سرحد کے دونوں پار مٹھائی اور کیک کو پہرہ درکار ہے

دیوانوں کی اُس بستی میں مٹھائی، کیک اور بسکٹ بھی جنگی جنون کی نفرت کی نذر ہو گئے۔ تازہ پاک بھارت تناؤ کے دوران ہندوستان حیدرآباد میں کراچی بیکری کو نام کی سزا دے کر انتہا پسندوں نے اس پر حملہ کیا اور تھوڑ پھوڑ کی گئی۔ دوران تقسیم 1947 میں حیدرآباد سندھ سے ہجرت کرنے والے ایک سندھی کی قائم کردہ کراچی بیکری بمبئی میں تو کافی عرصہ ہوا نفرت نفرت کھیلنے والوں نے دھمکیاں دے کر بند کروا

Read more

گندم کے زمیندار اور کسان خسارے کے نیچے دب جائیں گے

دریائے سندھ کے بائیں حصے میں واقع زیریں سندھ کے ضلع میرپور خاص کی تحصیل جھڈو اور ضلع بدین کی تحصیل ٹنڈو باگو کی سرحد پر قائم گاؤں ملکانی شریف سے تعلق رکھنے والے 60 سالہ سلطان ملکانی صاحب تین اپریل 2025 کو محکمہ تعلیم سے ریٹائر ہوئے ہیں وہ اپنے گاؤں میں ہائی اسکول ٹیچر تھے۔ سلطان اور ان کے سات بھائیوں نے تقریباَ سو ایکڑ رقبے پر گندم کاشت کی ہے۔ سلطان کے مطابق سندھ میں گندم کی

Read more

مجرم کا ساتھ دینے کا جشن

جہالت کو جھولوں میں ڈال کر جھولا جھلانے والوں کی کوئی کمی نہیں۔ وہ درسگاہیں جہاں علم پیدا ہونا ہے، وہاں مجرموں کو پال کر جہالت پروان چڑھائی جا رہی ہے۔ مجرموں کے ساتھ کھڑا ہونے کی برصغیر میں پرانی تاریخ ہے۔ جاگیردارانہ سماج کی اقدار کچھ ایسی ہی ہوتی ہیں۔ زمین اور زر کے حساب سے بھلے کوئی جاگیردار یا وڈیرا نہ ہو مگر قانون کو نہ ماننے، قطار میں نہ کھڑا ہونے اور فخریہ مجرم کا ساتھ دینے

Read more

پہلے خواب اور پھر آکاش خود قتل ہوئے

جدائیوں، محرومیوں اور جبر کے خلاف لڑنے والے سندھی زبان کے معروف شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری کو بھی ایسے ہی قتل کیا گیا ہے، جیسے سیاسی سفر میں ان کے خوابوں کا قتل ہوا۔ ان کو رہبر سے رہزن ثابت ہونے والوں سے گلا تھا، جس کا اپنی شاعری میں برملا اظہار کرتے رہے۔ سندھ میں وہ رسول بخش پلیجو کی عوامی تحریک کے متحرک رہنما رہے اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد نعپ (نیشنل عوامی پارٹی) کے

Read more

ایک سائبر کرمنل کا خاکہ

جتنا وہ باہر سے نفیس نظر آتا تھا اندر میں اس سے کئی دفعہ زیادہ غلیظ تھا۔ یہ راز تب افشا ہوا جب اس کے خلاف ٹیکنالوجی کے ٹھوس شواہد سامنے آئے۔ ادارے کے ساتھی، دوست احباب، خاندان والے، پڑوسی اور یہاں تک کے ان کی بیگم سب شواہد سن کر حیران رہ گئے کے اتنا میٹھا، نفیس اور سفید پوش شخص اپنے اندر اتنا زہر کیسے چھپائے ہوا تھا؟! جناب جس ادارے میں افسر تھے وہاں اپنے ہی ساتھیوں

Read more

سائبر قوانین میں ترامیم اور پھولوں کے ہار پہنے ہوئے سائبر کرمنلز

انٹرنیٹ کے سامنے بند باندھنے، فائر وال کا انتظام کرنے اور وی پی این کی رجسٹریشن لازمی قرار دینے کے بعد بھی ریاستی حفاظتی ادارے اور حکومت وقت ”کی بورڈ“ جنگجوؤں کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ لاہور کے نجی تعلیمی ادارے میں لڑکی کے ساتھ زیادتی کی جھوٹی خبر ہو یا ہر آئے دن ”گنڈاپوری انقلاب“ کی پیدا کردہ خبریں ہوں، انہوں نے حکومت کو سائبر قوانین مزید سخت کرنے کا راستہ دکھایا ہے۔ انصافیوں کے اسلام آباد

