ترجمہ: بنیادی مباحث

آدمی سماجی جانور ہے۔ سماجی کاروبار میں اظہار بیان، ادراک و ترسیل اور افہام و تفہیم کا بہترین وسیلہ زبان ہے۔ اس لیے انگریزی میں Language is a mean to express the feelings۔ زبان بذات خود خیال، جذبات اور اشیا کی ترجمان ہے۔ مگر یہ اپنے ماحول اور زبان و بیان کی دین ہے۔ اس لیے ایک علاقہ کی زبان دوسرے علاقے کی زبان سے مختلف ہوتی ہے۔ اگر ایک علاقے کا آدمی دوسرے علاقے میں جاتا ہے تو اس کو اپنی بات کے اظہار میں مشکل پیش آئے گی۔ ایسی صورت میں یا تو اسے اشاروں سے یا ترجمہ سے کام لینا پڑے گا۔ ایک قوم کو دوسری قوم سے روابط بڑھانے کے لیے ترجمہ لازمی ہو گا۔
لہذا ترجمہ کا فن اتنا ہی قدیم ہے جیسا کہ انسان کی سماجی زندگی، انسانی زندگی سے قطع نظر اگر سائنسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آدمی ابتدا میں گونگا تھا۔ اس کے منہ سے صرف آوازیں نکلتی تھیں۔ وہ اپنے خیال کے اظہار کے لیے اشاروں سے زیادہ کام لیتا تھا۔ وہ غم میں آنسو بہانا، خوشی میں مسکرانا، بہت زیادہ خوشی کے اظہار کے لیے قہقہے لگاتا یا رقص کرنے لگتا تھا۔ اپنے جذبات کے اظہار کے لیے منہ سے مختلف آوازیں نکالتا تھا۔ ان بے معنی آوازوں میں بھی کچھ معنی ہوا کرتے تھے۔ جن کو مقابل والا کافی حد تک جان لیتا تھا۔ عرض سمجھنے اور سمجھانے کے لیے اس عمل کو ترجمہ کہا جائے۔ تو شاید غلط نہ ہو گا۔ آگے چل کر انسانوں نے اظہار کو کامیاب بنانے کے لیے لکڑیوں کے ٹکڑوں اور لکیروں کا سہارا لینا شروع کیا۔ جس کو رفتہ رفتہ تصویروں کی شکل دے دی۔ ان تصویروں اور انسان کی بے سنی آوازوں نے جب ایک مربوط اور منظم رویہ اختیار کر لیا تو اسے زبان کہا گیا۔ یہی عمل دنیا کے کئی مقامات پر ہوا اس لیے الگ الگ مقامات کی زبان الگ الگ ہوئی۔ جب ان دور دراز مقامات سے لوگ ایک دوسرے سے ملاقات کرنے کی کوشش کرنے لگے تو زبان کا مسئلہ پیدا ہوا۔ اس لیے ترجمے کو ایک ضرورت سمجھا گیا۔
آج کے دور میں سفیروں اور سیاحوں کی بنیادی ضرورت ترجمہ ہے۔ ورنہ وہ نہ کچھ کہہ سکیں گے اور نہ ہی کچھ سمجھ سکیں گے۔ ان کا مقصد فوت ہو جائے گا۔ لہذا ایسی صورت میں ترجمہ ہر مشکل کے حل کا واحد ذریعہ بن کر ابھرتا ہے۔ اس لیے کہتے ہیں کہ ترجمہ انسانی سماج کی ایک لسانی اور علمی ضرورت ہے۔ مختلف زبانوں کے بولنے والے دو افراد، دو گروہوں، دو قوموں میں تبادلہ خیال کا ذریعہ ترجمہ ہی ہے۔
”ترجمہ کا لفظ عربی زبان سے ماخوذ ہے۔ عربی میں ترجمہ دو معنوں میں مستعمل ہے۔ پہلا مفہوم کلام کو ایک زبان سے دوسری زبان میں نقل کرنا۔ بجز اس کے جس کلام کا ترجمہ لیا گیا ہے۔ اس کے معانی کی وضاحت کی جائے جیسے ایک زبان کی ردیف کو بنائی۔ اس کی جگہ اسی زبان کی دوسری ردیف رکھ دی جائے۔ ترجمہ کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ ایک کلام کا مطلوب و مقصود دوسری زبان میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا جائے۔“
ترجمہ کا فن محنت، ریاضت اور معلومات چاہتا ہے۔ جو ترجمہ کرتا ہے اسے دونوں زبانوں سے اچھی طرح واقف ہونا بہت ضروری ہے۔ سیدہ کائنات رضوان کے مطابق:
”ترجمہ علم و فن کی کنجی ہے۔ یہ کنجی اگر انسان کو حاصل نہ ہوتی تو وہ اپنے ہی علم و فن کے خزانے کو سب کچھ سمجھ بیٹھتا۔ ترجمے نے انسان کی آنکھیں کھول دیں اور یہ احساس دل دیا کہ علوم و فنون کے خزانوں کا ایک انبار ہے جس سے وہ واقف نہیں تھا۔ علمی خزانوں کا ایک انبار ہے جس سے وہ واقف نہیں تھا۔ علمی خزانوں کی ہستی میں ترجمہ اساسیت کا راہبر ثابت ہوا۔“
ترجمہ صرف زبانوں کا نہیں بلکہ خیالات کے ابلاغ کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔ وہ اس طرح کہ جب ہم بازار میں کسی چیز کو خریدنے کے ارادے سے دکان دار سے بات کریں گے تو وہ ہماری زبان ہی نہیں بلکہ اپنی زبان میں جواب دے گا۔ جیسے ہمارا دماغ فوراً ترجمہ کر کے تاجر کے مافی الضمیر سے آگاہ کرے گا۔ یہ ہی حال اس تقریر کا ہوتا ہے جسے ہم سن رہتے ہوتے ہیں جبکہ مقرر ہماری مادری زبان نہیں بلکہ اپنی مادری زبان میں تقریر کر رہا ہوتا ہے۔ اگر ہم اس زبان سے واقف ہوں تو ہمیں مترجم کی ضرورت نہیں پڑے گی کیوں کہ اس وقت خود ہمارا دماغ مترجم کے فرائض ادا کر رہا ہو گا۔ اظہار و بیان کے پیکر کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا نام ترجمہ ہے۔ یعنی ترجمہ کسی جذبے یا خواہش کا اظہار نہیں ہوتا بلکہ ایک تخلیقی اظہار کا عکس ہوتا ہے۔ الحاج مولوی فیروز الدین نے فیروز اللغات میں ترجمہ کا مطلب بتاتے ہیں :
”ترجمہ۔ تر۔ ج۔ مہ (ع۔ ا۔ مذکر) ایک زبان سے دوسری زبان میں بیان کرنا، جمع، تراجم۔“
مولوی سید احمد کے مطابق :
”ترجمہ ع۔ اسم مذکر۔ ایک زبان سے دوسری زبان بیان کیا ہوا۔ الجھا۔“
کیمبرج ڈکشنری کیمبرج یونیورسٹی برس میں ترجمہ کی تعریف یوں ہے :
”Translate. To change written or spoken words from one language to another (Formal. If an idea or plan translate into an action it makes it happen. So now does this theory translate into practical policy.) Translation. Nain. Something which has been translated from one language to another, or the process of translating.“
سلیم شہزاد کے مطابق:
”ترجمہ ایک زبان کے تکلمی یا تحریری خیالات کو دوسری زبان میں اس کے قواعد و اصول کے مطابق تبدیل کرنا۔ ترجمہ بین لسانی ترسیل کا سب سے اہم طریقہ ہے۔ اس کے ذریعہ دو بالکل مختلف زبانوں کے گروہ یا دو افراد ایک دوسرے کو بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔ ترجمہ پوری طرح ایک زبان کے خیالات کو دوسری زبان میں منتقل نہیں کر سکتا۔ مگر یہ نہ صرف معاشرتی، معاشی، مذہبی اور سیاسی لحاظ سے سود مند ہوتا ہے۔ بلکہ مختلف زبانوں کے اقرار کی باطنی کیفیات کو بھی کسی حد تک سمجھا جاسکتا ہے۔ “
کسی تحریر، تصنیف یا تالیف کے متن کو کسی دوسری زبان میں منتقل کرنے کے عمل کو ترجمہ کہا جاتا ہے۔ ترجمہ نگاری ایک مشکل اور نازک اور اہم فن ہے۔ یہ ایک طرح سے مرصع سازی کا کام ہے۔ ترجمہ دو زبانوں اور تہذیبوں کے درمیان ایک پل ہے۔ ترجمہ کے بارے میں مختلف آرا ہیں۔ ترجمہ کے فن میں فنی پیچیدگیاں، فنی دشواریاں اور بھی تقاضے زیادہ ہیں۔ ترجمہ کی راہیں کھٹن، دشوار اور سنگلاخ ہیں۔ ان دشوار اور سنگلاخ راہوں سے گزرنا اور کامیاب ہونا نہایت مشکل امر ہے۔

