cefixime) نامی اینٹی بایوٹک کام کرتی ہے لیکن ٹائیفائڈ کے ہر مریض میں کام نہیں کرتی کیونکہ ان مریضوں میں پائے جانے والے جراثیم مختلف وجوہات کی بنا پر ”مزاحمت زدہ“ یا ”ریزیزٹینٹ“ ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح ٹائیفائڈ کے مرض میں سیفیکسیم کے علاوہ اور بھی کئی اینٹی بایوٹکس استعمال ہو سکتی ہیں۔

اینٹی بایوٹکس کا استعمال: اینٹی بایوٹکس ان امراض کے علاج کے لئے استعمال کی جاتی ہیں جو مختلف جراثیم کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اس لئے ہر مرض کا علاج اینٹی بایوٹکس نہیں ہے۔ اس لئے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ جراثیم کیا ہوتے ہیں اور ان کی کتنی اقسام ہیں۔ اور اینٹی بایوٹکس کس قسم کے جراثیم کے خلاف استعمال ہو سکتی ہیں۔

تمام جانداروں کی بنیاد خلیات یا سیل ہوتے ہیں اور جو مختلف قسم کے ہوتے ہیں اور ایک جاندار کے جسم میں لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن جراثیم ایک سیل یا خلیہ پر مبنی ہوتے ہیں اور زندہ رہتے ہیں۔ ان کی مندرجہ ذیل اقسام ہوتی ہیں۔

1۔ وائرس: یہ انتہائی چھوٹے ہوتے ہیں۔ ان کو افزائش اور زندہ رہنے کے لئے کسی دوسرے جاندار کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی لیبارٹری میں آسانی سے افزائش نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی انہیں خوردبین سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کی تشخیص کے طریقہ بھی کافی مشکل ہوتے ہیں۔ ان سے ہونے والی بیماریوں میں نزلہ زکام، انفلوئنزا، کووڈ، ہیپاٹائٹیس وغیرہ شامل ہیں۔ عام اینٹی بایوٹکس وائرس کو نہیں مار سکتیں اور ان سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں موثر ثابت نہیں ہوتیں بلکہ نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔ ان کے خلاف استعمال کی جانے والی دوا‏ئیں اینٹی وائرل کہلاتی ہیں۔

2۔ بیکٹیریا: یہ ایک خلیہ پر مبنی ہوتے ہیں۔ انہیں بہ آسانی خوردبین کے ذریعہ دیکھا اور پہچانا جاسکتا ہے۔ اور لیبارٹری میں افزائش بھی کی جا سکتی ہے۔ یہ مختلف شکل اور سائز کے ہوتے ہیں۔ ان سے ہونے والی بیماریوں میں ٹانسیلائیٹس، نمونیا، گردے اور پیشاب کے انفیکشن شامل ہیں۔ اینٹی بایوٹکس اس قسم کے جراثیم یعنی بیکٹیریا سے ہونے والی بیماریوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ تاہم یہ بیماریاں مختلف وائرس سے بھی ہو سکتی ہیں۔

3۔ پروٹوزوا: یہ بھی ایک خلیہ پر مبنی ہوتے ہیں۔ انہیں بھی لیبارٹری میں دیکھا جا سکتا ہے لیکن ان کی افزائش لیبارٹری میں ممکن نہیں ہوتی۔ یہ اکثر انسانی جسم سے باہر زندہ بھی نہیں رہتے۔ اور انہیں ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کے لئے اکثر کسی دوسرے جاندار جیسے مچّھر وغیرہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کی مثال ملیریا ہے۔ اینٹی بایوٹکس ان پر اثر نہیں کرتیں۔

4۔ فنگس یا پھپوند: یہ بھی مختلف قسم کی ہوتی ہیں۔ انہیں لیبارٹری میں خوردبین کی ذریعہ دیکھا بھی جاسکتا ہے اور ان کی افزائش بھی کی جا سکتی ہے لیکن چند مشکلات کے ساتھ۔ ان سے ہونے والی بیماریاں اکثر ان افراد میں ہوتی ہیں جن میں پیدائشی یا کسی اور سبب سے مدافعتی کمزوری ہوتی ہے اور ان کا اندرونی مدافعتی نظام صحیح کام نہیں کر رہا ہوتا ہے۔ اینٹی بایوٹکس ان کے خلاف بھی کام نہیں کرتیں۔ ان کے خلاف کام کرنے والی دوائیں اینٹی فنگل کہلاتی ہیں۔

اس طرح یہ معلوم ہوا کہ اینٹی بایوٹکس ہر جراثیمی بیماری یا انفیکشس ڈیزیز میں کام نہیں کرتیں۔ اور ہر بیماری کا علاج اینٹی بایوٹکس نہیں ہوتا۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اینٹی بایوٹکس نہ تو بخار اتارنے کی دوا ہے، نہ ہی کھانسی یا اسہال کی دوا ہے۔ جب تک کہ ان کی وجہ بیکٹیریا نہ ہوں۔