Read more

میرپور خاص جھوٹا پولیس مقابلہ: پھولوں کے ہار کس کے تھے پہن کون گیا؟

عمرکوٹ اور میرپور خاص سندھ میں سترہ ستمبر سے انیس ستمبر 2024 کے درمیان جو کچھ ہوا ہے اس نے سندھ کا دنیا میں تعارف بدل دیا ہے۔ یہ تقریباً 48 گھنٹے سندھ کی پانچ ہزار سالہ تاریخ و تہذیب کے مثبت چہرے کو مسخ کرنے والوں کے تھے۔ انسانی آزادی، سندھ کی خوشحالی و خودمختاری اور دلتوں کے حقوق کی سیاسی و ادبی جنگ لڑنے والی ممتاز شخصیات عبدالواحد آریسر، ماما جمن دربدر اور حلیم باغی کا عمرکوٹ شہر

Read more

جسٹس بابر ستار کو سائبر کرمنلز سے کون بچائے گا؟

اسلام آباد ہائے کورٹ کے معزز جج جسٹس بابر ستار اور اس کے خاندان کے خلاف سوشل میڈیا پر جس انداز میں غلط شواہد اور حقائق پیش کر کے جھوٹ کا طوفان بدتمیزی کھڑا کیا گیا ہے۔ ایسی بد تمیزیوں کا شکار اس ملک کے کئی شہری روزانہ ہوتے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے ایک مخصوص وقت میں موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان جناب قاضی فائز عیسیٰ  اور ان کی اہلیہ بھی رہے ہیں۔ بابر ستار جیسی با اثر شخصیات

Read more

پرویز رشید کو بھی ”حافظ کے حلوہ“ سے نواز دو

سب کے لیے موسم بدل رہا ہے۔ میمو گیٹ اسکینڈل کے سیاسی شہید حسین حقانی پر جو پابندی عائد تھی اس کا نصف حصہ ختم کیا گیا ہے اور وہ آج کل جنگ میں ہر ہفتے تقریباً حاضری دے رہے ہیں۔ پاناما کیس کے عدالتی شہید میاں نواز شریف نہ صرف ملک آئے، تاحیات نا اہلی ختم کروائی، قومی اسمبلی کے ممبر بنے مگر اپنی جماعت کی سربراہی میں وفاق اور پنجاب میں حکومت بنانے کا اعزاز بھی حاصل کیا

Read more

ایک جپسی کے خطوط اور اس کی دنیا

”اس زمانے میں خورشید قائم خانی جرنیلی سڑک کو تیاگ کر جپسی ٹریک پر اپنا قلمی سفر کر رہے تھے“ الہورایو بہن ”مٹھی میں دلت لوگوں کے بارے میں ایک لیکچر تھا، بقیہ دنوں بچپن کی یادیں تازہ کیں۔ میزبان کچھ بھیل اور کچھ میگھواڑ تھے۔ اب یہی اپنا طبقہ اور یہی اپنی ذات ہے“ خورشید قائم خانی بالائی سطریں ”ایک جپسی کے خطوط“ نامی کتاب سے لی گئی ہیں۔ یہ وہ خطوط ہیں جو سندھ میں خانہ بدوشوں کے

Read more

ایاز میلو کا ”ماہ رنگ“

”شاعر کے دو نمایاں فرض ہیں، نہ صرف یہ کے جیسی دنیا ہے اس کا آئینہ ہو، بلکہ جیسی دنیا ہونی چاہیے وہ اس کا تخیل بھی پیش کرے“ ۔ (شیخ ایاز) برصغیر کے بڑے شاعر شیخ ایاز کے تخیل کا پاکستان بننا تو ابھی ایک مہنگا خواب ہے مگر حیدرآباد کی تین جرات مند بیٹیوں امر سندھو، عرفانہ ملاح اور حسین مسرت نے سندھ کو ایاز کے تخیل جیسا بنانے کی ایک جھلک ایاز ہی کے نام پر میلہ

Read more

میمن محلہ شکارپور کے تین ستارے اور سی ایس ایس

نوکری کے لیے پاکستان میں مقابلے کا سب سے بڑا امتحان سی ایس ایس(سینٹرل سپیرئر سروسز) پاس کرنے کے لیے عام گریجوئیٹ نوجوان تو قسمت آزمائی کرتے ہی ہیں مگر پیشہ ورانہ(پروفیشنل) ڈگریاں رکھنے والے میڈیکل ڈاکٹر، انجنئیر اور وکلا بھی اپنی ڈگری والا پیشہ روزگار کے لیے چننے کے بجائے سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے افسر شاہی کی دوڑ میں شامل ہوجاتے ہیں- نوکری کے لیے خالی اسامیوں پر مقابلے کی اس دوڑ میں شامل نواجوانوں میں

Read more

نوجوان دلوں کی گلی آباد کرنے والا لاہوتی میلہ

حیدرآباد سندھ کے آسماں پر چھ ( 6 ) مئی 2023 کی رات پورا چاند تھا اور اس ہی رات کو دسویں لاہوتی میلے کی رونمائی تقریب بھی تھی، پورے چاند کے نیچے نوجوان دلوں کا یہ میلہ زندگی کی علامت لگ رہا تھا۔ لاہوتی کے منتظمین سیف سمیجو اور ان کی ہم سفر ثنا ایس نے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے دلوں کی گلی آباد کرنے کے لیے مکالموں اور ساز و آواز کی نیاز سٹیڈیم کے برابر حیدرآباد

Read more

یہ آڈیو وڈیو کی سیاست

اگر عمران خان اور تحریک انصاف کے دیگر ممبران ناراضگی ختم کر کے قومی اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو اس میں برا کیا ہے؟ سیاست نام ہی بات چیت کا ہے۔ مریم نواز نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو عوام میں رسوا کرنے اور دیکھنے کے لیے مبینہ طور پر جن وڈیوز کا انتظام کیا ہے وہ تو ابھی جاری نہیں کی گئیں مگر وڈیوز کی جگہ ایک آڈیو جاری کروا دی گئی ہے جس کا آج

Read more

تبدیلی جماعت یا تبلیغی جماعت؟

برستی برکتوں والے مہینے کا یہ آخری عشرہ ہے، اپنی آخرت سنوارنے کے لیے ہر کوئی خدا کے سامنے گڑ گڑا رہا ہے۔ اکیلے خان ہیں جو اس قوم و ملک کو غیروں اور سازشیوں سے نجات دلانے کے لیے خدا تعالیٰ سے دعا مانگ رہا ہے، دعا کروا رہا ہے۔ خان کو تو خدا نے سب کچھ دیا ہے آزادی سے لے کر خوشحال زندگی تک۔ وہ ان برکت بھرے لمحات میں بھی اپنی ذات کے لیے خدا سے

Read more

خط میں لپٹا خان

خان جیسا پراعتماد وزیر اعظم عدم اعتماد کے ووٹ سے گھبرا جائے گا، ان کی خودی اور انا کے ساتھ کوئی ایسے کھیلے گا یہ خان کی ٹیم کے کھلاڑیوں اور چاہنے والوں کے تصور میں بھی نہ تھا۔ سیاست کے گورکھ دھندے میں ایسی زبان اور نعرے زیادہ وقت چل نہیں سکتے جو خان استعمال کرتے رہے۔ تضادات کے علم اور ہنر میں خان یکسانیت چاہتے ہیں جو ناممکن کوشش ہے۔ خان سیاست میں تقریباً 30 سال لگا کر

Read more

شرفا کی عزت کا مذاق اڑانا منع ہے

شرفا کی عزت بچاؤ آرڈیننس! شرفا کی عزت کا مذاق اڑانے والی رعایا کا ہاتھ اور ذہن روکنے کے لیے عمرانی حکومت کے بابائے آرڈیننس پارلیمان کی موجودگی میں پارلیمان سے رجوع کیے بغیر شرفا کی عزت کو قانونی تحفظ بخشنے کے لیے ایک صدارتی فرمان لے کر آئے ہیں۔ فرمان لاگو ہونے کے بعد وطن عزیز کی سب سے بڑی خبر، خبر خود بنی ہوئی ہے۔ پارلیمان کو وقت کا ضیاع سمجھنے والی بنی گالا سرکار کے تقریباً 70

Read more

امن اور سلامتی نامی لاپتہ دو بچے

وطن عزیز میں امن اور سلامتی نامی لاپتا ہوئے دو بچوں کی تلاش میں شعور فاؤنڈیشن اسلام آباد کی ٹیم کے ساتھ دریائے سوات کے کنارے سات دن بیٹھنے، سوچنے، پڑھنے اور رباب و بانسری سننے کے لمحات میسر ہوئے ہیں۔ ان یادگار لمحات کے قید سے آہستہ آہستہ زندگی کو آزاد ہوتا محسوس کر کے دکھ ہو رہا ہے۔ اس دکھ کے ساتھ امن اور سلامتی کی پر امن واپسی کے لیے بنائی گئی حکمت عملی، منصوبے اور خود

Read more

عقل اپنی بھی ایڑی میں ہے

شروع کرتا ہوں اس کا نام لیے بغیر جس کی ذات اپنی فردی پہچان، خودمختاری، اور بغیر کسی امتیاز کے سماج میں اپنے مقام کا حق لینے کی جد و جہد میں مصروف ہے۔ جی بالکل میرا اشارہ اس ذات کی طرف ہے تمام گالیاں، تقریباً لطیفہ اور اکثر خطبات جس کی ذات سے منسوب کیے گئے ہیں۔ ہم سب ڈاٹ کام ٹیم کی دریافت کی گئی ایک اور بری عورت کی اچھی باتوں کا تذکرہ آگے چل کر کرتے

Read more

سادھووں اور پاپیوں کے بیچ!

زندگی جینے کے لیے دنیا میں ابھی تک کوئی زمینی نصاب تو تیار نہیں ہو سکا، مگر زندگی کو قید کر کے کاٹنے کے آسمانی نسخے ضرور موجود ہیں۔ زندگی کو سماجی روایات و آسمانی نسخوں کے قید سے آزاد کروانے کے لیے ہر دور کے سیاسی، سماجی اور نفسیاتی علوم کے ماہرین کی طرف سے اپنے اپنے خیال کی چابی پیش کی جاتی رہی ہے۔ گزشتہ ماہ مردوں کی سوچ اور نفسیات کے بارے میں ”سادھووں اور پاپیوں کے بیچ“

Read more

کنور بھگت سے وجیہہ نقوی تک!

شکارپور میں واقع رک ریلوے اسٹیشن پر کنور بھگت رام کی یکم نومبر 1939 میں ٹرین کیا رکی، جیسے سندھ کے امن، برداشت اور روادری کے کلچر کا کانٹا بھی وہاں پر ہی رک گیا ہو۔ سالوں بعد اسی شکارپور میں بسنے والی اپنی ایک رشتے دار خاتون کے تعاون سے کراچی کی وجیہہ نقوی کنور بھگت کی پھچان بننے والے دعایہ کلام ”نالے الکھ جی بیڑو تار مونھنجو“ کو گاتی ہیں اور یوٹیوب سمیت سوشل میڈیا کے دیگر میدانوں

Read more

مظلوم صنم بھٹو کے آنسو اور آج کی پیپلز پارٹی

بھٹو خاندان ایک کے بعد ایک نیا المیہ کیسے دیکھتا اور بھگتتا ہے۔ ووٹ دینے اور ووٹ لینے والوں کی عزت بچانے اور بڑھانے والی جدوجہد کا بنیاد رکھنے والے بھٹو خاندان کے افراد پر دوران جمہوری جنگ کیا کیا گزری اور ایسی ممنوع باتیں کرنے کی انہوں نے کیا کیا قیمت چکائی۔ یہ سب کچھ جاننے کے لیے ’نیا دور‘ کے رضا رومی اور مرتضیٰ سولنگی نے بھٹو خاندان کی نشانی صنم بھٹو سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی

Read more

ڈاکٹر طارق بنوری کی جبری رخصتی

جن کا شعور تنقیدی، ذہن تخلیقی اور کام کا انداز غیر روایتی ہے ایسے لوگوں کے لیے وطن عزیز میں سرکاری نوکری کرنا کسی عذاب مسلسل سے کم نہیں۔ ہایئر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے جبری طور پر ہٹائے جانے والے چیئرپرسن ڈاکٹر طارق بنوری کو اس عذاب مسلسل کا مزا چکھتے رہنے کا شوق ابھی باقی ہے، انہوں نے اپنی بحالی کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے دیکھیں کورٹ کیا کہتی ہے۔ تبدیلی کے نام پر آئی حقیقی تبدیلی مخالف سرکار نے بہرحال بنوری صاحب کو ایک آرڈیننس سے طاقت کی ادھار لے کر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔

Read more

لاہوتی میلہ: جنگل میں مور ناچا سب نے دیکھا

کراچی سے تقریباً 140 کلومیٹر کے فاصلے پر جامشورو، سندھ میں واقع لاہوتی آشرم قدیم اور جدید سندھ کے ساز، رقص، راگ اور فنون لطیفہ کی دیگر شکلوں کا ایک پرکشش نمونہ ہے۔ آج کے سندھ میں اگر کوئی لاہوتی سے نا آشنا ہے تو گویا اس نے سندھ دیکھا ہی نہیں۔

جنگل میں ناچتا مور سب کو دکھانا لاہوتی کے خالق سیف سمیجو اور ان کی ٹیم کا جنون ہے۔ اکیسویں صدی کے ماڈرن لاہوتی ناچتا مور دکھانے کے لیے لوگوں کی آسانی سے جنگل تک رسائی ممکن بناتے ہیں ، یہ جنگل اور صحرا کو نچانے کا ہنر بھی خوب جانتے ہیں۔ لاہوتی باہر کی دنیا کو اپنے اندر کی دنیا سے ملانے کے لیے جنگل میں ساز و آواز کا مور نچاتے رہتے ہیں۔

Read more

”بہاریں سوگ میں ہیں“

جن دنوں دوری کا درس عام ہے۔ ملاقات سے فاصلے پر رہنے میں بہتری ہے۔ ہر فرد وہ کتنا ہی محبوب کیوں نہ ہو، اس کے دور رہنے میں ہی بہتری ہے۔ چھ فٹ کے فاصلے کی ہدایات ہر سو سنائی دے رہی ہیں۔ ایسے دنوں میں امریکا میں مقیم شاعر و صحافی حسن مجتبیٰ کا شعری مجموعہ ”تم دھنک اوڑھ لینا“ ملن کی چاہت لے کر ہمارے ہاتھوں میں پہنچا ہے۔ یہ دن ہجر و وصال کے گیت لکھنے والے شاعر حضرات کے پیغام کا مکمل رد ثابت ہوئے ہیں۔ نیویارک سے لے کر نواں کوٹ سندھ تک ملن کی تمنا کے شہید کورونا وبا نے ایک جیسے کر دیے ہیں۔

سانسوں سے سانس اور ہاتھوں سے ہاتھ ملانے سے گریز کرنے کی بات دنیا کے ہر کونے سے سنائی دے رہی ہے۔ اگر ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ سے اور ایک سانس دوسری سانس سے ملی تو سانسوں کا قائم رہنا خطرے میں پڑ جائے گا۔ کورونا کی وجہ سے زندگی میں پہلے جیسی زندگی نہیں رہی۔ بازار اور بار ویران ہیں۔ صرف ہسپتالوں کے انتہائی نگہداشت والے وارڈ آباد ہیں۔ صدیوں کی تنہائی یکجا ہو کر آج کے انسان کا مقدر بن گئی ہے۔ جس نیویارک کی روشنیوں میں سارا جہاں رقص کرتا تھا، اس شہر کا اب بقول مجتبیٰ یہ عالم ہے۔

Read more

نایاب سیاسی نسل کے سیاستدان کی جدائی!

وطن عزیز میں نایاب ہوتے ہوئے سیاسی نسل کا ایک مثبت حوالا میر حاصل بزنجو خضدار سے تقریباً 60 کلومیٹر دور اپنے آبائی گاؤں نال میں اپنی دھرتی ماں کی گود میں ہمیشہ کے لیے سو گیا۔ ماضی قریب میں ایوانوں کے اندر جو نظریے، اصول، اور کمزور طبقات کی سیاست کرنے والی دو چار بڑی آوازیں رہی ہیں میر حاصل بزنجو کا شمار ان میں ہوتا ہے۔ حاصل بزنجو نان سویلین طاقتوں سے عوامی طاقت اور سیاسی مہارت سے

Read more

ظالم صوبائی اکائیاں اور مظلوم وفاق!

