مریم نواز کی حکومت کا ایک سال پارٹ 4
مریم نواز کی حکومت کے ایک سال کے دوران سرکاری شاہراہوں اور املاک پر کی جانے والی تجاوزات ختم کرنے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا عوامی سطح پر مثبت رسپانس ملا ہے اس سے عام لوگ خوش ہیں کہ انہیں کھلی شاہراہیں، گلیاں اور سڑکیں مل گئی ہیں لیکن جو لوگ بھتہ دے کر سالہاسال سے تجاوزات تعمیر کر کے بیٹھے ہوئے تھے ان کی جانب سے ناجائز تجاوزات کے خلاف کارروائی پر شدید رد عمل پایا جاتا ہے ناجائز تجاوزات کو ختم کرنے میں بعض مجسٹریٹ اور دیگر عملہ اپنی ”اعلیٰ کارکردگی“ کی وڈیو بنوانے کے لئے تاجروں، ریڑھی بانوں اور چھابہ فروشوں کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں جس کو فوری طور پر روکنا ضروری ہے۔
حال ہی میں انسٹیٹیوٹ فار پبلک اوپینیئن ریسرچ نے مریم نواز کی ایک سال کی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں سروے کیا ہے جس میں 53 فیصد شہریوں نے مریم نواز کی کارکردگی پی ٹی آئی کی بزدار حکومت سے بہتر قرار دی ہے یہ سروے پنجاب کے 6 ہزار سے زائد شہریوں کی رائے پر مبنی ہے جو زندگی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے افراد سے کیا گیا ہے۔ سروے کے مطابق عوام کی اکثریت نے عوامی سہولیات اور خدمات کے نظام میں بہتری کا اعتراف کیا ہے تاہم 35 فیصد کے خیال میں کوئی بہتری نہیں آئی جب کہ 5 فیصد کا کہنا ہے کہ ایک سال کے دوران نظام میں میں مزید خرابی آئی ہے سروے رپورٹ کے مطابق صوبے کے 62 فیصد شہری حکومت پنجاب کی کارکردگی سے مطمئن پائے گئے 53 فیصد شہریوں نے حکومت پنجاب کی جانب سے عوامی سہولیات کی فراہمی کو سراہا ہے ان میں سے 22 فیصد نے ”ستھرا پنجاب“ ، 14 فیصد نے سڑکوں اور 12 فیصد نے تعلیمی نظام اور 11 فیصد نے گورنس کے حوالے سے بہتری کی نشاندہی کی ہے 5 فیصد غیر مطمئن شہریوں میں سے 28 فیصد مہنگائی، 23 فیصد خراب طرز حکمرانی، 14 فیصد بے روز گاری اور 10 فیصد بڑھتی ہوئی غربت کی وجہ سے نالاں ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے سروے کے مطابق 60 فیصد شہریوں نے دیگر تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے مقابلے میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی کو سراہا ہے جب کہ 16 فیصد نے ان کے مقابلے میں کارکردگی کو خراب قرار دیا ہے۔ یہ سروے مریم نواز کی حکومت کی ایک سال کی کارکردگی سے متعلق ہے یہ سروے پنجاب میں Gen۔ Z (Genration۔ Z) جو 18 سال سے 35 سال کے نوجوانوں پر مشتمل کے بارے میں خاموش ہے۔
یہ نوجوان پاکستان کی آبادی کا 70 فیصد ہیں اس گروپ میں 2014 ء میں بیشتر افراد نے ابھی شعور کی آنکھ نہیں کھولی تھی لیکن اب یہ نسل جوان ہو گئی ہے ”کپتان“ نے اس نسل کے ذہن میں اپنے سیاسی مخالفین کے بارے میں زہر بھر دیا ہے جو تاحال برقرار ہے یہ گروپ مریم نواز کی کارکردگی کا معترف ضرور ہے ان سے لیپ ٹاپ وصول کرتا ہے اور سلفیاں بھی بناتا ہے لیکن ان میں سے 30 فیصد شہباز شریف اور مریم نواز سے لئے گئے لیپ ٹاپس پر تصویر ”خان“ کی لگا لیتا ہے اس گروپ کا بڑا حصہ اب بھی ”خان“ کے ہی گیت گاتا ہے خان کا کوئی بیانیہ نہیں بس اس کے شیدائی اسی بات پر جھوم جھوم جاتے ہیں کہ ”خان ڈٹ گیا ہے اس کی یہی ادا پسند ہے۔“ مسلم لیگ (ن) کی کہنہ مشق قیادت اس طبقہ کو اپنی طرف مائل نہیں کر سکی۔ مجھے یاد ہے برطانیہ میں بار بار کی شکست کے بعد ٹونی بلیئر نے ”نیو لیبر پارٹی“ کی بنیاد رکھی اور پارٹی کو نیا بیانیہ دیا۔ اب مریم نواز کو ”نیو مسلم لیگ“ کی بنیاد رکھنی پڑے گی اور پارٹی کی قیادت نئے شامل ہونے والے خون کے ہاتھوں میں دینا ہو گی تب ہی وہ آبادی کے 70 فیصد حصہ کو اپنی طرف راغب کر سکے گی۔ مسلم لیگ (ن) کے 35، 40 سال کے سیاسی سفر کے دوران ٹرین سے کئی مسافر اتر گئے ہیں لیکن جنہوں نے اس جماعت کو اپنی جوانیاں دیں اور جن کی رگوں میں مسلم لیگی خون گردش کر رہا ہے کو بے توقیر کر کر کے جماعت چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا ہے ان کی جماعت میں واپسی کے بارے میں کوئی لائحہ عمل تیار ہونا چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) نے محض چھوٹی چھوٹی باتوں پر قیمتی لوگوں کو ضائع کر دیا ہے ان کی جگہ لینے والے بیشتر لوگ یا تو سیاسی لحاظ سے بونے ہیں یا انہوں نے ان کے جانے راہ ہموار کی۔
حکومت پنجاب نے اپنی ایک سال کی کارکردگی کا ڈھنڈورا پیٹا تو حکومت سندھ کی بھی آنکھ کھل گئی۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی باسکٹ میں جو کچھ بھی تھا انہوں نے عوام کے سامنے لا کر رکھ دیا حکومت سندھ کا سب بڑا پراجیکٹ ہاؤسنگ کا ہے جو سیلاب سے متاثرہ افراد کے سر چھپانے کے لئے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یک دم پی ٹی آئی کو خیال آیا کہ وہ پیچھے رہ گئی ہے اس نے عجلت میں مریم نواز کی حکومت کے خلاف ”قرطاس ابیض“ جاری کر دیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ مریم نواز حکومت نے تحریک انصاف کے منصوبوں پر اپنی تختیاں لگائی ہیں پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بچھر نے کہا کہ کسان کارڈ پاکستان تحریک انصاف کا کامیاب ترین منصوبہ ہے جو مسلم لیگ (ن) نے اپنے کھاتے میں ڈال لیا ہے انہوں نے صحافی کالونی فیز 2 اور تمام پریس کلبوں کو فنڈز دینے کا بھی دعویٰ کیا انہوں نے کہا کہ جب تحریک انصاف کی حکومت پر شب خون مارا گیا تو اس وقت ہمارے پاس 22 لاکھ ٹن گندم موجود تھی جب کہ پنجاب حکومت کو اپنی نا اہلی کی وجہ سے گندم درآمد کرنا پڑی دلچسپ امر یہ ہے کہ اپوزیشن لیڈر نے پنجاب ڈیفمیشن ایکٹ جس کے تحت اظہار رائے پر قدغن لگائی گئی ہے کو بھی اپنی کار کردگی دکھایا ہے البتہ انہوں نے مریم نواز کو حکومت پنجاب کی کارکردگی پر مناظرہ کرنے کا چیلنج دے دیا ہے پی ٹی کی طرف سے جاری ”قرطاس ابیض“ مجموعی طور کمزور چارج شیٹ تھی پی ٹی آئی مریم نواز کی حکومت کا ایک سال پورا ہونے خاموش ہی رہتی تو بہتر تھا کیونکہ مریم نواز کی حکومت کی ایک سال کی کارکردگی کو اس کے کٹڑ مخالفین بھی نہیں جھٹلا سکتے یہ ضروری نہیں کہ اپوزیشن کو تنقید برائے تنقید کرے تو ہی اپوزیشن کہلا سکتی ہے۔ اگر اپوزیشن حکومت کی کسی اچھی بات کی تعریف کر دے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا مریم نواز کی حکومت کے ایک سال کی کارکردگی کا چار کالموں میں جائزہ لینا ممکن نہیں وہ آئے روز ایک نئے پراجیکٹ کو متعارف کراتی ہیں دراصل ان کے پاس نئے آئیڈیاز دینے والی ٹیم موجود ہے اور وہ سائنسی طریقے سے اپنی حکومت کی کمزوریوں سے آگاہی رکھتی ہے جس حکمران کو اپنی حکومت کی منفی باتیں نظر نہیں آتیں اور وہ اپنے آپ کو حالات کے تھپیڑوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے تو اس سے ”تخت لہور“ چھن جایا کرتا ہے۔
(جاری ہے )