اینٹی بایوٹکس کے استعمال: اینٹی بایوٹکس صرف اسی صورت میں استعمال کرنی چاہئیں جب،

1۔ بیماری کسی بیکٹیریا کی وجہ سے ہو۔ وائرس سے ہونے والی بیماریوں میں اینٹی بایوٹکس استعمال نہیں کرنی چاہیے۔ اس سے بجائے فائدہ ہونے کے نقصان ہو سکتا ہے۔

2۔ اینٹی بایوٹکس ان جراثیم کو مارنے کی اہلیت رکھتی ہو۔ اور جراثیم مزاحمت زدہ نہ ہوں۔ اس اہلیت کو جاننے کے لئے اکثر لیبارٹری میں ٹیسٹ کرانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جسے کلچر کہتے ہیں۔

3۔ اینٹی بایوٹکس کا صحیح مقدار میں استعمال کرنا ضروری ہے۔ ضرورت سے کم مقدار میں اینٹی بایوٹکس استعمال کرنے سے جراثیم مزاحمت زدہ ہو جاتے ہیں اور وہ جراثیم جب کسی اور شخص کو بیمار کرتے ہیں تو وہ اینٹی بایوٹک اس مریض پر اثر نہیں کرتی۔ صحیح مقدار کے علاوہ علاج کا دورانیہ بھی مکمّل کرنا چاہیے۔ صحت بہتر ہونے پر دورانیہ پورا ہونے سے پہلے اینٹی بایوٹکس بند نہیں کرنی چاہیے۔ اس وجہ سے بھی جراثیم مزاحمت زدہ ہو جاتے ہیں

4۔ بیکٹیریا سے ہونے والی بیماریوں میں اینٹی بایوٹکس کا استعمال ضروری ہوتا ہے۔ ان بیماریوں میں اینٹی بایوٹکس کے استعمال سے پرہیز کرنے سے شدید نقصان کا خطرہ ہوتا ہے بلکہ جان بھی جا سکتی ہے۔ اس کی مثال گردن توڑ بخار یا میننجائٹیس ہے۔

5۔ وائرس سے ہونے والی بیماریوں میں اینٹی بایوٹکس ہرگز استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے اکثر بیکٹیریا کے مزاحمت زدہ ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال ٹائیفائڈ کی ہے۔ 1990 سے پہلے ایماکسی سیلین (Amoxicillin) نامی اینٹی بایوٹک ٹائیفائڈ کے علاج کے لئے استعمال ہوتی تھی۔ لیکن اس کے غیر ضروری اور بے احتیاطی سے استعمال کی وجہ سے جراثیم مزاحمت زدہ ہو گئے۔ تب انجیکشن سیفٹرائیکسون (Ceftriaxone) استعمال کرنا ضروری ہو گیا جو اس وقت کافی مہنگے تھے۔ لیکن اب اس انجیکشن کے بے احتیاطی سے استعمال ہونے کی وجہ سے جراثیم اس سے بھی مزاحمت زدہ ہو گئے ہیں اور اب نئے مہنگے ترین انجیکشن میروپینم (Meropenem) استعمال کرنے پڑتے ہیں۔

6۔ بچّوں خاص طور پر نوزائیدہ بچّوں اور بوڑھے افراد میں قوّت مدافعت کی کمی ہوتی ہے اور انہیں اینٹی بایوٹکس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اکثر لوگ غلط فہمی کی بنا پر بچّوں کو اینٹی بایوٹکس دینے سے پرہیز کرتے ہیں یا ضرورت سے کم مقدار میں یا کم دورانیہ کے لئے دیتے ہیں جس سے نہ صرف ان کی جان کو خطرہ پیدا ہو جاتا ہے بلکہ جراثیم بھی مزاحمت زدہ ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے اینٹی بایوٹکس کے استعمال میں مندرجہ ذیل احتیاط کرنی چاہیے :

1۔ صرف اسی صورت میں دینا چاہیے جب جراثیمی بیماری بیکٹیریا کی وجہ سے ہو
2۔ صحیح مقدار اور صحیح دورانیہ کے لئے دی جانی چاہیے
3۔ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہیں دینی چاہیے۔
4۔ بخار اور کھانسی کے ہر مریض میں اینٹی بایوٹکس کی ضرورت نہیں ہوتی اس لئے بخار اور کھانسی کے ہر مریض کو جلد اینٹی بایوٹک نہیں دینا چاہیے۔
5۔ اگر ڈاکٹر نے خون یا دیگر رطوبتوں کا ٹیسٹ (کلچر) کرانے کے لئے کہا ہو تو لیبارٹری میں نمونہ یا سیمپل دینے سے پہلے اینٹی بایوٹک استعمال نہیں کرنی چاہیے۔ اور نہ ہی رپورٹ آنے تک انتظار کرنا چاہیے۔ بلکہ لیبارٹری میں سیمپل دینے کے بعد شروع کر دینی چاہیے کیونکہ کلچر کی رپورٹ ملنے میں تین سے سات دن لگ سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS