پھٹتے آموں کا کیس بھی لاپتا!

اعجاز الحق کے لئے ان کا والد جنرل محمد ضیاء الحق شھید ہے اور شھید زندہ ہوتے ہیں۔ باقی شھدا قبر سے لڑتے ہیں یا نہیں ہمیں معلوم نھیں، مگر ضیا تو لڑ سکتا ہے۔ اگر کسے اس بات پر تھوڑا بھی شبہ ہے تو وہ گواہی کے لئے دانیال پبلشنگ ہاؤس کی مالکہ حوری…

Read more

ڈان کے ساتھ کیا کیا جل گیا؟

وطن عزیز زباں بندی کے عظیم دور سے گزر رہا ہے۔ سیرل المیڈا کی ”ڈان لیکس“ کے نام سے مشہور خصوصی رپورٹ اور اس کے بعد سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ملتان میں کیے گئے انٹرویو پر ملک کے اصل مالکان ڈان پر کیا ناراض ہوے، ان کی وہ ناراضگی مختلف صورتوں میں ابھی…

Read more

پنجاب کو بھٹو نا مل سکا

ووٹ کو عزت اور پارلیمان کو اپنی کھوئی ہوئی طاقت واپس دلانے کا علم بغاوت اٹھانے والے ہمارے میاں صاحب پہلے جیل گئے، پھر جیل سے اسپتال، اسپتال سے گھر اور آخرکار حسب روایت (معذرت کے ساتھ اسے ”حسب دستور“ نہیں لکھ سکتا) گھر سے لندن۔ اسی طرح ایک بار پھر میاں نواز شریف کو…

Read more

ہیرالڈ اور نیوزلائن نہیں رہے: اب رہیں چین سے بے درد زمانے والے

ابھی ملک کے ممتاز میگزین ہیرالڈ کے بند ہونے پر ہیرالڈ کے آخری ایڈیٹر بدر عالم کا دیا گیا انٹرویو ہی نا بھلا سکے تھے تو نڈر صحافی رضیہ بھٹی کی نشانی نیوز لائن میگزین کے بند ہونے کی بری خبر آ ٹکرائی ہے۔ ہیرالڈ کے بعد نیوز لائن کے بند ہونے پر فوراً ایک…

Read more

جسٹس فائز عیسیٰ کے دل جلانے والے اثاثے!

جسٹس فائز عیسیٰ پر بیرون ملک اثاثے رکھنے کے الزام میں جو کیس بنایا گیا ہے، اس کیس کا دفاع کرتے ہوئے جناب جسٹس صاحب نے جو ”اثاثے“ قوم کو بتائے ہیں وہ ”اثاثے“ اس ملک کی ”مقتدرہ“ کے لئے ہمیشہ درد سر رہے ہیں۔ پہلا اثاثہ ظاہر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ”ملک کے…

Read more

زندگی مہر گڑھ میں ہے!

”زندگی کسی اور جگہ ہے“ میلان کانڈیرا کو وہ ”اور“ جگہ ملی یا نہیں، مگر میں وثوق سے کہتا ہوں کے فی الحال وہ ”اور“ جگہ صرف مہر گڑھ اسلام آباد ہی ہو سکتی ہے۔ ویسے تو مہر گڑھ بلوچستان میں واقع نو ہزار سال پرانی تہذیب کا نام ہے۔ اس تہذیب کی یاد کو زندہ رکھنے کے لئے ڈاکٹر کامران احمد، فوزیہ سعید، ملیحہ حسین اور تہذیب و ورثے سے پیار کرنے والے کچھ دیوانوں نے تقریباً 2000 ع میں مہر گڑھ کے نام سے ایک تربیتی ادارے کی بنیاد رکھی۔

Read more