ملکی وفاق کے اندر صوبوں کی مظلومیت کی کہانی اتنی ہی پرانی ہے جتنی پاکستان کی تاریخ۔ وطن عزیز کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہو رہا ہے کے وزیر اعظم سے لے کر وفاقی وزرا تک سب وفاق کی مظلومیت کا ماتم کر رہے ہیں۔ پاکستان دنیا کا شاید واحد وفاقی ماڈل ہوگا، جہاں صوبائی خود مختاری اور وفاقی اکائیوں کے حقوق کے لیے چاروں صوبوں ( تخت لاہور کو استثنا حاصل ہے، باقی سرائیکی وسیب پڑھا اور سمجھا جائے ) میں سے ہر ایک صوبے میں چار سے زیادہ سیاسی پارٹیاں سرگرم ہیں اور ان کا بنیادی نکتہ وفاق سے صوبوں کو حقوق دلانا ہے۔

ان حقوق کے لیے کچھ سیاسی جماعتیں نئے عمرانی معاہدے کی بات کرتی رہی ہیں، اور ان میں سے کچھ 1940 کی قرارداد کے تحت صوبائی اکائیوں کے حقوق چاہتی ہیں۔ قوموں اور صوبائی اکائیوں کے حقوق پر مبنی نیا عمرانی معاہدہ تو دور کی بات ہے یہاں ”عمرانی حکومت“ کے اس سنہری دور میں صوبوں کو 1973 کے آئین میں کی گئی اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد جو حقوق ملے ہیں ان میں وزیراعظم پاکستان کو آمرانہ بو آ رہی ہے۔ وزراء اعلیٰ، جناب وزیر اعظم کو آمر لگتے ہیں۔

Read more

قوم کے بچے ہود بھائی اور حنیف نہیں، فیاض الحسن چوہان پڑھائیں گے!

قوم کے بچوں کو اقبالیات، ڈرامہ، تاریخ، جاگرافی، ماحولیاتی سائنس، طبی سائنس اور دفاعی علوم سمجھانے کے لیے جب پروفیسر عمران احمد نیازی، پروفیسر فیاض الحسن چوہان، پروفیسر فیصل واوڈا اور پروفیسر زرتاج گل موجود ہیں تو ڈاکٹر ہودبھائی، عمارعلی جان اور محمد حنیف جیسوں کو یونیورسٹیز میں رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ رہ گئے روحانی علوم تو ان کے لیے خاتون اول کی خدمات لی جا سکتی ہیں۔ جو لوگ فارمین کرسچن کالج یونیورسٹی ( ایف سی کالیج )

Read more

کیا ٹائیگر فورس پیٹرول کی دستیابی یقینی بنا سکتی ہے؟

کپتان کی پیار سے بنائی گئی ٹائیگر فورس کو مخالفین نے دوران کورونا رلیف کا کام کرنے نہیں دیا، یہاں تک کے ٹائیگر کا نام سنتے ہی صف دشمناں کا ہر دستہ ان کے خلاف متحرک ہوگیا۔ کپتان اپنی فورس کی ٹویٹر پر کارکردگی اور کام دیکھ کر روزانہ متاثر ہوتا رہتا ہے۔ جنہیں ٹائیگر فورس کے کورونا میں سونپے گئے کام اور اس کے نام پر اختلافات ہیں وہ کچھ بھی کہیں کپتان نے اپنی اس افسانوی سیاسی فورس سے اب کوئی کام تو لینا ہی ہے۔

وہ کام ٹڈیاں پکڑنے کا بھی ہو سکتا ہے، پیٹرول کی عوام کے لیے سرکاری داموں پر دستیابی یقینی بنانے کا بھی ہو سکتا ہے تو جو اشرافیہ سخت لاک ڈاؤن چاہتی ہے اس کو سمارٹ لاک ڈاؤن کے فوائد سمجھانے کا بھی ہو سکتا ہے۔ کپتان کو کام سے اور اس کے چیتوں کو کپتان کے دعوت کام سے پیار ہے۔ اب کوئی چاہے تو صف دشمناں کو اطلاع کر سکتا ہے۔ جلد ٹائیگر فورس پیٹرول کی دستیابی کے لیے ”ٹویٹر ہینڈلوں“ کو چھوڑ کر میدان میں ہوگی، مطلب پیٹرول پمپس پر ہوگی۔ انتظار صرف کپتان کے ایک حکم کا ہے۔

