پشتون اور بلوچ علاقوں کا تقابلی جائزہ

خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جارحیت کیا واقعی کسی پراکسی جنگ کا شاخسانہ ہے؟ ان علاقوں کے تنازعات کو باریک بینی سے دیکھنا ضروری ہے کیونکہ ان کی نشوونما اکثر مقامی اور بیرونی عوامل کے پیچیدہ عوامل سے ہوتی ہیں۔ پراکسی جنگوں سے مراد وہ تنازعات ہیں جہاں بیرونی طاقتیں اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے مقامی گروہوں کی حمایت کرتی ہیں۔ تاہم، ان جنگوں کی نوعیت پشتون اور بلوچ علاقوں میں نمایاں طور پر مختلف ہیں۔
خیبر پختونخوا ڈیورنڈ لائن پر پھیلا ہوا ہے، قبائلی تنازعات، مذہبی انتہا پسندی اور معاشی پسماندگی کا اکثر شکار رہتا ہے۔ یہ عوامل پراکسی جنگوں کے لیے زرخیز عوامل پیدا کرتی ہیں۔ پشتون علاقوں کا قبائلی نظام عسکریت پسندوں کی بھرتیاں اور ان کی تنظیم سازی کو آسان بناتا ہے، جہاں تقریباً 60 فیصد آبادی قبائلی معاشرت سے تعلق رکھتی ہے۔ افغانستان کے ساتھ 2,430 کلومیٹر لمبی سرحد ہتھیاروں اور جنگجوؤں کی نقل و حرکت کے لیے آسان راستے فراہم کرتی ہیں، جہاں صرف 2020 میں 1,000 سے زیادہ سرحدی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ طالبان جیسے بنیاد پرست اسلامی گروہ پراکسی جنگوں کو جواز فراہم کرتے ہیں، جو خطے میں تقریباً 20,000۔ 30,000 عسکریت پسندوں کو استعمال کر سکتی ہیں۔ غربت اور بے روزگاری نوجوانوں کو عسکریت پسند گروہوں میں شامل ہونے پر مجبور کرتی ہیں، جہاں خطے میں غربت کی شرح 50 فیصد سے زیادہ ہے۔
اس کے برعکس، بلوچستان ایک زیادہ پیچیدہ منظر پیش کرتا ہے۔ بلوچستان کا متنوع نسلی منظرنامہ، جس میں بلوچ، پشتون اور ہزارہ آبادی شامل ہیں، اکثر عسکریت پسندوں کی بھرتی اور تنظیم میں رکاوٹ بنتا ہے۔ 347,000 مربع کلومیٹر سے زیادہ پر محیط خطے کا وسیع علاقہ اور کم آبادی کی کثافت، تقریباً 13 افراد فی مربع کلومیٹر پر عسکریت پسند مہیا کر سکتا ہے۔ بلوچ قوم پرستی بیرونی مداخلت کی مزاحمت کرتی ہے، جہاں بہت سے بلوچ گروہ زیادہ خود مختاری یا آزادی کے خواہاں ہیں۔ گیس، تیل اور معدنیات سمیت قدرتی وسائل کی موجودگی مقامی آبادی کو پراکسی جنگوں میں شامل ہونے سے روکتی ہے، کیونکہ وہ ان وسائل سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں جو ان کے دسترس میں ہیں نہ کہ کسی بیرونی پراکسی کے آلہ کار بنیں تاہم شدت پسندی میں وہ کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔
پشتون اور بلوچ علاقوں میں پراکسی جنگیں با آسانی کسی بھی وقت کوئی بھی بیرونی طاقت با آسانی شروع کر سکتی ہے جس کی خصوصی وجہ مقامی شکایات، معاشی پسماندگی اور نسلی تنازعات ہیں۔ ان تنازعات سے نمٹنے کے لیے، ریاست کے لیے یہ ضروری ہے کہ مقامی شکایات کا حل، غربت، بے روزگاری اور ترقیاتی منصوبے اور معاشی مواقع فراہم کریں اور خطے میں عدم مساوات جیسے مسائل کو نہ پنپنے دیں۔ بیرونی طاقتوں کو مقامی تنازعات کا فائدہ اٹھانے سے روکنے کے لیے سرحدی سلامتی اور سفارت کاری کو مضبوط بنائیں۔ مقامی اور بیرونی دونوں عوامل سے نمٹنے کے لیے ایک جامع نقطۂ نظر اپنا کر، پشتون اور بلوچ علاقوں میں پراکسی جنگوں کی روک تھام کے لیے بہتر منصوبہ بندی کریں اور اگر ریاست ایسا کرنے میں ناکام ہوئی تو خیبر پختونخوا، سندھ بلوچستان اور خصوصاً پنجاب کو عراق، شام اور لیبیا بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

