پرائمری پاس بیٹی کا والد کے نام خط
السلام و علیکم ! سدا پھولوں کی طرح مسکر اتے رہو
ابو جی سال ہونے کو آیا. آپ سے ملاقات نہیں ہوئی۔ مجھے یاد ہے ڈولی میں بیٹھنے سے پہلے میں آپ کے ساتھ لپٹی تھی ۔ کوئی میرے کندھوں سے پکڑ کر پیچھے کھینچ رہا تھا میرے ہاتھ تھے کہ آپ کا دامن چھوڑنے کو تیا ر نہ تھے آپ نے سر پر ہاتھ پھیر کر ہر ماہ آنے کا وعد ہ کیا اور دامن چھڑا لیا تھا۔ یہ وقت بھی کیا ظالم شے ہے ہر وعدے کا گلا دباتے چلا جاتا ہے۔ ہاڑی کی فصل آتے ہی ہم موبائل فون خرید لیں گے پھر روز بات کیا کریں گے۔
معذرت چاہتی ہو ں کہ میری لکھائی اچھی نہیں ہے آپ کو پڑھنے میں دقت ہو گی پانچویں جماعت میں تھی تو استانی نسیم نے میری تختی پر” بابا آیا آم لایا“ لکھا دیکھ کر بولا تھا کہ میری لکھائی بہت اچھی ہے۔ خاک اچھی ہے جی ۔ لفظ ایسے گویا بے جان مکڑی کی ٹانگیں جالے سے الجھی ہوں۔ شاید پانچوں جماعت میں ایسی لکھائی کو اچھا جانا جا تا ہو۔ آج میں چار بچوں کی ماں ہوں. عمر کی چوتھی دہائی بتانے کے قریب ہوں لکھائی کم بخت وہی پانچویں جماعت کی ساتھ ٹھہری ہوئی ہے ۔
ابو جی یاد ہے آپ کو جب میں پنجم جماعت میں فرسٹ آئی تھی اور بھائی ہشتم میں دوسری پوزیشن پر ۔گاﺅ ں کی گلیوں میں آپ سے جو بھی ملتا تھا مبارک باد دیتا تھا اکتیس مارچ کو سکول میں نتیجہ بولتا تھا۔ مجھے گرلز پرائمری سکول سے انعام میں کچی پنسلیں ملی تھیں اور بھائی کو بوائز ہائی سکول سے ایک کاپی بطور انعام ملی تھی آپ اس دن بہت خوش تھے لیکن میرا دل بوجھل تھا اوراکتیس مارچ میری پڑھائی اور سکول کا آخری دن تھا گاﺅں میں لڑکیوں کے لیے ہائی سکول نہ تھا اور شہر میں پڑھانے کےلئے آپ کے پاس وسائل نہ تھے۔اور بھائی کی پڑھائی کے اخراجات تھے گاﺅں میں لڑکیوں کو شہر میں پڑھانے کا رواج نہیں تھا ۔ایسے حالات میں آپ کیسے پڑھاتے مجھے؟ لیکن پھر بھی اس شام کو مجھے یوں لگا کہ روٹی میں رتی بھر بھی ذائقہ نہیں ہے اور کئی دنوں تک مجھے یاد نہیں رہا تھا کہ میں نے اپنی گڈیا ں پٹولے کس رنگ کی پرانی چنری میں باندھ کر صندوق کے کس کونے میں رکھے تھے۔ اکتیس مارچ کا وہ دن میری زندگی کے کسی کونے میں پرانے صندوق کی طرح آج بھی پڑا ہے لیکن اس میں پرانی چنری کی پوٹلی اور انعام میں ملی کچی پنسلیں نہیں ہیں۔ سوچتی ہو ں کہ بھائی نے تو آپ کو بے حد خوشیاں دی ہیں کیا زندگی میں کبھی میں بھی آپ کے لئے خوشی کا سبب بنی؟ وقت کی ساری گٹھڑیاں کھنگالنے کے بعد میرے ہاتھ میں پنجم جماعت کے نتیجے والے دن اکتیس مارچ کے سوا اور کچھ نہیں آتا ۔اگرچہ اس خوشی میں بھی بھائی کا حصہ زیادہ تھا کچھ تو حصہ میرا بھی تھا۔ مجھے اس بات پر فخر ہے