Read more

لڑکیاں پیڈ کے لیے اب فکر مند نہ ہوں

پاک سر زمین کی حدود میں انسانی زندگی سے جڑے بہت سے موضوعات پر بات کرنا، نا صرف ممنوع ہے، بلکہ کچھ معاملات تو ایسے ہیں جسے سننے سے وضو خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ پاکی نا پاکی کی سرحد میں داخل ہوتے دیر ہی نہیں لگتی۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے اسکول کی بچیوں کے لیے 2020ء کا جو اہم اعلان کیا ہے، وہ اعلان آپ کو بتاتے میں ڈر رہا ہوں، کہ کہیں ہر وقت باوضو رہنے

Read more

کورونا نے انسان کو چاند سے کیسے اتارا؟

ابھی تک کورونا کے معمولی ذرے نے انسان کو چاند سے پکڑ کر پھر سے زمین پر لاکر کھڑا کر دیا ہے۔ زمینی معاملات طے کر کے آسمانی دنیا پر پاؤں رکھنے والے انسان کی اڑان کو غیر معینہ مدت تک کورونا نے روک دیا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے تیز رفتاری سے رواں انسانی زندگی کا سانس بھر گیا تھا اور اب سانس لینے کے لیے زندگی وقفے پر ہے۔ جو انسان ستاروں کو اپنے پیروں کی خاک سمجھ کر آگے بڑھ رہا تھا، اب اس کے شعور نے وقفہ کے اس دورانیے میں نہیں سرے سے سوچنا شروع کیا ہے۔

Read more

اگلے مورچوں کے سپاہی رو کیوں رہے ہیں؟

جن کے سروں کے اوپر سفید جھنڈے لہرائے گئے، جن کو اگلے مورچوں اور محاذ کا سپاہی کہا گیا، جن کو قومی ہیرو کے لقب سے نواز کر شہر، شہر گاؤں، گاؤں سلامی دی گئی، جن کے اوپر گلابوں کی پتیاں نچھاور کر کے خراج پیش کیا گیا، جن کے لئے جنگی نغموں کی دھنوں پر گیت بنا کر ریڈیو و ٹی وی پر چلائے گئے۔ جن کے ایپران کی عظمت کو پہلی مرتبا قوم کی طرف سے مانا گیا۔

Read more

موت کے لیے سب کچھ، زندگی کے لیے کچھ نہیں

کورونا کی وبا کیا آئی، اپنے ساتھ یکمشت خطرات، تنہائی، ملاؤں کے مشورے، اور ہم پاکستانیوں کے لیے بے سروسامانی کی حالت لے کر آئی۔ اب تو وبا کے دن ہیں، اب تو دوری کے دن ہیں مگر جب جب امن، پیار اور ملن کے دن قریب آتے تو سجیلے جوان اپنے جنگی گھوڑے سنوار کر کسی نا کسی محاذ پر جنگی خطرات کا ماحول بنا لیتے، اور پھر بڑا عرصہ قوم کو ذہنی طور پر اسی جنگی کیفیت میں

Read more

احسان اللہ احسان پر کس نے "احسان” کیا؟

جن دنوں آدھی آبادی قوم کی بیٹیوں رابی پیرزادہ، حریم شاہ اور صندل خٹک کا معما سمجھنے اور باقی آبادی پاکستان کی شہ رگ کشمیر کو ظالموں کے قید اور کرفیو سے آزاد کروانے میں مصروف تھی، لگ بھگ انہی دنوں، ہمارے قومی مہمان جناب احسان اللہ احسان، سکیورٹی اداروں کی میزبانی سے نا خوش ہو کے، اپنا بوریا بستر گول کرکے نکل گئے۔ تین برس تک سکیورٹی اداروں کے مضبوط ہاتھوں میں رہنے والے تحریک طالبان پاکستان کے سابق

Read more

پھٹتے آموں کا کیس بھی لاپتا!

