مجرم کا ساتھ دینے کا جشن


جہالت کو جھولوں میں ڈال کر جھولا جھلانے والوں کی کوئی کمی نہیں۔ وہ درسگاہیں جہاں علم پیدا ہونا ہے، وہاں مجرموں کو پال کر جہالت پروان چڑھائی جا رہی ہے۔ مجرموں کے ساتھ کھڑا ہونے کی برصغیر میں پرانی تاریخ ہے۔ جاگیردارانہ سماج کی اقدار کچھ ایسی ہی ہوتی ہیں۔ زمین اور زر کے حساب سے بھلے کوئی جاگیردار یا وڈیرا نہ ہو مگر قانون کو نہ ماننے، قطار میں نہ کھڑا ہونے اور فخریہ مجرم کا ساتھ دینے والی جاگیردارانہ اقدار آکسفورڈ، کیمبرج اور ہارورڈ کے فارغ التحصیل صاحبان میں بھی ویسے ہے پائی جاتی ہیں جیسے پنچایتیں بٹھانے والے سرداروں میں ہیں۔

مجرم کے خلاف کتنے ہی ٹھوس شواہد ہوں، پورا گاؤں یا ادارہ وہ حقائق اور شواہد دیکھ چکا ہو جو مستند ہیں اور مجرم کے خلاف ہیں مگر کوئی سردار اور صاحب مجرم کے ساتھ جیسے ہی کھڑا ہو گا تو پورا ادارہ اور گاؤں مجرم کے گن گانے شروع کر دے گا۔ حقائق پر مبنی سچ دیواروں کا لکھا ہوتا ہے اور جہالت کو جھولوں میں جھلانے والے دیواروں کا لکھا نہیں پڑھا کرتے۔ سردار اور صاحب کا جھکاؤ جس طرف ہو گا ادارے اور گاؤں میں بسنے والوں کے لیے بھی وہ ہی حق اور سچ ہوتا ہے۔

سردار صرف جنوبی پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں نہیں بستے جو مختاراں مائی کے خلاف پنچایت بٹھا کر زیادتی کرنے کے فیصلے کرتے ہیں۔ سردار ناخواندہ نہیں ہوتے، سردار آکسفورڈ، کیمبرج اور ہارورڈ جیسے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل بھی ہوتے ہیں۔ سرداری کے لیے علم کا ہونا یا نہ ہونا کوئی رکاوٹ نہیں ہو سکتا۔ جاگیردارانہ اور زرعی سماج میں اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی سردار ہوتے ہیں۔ مجرم کے ساتھ کھڑا ہونے پر ہمارے معاشرے میں جتنا فخر کیا جاتا ہے، اتنا انصاف کے ساتھ کھڑا ہونے پر نہیں کیا جاتا۔ مجرم باعث فخر ہوتا ہے، مجرم سے دوستی اور تعلق کو اپنے شان میں اضافہ سمجھا جاتا ہے۔

ایسے مجرم جو اپنے حسد کی آگ میں آپ جل رہے ہوں، جنہوں نے اپنے ساتھیوں اور محسنوں کے دل ڈھائے ہوں، جنہوں نے بہروپیے کا کردار ادا کیا ہو۔ جنہوں نے کردارکشی اور الزام تراشی کے مینار کھڑے کیے ہوں۔ جنہوں نے جہاں بیٹھے، جہاں رہے اس جگہ پر اور وہاں کے لوگوں پر کیچڑ اچھالا ہو۔ وہ اچانک مجرم سے قومی اثاثہ بن جاتے ہیں۔ ان کو قومی اور اداراتی اثاثہ بنانے والے کوئی اور نہیں ہوتے مگر آکسفورڈ، کیمبرج اور ہارورڈ سے چکر لگا کر آنے والے بظاہر صاحب علم اور دانش ہوتے ہیں۔ اندر میں وہ صاحبان بھی پنچایت چاہتے ہیں اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کے اس پنچایت میں فیصلے کرتے رہتے ہیں۔ ایسے مزاج کے تعلیم یافتہ صاحبان چلتی پھرتی پنچایت ہوتے ہیں۔ پنچایت بٹھانے اور کسی کی پینٹ اتروانے میں جو مزا ہے، کسی کے وقار اور عزت سے کھیلنے میں جو لطف ہے، وہ صرف انتظامی سربراہی میں کہاں۔ مجرم کو تھپکی دینا، اس کی حوصلہ افزائی کرنا، لوگوں میں یہ تاثر دینا کہ ”مجرم اپنا بندا ہے، اپنا بچہ ہے“ اس بات میں جو مزا ہے وہ قانون اور انصاف کی طرفداری اور پیروی کرنے میں کہاں؟ مجرم سے اپنے ہی اداراتی ساتھیوں کی زندگی تنگ کروانا ان کو جینے جیسا نہ چھوڑنا، یہ ہی تو ہوتا ہے بڑے اور سردار ہونے کا مزا۔

سردار اور پنچایت کا تصور صرف گاؤں سے کیوں جوڑا ہوا ہے؟ سردار اور پنچایت تو جامعات میں بھی ہیں، سردار اور پنچایت تو قانون سازی کے فورمز پر بھی ہیں سردار اور پنچایت تو قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بھی ہیں۔

بھیڑ کی کھال میں بیٹھے مجرموں کا دفاع کرنے والے، احترام سے بولنے والے اور سفید پوش سردار کیسے زیادتیاں کرتے ہیں، اپنے محکماتی اختیارات کا مجرمانہ استعمال کیسے کرتے ہیں، کیسے مجرموں کو نواز کر ان کی معاشرے میں مزید جرائم کرنے کے لیے ہمت افزائی کرتے ہیں۔ دنیا کھلی آنکھوں سے دیکھ کر بھی آنکھیں بند رکھتی ہے کہ کچھ نہیں ہوا۔ جن کو پارسا اور نیک ہونے پر بڑی فخر ہے وہ بھی خود کو غیر جانبدار رکھتے ہیں۔ یہ ایسی غیر جانبداری ہوتی ہے جس کا مطلب ہوتا ہے ظالم کے ساتھ ہیں، مجرم کے ساتھ ہیں وہ صرف اس وجہ سے کے جس کے پاس اختیار اور طاقت ہے وہ مجرم کو پناہ دینے والا ہے۔ ”مجرم اور منصف بھائی بھائی“ ہو کر بیٹھ جائیں تو پھر معاشرے میں کیسی اقدار، کیسی اخلاقیات اور روایات جنم لیں گی؟

ہم مجرم اور ظالم کے ساتھ کھڑا ہونے کا جشن منانے والی قوم ہیں۔

Facebook Comments HS

اشفاق لغاری

لکھاری، میڈیا سائنسز کا طالب علم ہے۔ پڑھنا، لکھنا، گھومنا اور سیاحت کرنا اس کے محبوب کاموں میں شامل ہیں۔

ashfaq-laghari has 40 posts and counting.See all posts by ashfaq-laghari