میری نند مجھے کہتی ہے تمہارے باپ نے بیٹے کو تو پڑھایا اور بیٹی کو گھر بٹھا لیا۔ میں کہتی ہوں گاﺅ ں میں سرکار ہائی سکول بنوا دیتی تو میں میٹرک کر جاتی سرکار کے گناہ میرے باپ کے سر کیوں دھرتی ہو۔ بھائی تو ذہین تھا ۔ شہر کے کالج میں پڑھا پھر یونیورسٹی گیا بڑا افسر لگ گیا شہرمیں اچھا گھر بنا لیا گاڑی لے لی اس کے بچے مہنگے سکولو ں میں پڑھنے لگے ایک بہن اپنے بھائی کے لئے یہی سب چاہتی ہے وہ تو بھائی تھا جو کالج یونیورسٹی کی انگریزی میں لکھی مشکل مشکل کتابیں پڑھ گیا میں یونیو رسٹی جاتی تو کیا خاک پڑھتی اپنا نام تو ڈھنگ سے لکھا نہیں جاتا جو اردو جوڑ توڑ لگا کر پڑھے وہ انگریزی کیسے پڑھتی کلاس میں لڑکو ں کے سامنے کتابیں کھولتی یا اپنا ڈوپٹہ سنبھالتی۔ گاﺅ ں کے لوگ لڑکی کو کالج بھیجنے پر تیز دھاری باتیں الگ سناتے ۔میں نند سے بولتی ہوں کہ میرے ماں با پ نے مجھے وہ سب سکھایا جو لڑکی کے جیون کا اٹوٹ انگ ہے سارے گھر کے میلے کپڑوں کا ڈھیر آن کی آن میں دھو ڈالتی ہوں ادھ گھسے پیوٹوں سے برتن مانجھتی ہوں تو نئے لگنے لگتے ہیں ۔کچے صحن میں جھاڑو لگاﺅں تو بڑے گھروں کے پکے صحن بھی ر شک کرنے لگیں۔ سلائی کڑھائی کر لیتی ہوں روٹی سالن بھی ٹھیک کر لیتی ہوں ایک لڑکی کو سکھی گھر بسانے کے لئے اور کیا چاہیے؟
میری نند کی زبان درانتی کی طرح چلتی ہے کہتی ہے تمہارے باپ نے زمین سے حصہ کیوں نہیں دیا؟ نہ خدا کا حکم مانا نہ بیٹی کے حق کو تسلیم کیا۔ بس باپ دادا کی ریت نبھائی۔ میں بھی اسے کرارا جواب دیتی ہوں ۔ کہتی ہوں بھائی کے نام تومیں اپنی جان بھی لگوا دوں بھائی سے زمین لینا بہن کا دھرم نہیں۔ میرے ماں باپ سلامت رہیں میرا بھائی ہمیشہ ہنستا رہے بھائی کے بچے سکھی رہیں تو سمجھو بہن کے جیون میں کسی جائیداد کی کمی نہ رہی بھائی اور ابو جب بھی گھر آتے ہیں تو کچھ نہ کچھ لے کر ہی آتے ہیں جاتے ہوئے بچوں کو کچھ دے جاتے ہیں۔ ہمارے پا س دو ایکڑ زمین ہے دن رات دعائیں کرتی ہوں فصل اچھی ہو اور ریٹ اچھا لگے پھر تو سب مسئلے پل بھر میں ختم ہو جائیں گے۔
ابو جی ! آپ کی طبیعت کا پوچھنا بھول گئی اور اپنی رام کہانی سنانے بیٹھ گئی آپ کے دائیں کندھے میں دردرہتا تھا۔ اب کیسا حال ہے؟ ادھر ہمارے گھرمیں تونہ جانے کسی بدرروح کا سایہ ہے یا کسی منحوس کی نظر بد لگی ہے ۔ عابدہ اور شازیہ کو بخار ہوتے ہیں علی ہے کہ سوکھ کر کانٹا ہو تا جاتا ہے۔ آمنہ کچھ بہتر ہے بس ہلکی کھانسی ہے اسے۔ میں چنگی بھلی تھی اب کھانسی ہے کہ کم بخت رکنے کا نام نہیں لیتی ۔تھکاوٹ سی رہتی ہے۔ روز بروز کمزور ہوتی جاتی ہوں۔ بابا فتح محمد سے دم بھی کروائے۔ حکیم سلیمان کی کئی پڑیاں بھی کھا چکی مگر کھانسی نہیں جاتی ابو جی ایک عرصہ بیت چلا ہے آپ ہمارے گھر نہیں آئے ۔ آپ چکر لگا لیتے تو میں ٹھیک ٹھاک ہو جاتی آپ آیت کرسی پڑھ کر پھونک مار دیں گے تو بچوں کی بیماری بھی اُتر جائے گی۔
ابو جی آپ سے ایک بات کرنی ہے سوچتی ہوں کس منہ سے کہوں ؟ وہ کیا ہے کہ عابدہ کا نتیجہ بولا ہے پنجم جماعت میں فرسٹ آئی ہے گاﺅں میں لڑکیوں کے لیے ہائی سکول نہیں ہے طاہر کہتا ہے کہ بہت پڑھائی ہو گئی اب عابدہ کو گھر پر بٹھاﺅ سلائی کڑھائی کراﺅ آپ کچھ پیسے ادھار دے دیں تو عابدہ کو شہر کے سکول میں چھٹی جما عت میں داخل کروا دیں گے۔ ہاڑی کی فصل آتے ہی واپس کردوں گی۔ بھائی سے پیسے مانگنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ نہ جانے ان کی فصل کیسی ہو۔ ان کے اپنے خرچے بے حساب ہیں۔
اکتیس مارچ کو نتیجہ بولا تھا ۔آج پانچ دن ہو گئے۔ عابدہ اپنے گڈی پٹولوں سے نہیں کھیلی ۔
آپ کی بیٹی
خدیجہ