اعجاز الحق کے لئے ان کا والد جنرل محمد ضیاء الحق شھید ہے اور شھید زندہ ہوتے ہیں۔ باقی شھدا قبر سے لڑتے ہیں یا نہیں ہمیں معلوم نھیں، مگر ضیا تو لڑ سکتا ہے۔ اگر کسے اس بات پر تھوڑا بھی شبہ ہے تو وہ گواہی کے لئے دانیال پبلشنگ ہاؤس کی مالکہ حوری نورانی سے رجوع کر سکتا ہے۔ حال ہی میں دانیال والوں سے پھٹتے آموں کے کیس (The case of exploding (mangoes ناول چھاپنے پر ان

Read more

ڈان کے ساتھ کیا کیا جل گیا؟

وطن عزیز زباں بندی کے عظیم دور سے گزر رہا ہے۔ سیرل المیڈا کی ”ڈان لیکس“ کے نام سے مشہور خصوصی رپورٹ اور اس کے بعد سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ملتان میں کیے گئے انٹرویو پر ملک کے اصل مالکان ڈان پر کیا ناراض ہوے، ان کی وہ ناراضگی مختلف صورتوں میں ابھی تک جاری ہے۔ پہلے کینٹ اور بعد میں ڈفینس ہاؤسنگ اتھارٹی میں ڈان اخبار پر غیرعلانیہ بندش لگی۔ سیرل المیڈا اور ڈان کے ایڈیٹر ظفر

Read more

پنجاب کو بھٹو نا مل سکا

ووٹ کو عزت اور پارلیمان کو اپنی کھوئی ہوئی طاقت واپس دلانے کا علم بغاوت اٹھانے والے ہمارے میاں صاحب پہلے جیل گئے، پھر جیل سے اسپتال، اسپتال سے گھر اور آخرکار حسب روایت (معذرت کے ساتھ اسے ”حسب دستور“ نہیں لکھ سکتا) گھر سے لندن۔ اسی طرح ایک بار پھر میاں نواز شریف کو مزاحمت کا راستا مہنگا پڑ گیا۔ اس بار میاں صاحب و مریم نواز کی گرجتی آواز اور واضح موقف دیکھ کر بھت مزاحمت پسند اس

Read more

ہیرالڈ اور نیوزلائن نہیں رہے: اب رہیں چین سے بے درد زمانے والے

ابھی ملک کے ممتاز میگزین ہیرالڈ کے بند ہونے پر ہیرالڈ کے آخری ایڈیٹر بدر عالم کا دیا گیا انٹرویو ہی نا بھلا سکے تھے تو نڈر صحافی رضیہ بھٹی کی نشانی نیوز لائن میگزین کے بند ہونے کی بری خبر آ ٹکرائی ہے۔ ہیرالڈ کے بعد نیوز لائن کے بند ہونے پر فوراً ایک درویش سے منسوب وہ روایت یاد آئی، جس میں درویش کے پیچھے کتے لگے ہیں اور وہ کتوں سے بچنے کے لئے راستے میں پڑے

Read more

جسٹس فائز عیسیٰ کے دل جلانے والے اثاثے!

جسٹس فائز عیسیٰ پر بیرون ملک اثاثے رکھنے کے الزام میں جو کیس بنایا گیا ہے، اس کیس کا دفاع کرتے ہوئے جناب جسٹس صاحب نے جو ”اثاثے“ قوم کو بتائے ہیں وہ ”اثاثے“ اس ملک کی ”مقتدرہ“ کے لئے ہمیشہ درد سر رہے ہیں۔ پہلا اثاثہ ظاہر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ”ملک کے آئین میں کہا گیا ہے کہ جمہوریت کو قائم رکھنا ایک فریضہ ہے۔ “ اس حیرتوں کے جذیرے میں یہ آئینی فرائض ادا کرنے مین

Read more

زندگی مہر گڑھ میں ہے!

”زندگی کسی اور جگہ ہے“ میلان کانڈیرا کو وہ ”اور“ جگہ ملی یا نہیں، مگر میں وثوق سے کہتا ہوں کے فی الحال وہ ”اور“ جگہ صرف مہر گڑھ اسلام آباد ہی ہو سکتی ہے۔ ویسے تو مہر گڑھ بلوچستان میں واقع نو ہزار سال پرانی تہذیب کا نام ہے۔ اس تہذیب کی یاد کو زندہ رکھنے کے لئے ڈاکٹر کامران احمد، فوزیہ سعید، ملیحہ حسین اور تہذیب و ورثے سے پیار کرنے والے کچھ دیوانوں نے تقریباً 2000 ع میں مہر گڑھ کے نام سے ایک تربیتی ادارے کی بنیاد رکھی۔

Read more