پیرکا مزار، رنڈی کا کوٹھا اور صاحب کرامات


سرگودھا میں ایک مزار کے گدی نشین پیر وحید سے وظیفے میں کچھ بے حسابی ہوگئی۔ نتیجہ یہ کہ بیس معصوم مریدوں کو لامکان پہنچا دیا۔ بیس مائیں، کئی بہن بھائی اور بچے بے سہارا ہوگئے۔ مریدین میں کچھ وہ بھی ہیں جن پر پیر کے اوراد و وظائف نے کچھ خاص اثر نہیں کیا۔ وہ "بدقسمتی” سے زندہ بچ گئے ہیں۔ بدقسمتی ہی کہیے۔ کیونکہ بچ رہنے والوں میں سے اکثریت کو پیرو مرشد کے اس قتل عام پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ان جسموں پر موجود تشدد کے نشانات کو انہوں نے اپنے لیے اعزاز سمجھا ہے۔ ان کے خیال میں ان کا زندہ بچ جانا ضعف الاعتقادی کا نتیجہ ہے۔ کچھ بعید نہیں کہ اہل خانہ نے بھی اس محرومی پر خوب کوسا ہو۔ خود مریدین فرماتے ہیں کہ یہ معمول کا معاملہ تھا۔ ڈنڈوں اور آگ سے ہمارے سوزِ دروں کو وہ جلا بخشتے ہی رہتے ہیں۔ آج جلال کی سطح نے معرفت کے ساتویں آسمان کو چھولیا، کوئی بات نہیں، ہوجاتا ہے۔ ایسا ہی ہوتا ہے۔ قرآن مجید حفظ کرنے والا طالب علم کبھی استاد کا تشدد اسی لیے گوارا کرتے تھے۔ ان کو پڑھا دیا گیا تھا کہ استاد عالی مقام کا ڈنڈا جسم کے جس مقام پر نشان چھوڑ دے، جہنم کی آگ اس مقام کو چھو نہیں سکتی۔

یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ یہ آخری واقعہ بھی نہیں ہے۔ اِس زمین کی زرخیزی نے کچھ دیا ہو نہ دیا ہو، پیر اور مزار جی بھر کے دیے۔ ہوا کی نامعلوم لہروں پر پیرانِ ہزار رنگ نے اپنا صحیفہ درج کرکھا ہے۔ اس سوچ کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ اندھی تقلید کی جائے۔ تقلید سے انحراف والوں کے واسطے ڈراوے کا سامان موجود ہے۔ لوگ ںاخواندہ لوگوں کو کوستے ہیں، بخدا اعلی تعلیم یافتہ اس پراسرار قضیوں سے اطمینان پاتے ہیں۔ سرگودھا کا سانحہ سامنے ہے۔ جن معصوم روحوں کو پیر کے جلال نے بھسم کردیا، وہ خاک اوڑھ کے سوچکے۔ جو جاگ رہے ہیں وہ اپنے زخم چوم رہے ہیں۔ اپنی عقل ہے کہ محو حیرت ہے۔ مسلسل دو ہی چیزیں سامنے آ رہی ہیں۔ ایک سعادت حسن منٹو کی کہانی "کرامات” اور دوسرا ان کے افسانے "بابو گوپی ناتھ” کے دو ٹکڑے۔ پہلے کہانی ملاحظہ ہو

لُوٹا ہوا مال برآمد کرنے کے لیے پولیس نے چھاپے مارنے شروع کیے۔ لوگ ڈرکے مارے لوٹا ہوا مال رات کے اندھیرے میں باہر پھینکنے لگے۔ کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنا مال بھی موقعہ پا کر اپنے سے علیحدہ کردیا تاکہ قانونی گرفت سے بچے رہیں۔ ایک آدمی کو بہت دقت پیش آئی۔ اس کے پاس شکر کی دو بوریاں تھیں جو اس نے پنساری کی دکان سے لوٹی تھیں۔ ایک تو وہ جوں توں رات کے اندھیرے میں پاس والے کنوئیں میں پھینک آیا، لیکن جب دوسری اٹھا کر اس میں ڈالنے لگا تو خود بھی ساتھ چلا گیا۔ شور سن کر لوگ اکٹھے ہوگئے۔ کنوئیں میں رسیاں ڈالی گئیں۔ دو جوان نیچے اترے اور اس آدمی کو باہر نکال لیا۔۔۔ لیکن چند گھنٹوں کے بعد وہ مر گیا۔

دوسرے دن جب لوگوں نے استعمال کے لیے اس کنویں میں سے پانی نکالا تو وہ میٹھا تھا

اسی رات اُس آدمی کی قبرپر دیے جل رہے تھے”

منٹو کا افسانہ "بابوگوبی ناتھ” وہی ہے جس میں منٹونے عبدالرحیم سینڈو نامی ایک خوبصورت کردار تشکیل دیا ہے، جو دھڑن تختہ، کنٹی نیوٹلی اور اینٹی کی پینٹی پو جیسے تکیہ ہائے کلام رکھتا ہے۔ بابو گوپی ناتھ سیٹھ آدمی ہے۔ مست ملنگ یار باش۔ توانائیاں دو ہی جگہ صرف کیں۔ طوائف کے پہلو میں یا مزار کے احاطے میں۔ گوپی ناتھ بظاہرایک بھولا سا انسان دکھائی دیتا ہے۔ وہسکی کے دو پیگ لگاتے ہی اس کے اندر کا سیانا باہرآجاتا ہے۔ نشہ جوں جوں بڑھتا ہے منٹو اس کی ذہانت کا معترف ہوتا چلا جاتا ہے۔ منٹو کے ایک سوال کے جواب میں کہتا ہے

"بات دراصل یہ ہے کہ میں شروع سے فقیروں اور کنجروں کی صحبت میں رہا ہوں۔ مجھے ان سے کچھ محبت سی ہوگئی ہے۔ میں ان کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میں نے سوچ رکھا ہے کہ جب میری دولت بالکل ختم ہو جائے گی تو کسی تکیے میں جا بیٹھوں گا۔ رنڈی کا کوٹھا اور پیر کا مزار بس یہ دو جگہیں ہیں جہاں میرے دل کو سکون ملتا ہے۔ رنڈی کا کوٹھا تو چھوٹ جائے گا اس لیے کہ جیب خالی ہونے والی ہے لیکن ہندوستان میں ہزاروں پیر ہیں۔ کسی ایک کے مزار میں چلا جاؤں گا”

منٹو نے پوچھا، رنڈی کے کوٹھے اور پیر کے مزار آپ کو کیوں پسند ہیں۔ گوبی ناتھ نے کچھ دیر سوچ کر جواب دیا،

” اس لیے کہ ان دونوں جگہوں پر فرش سے لے کر چھت تک دھوکہ ہی دھوکہ ہوتا ہے جو آدمی خود کو دھوکہ دینا چاہتا ہے اُس کے لیے ان سے اچھا مقام اور کیا ہو سکتا ہے”

بابو گوپی ناتھ نے جواب کا اختتام ان الفاظ پہ کیا

"کون نہیں جانتا کہ رنڈی کے کوٹھے پر ماں باپ اپنی اولاد سے پیشہ کراتے ہیں اور مقبروں اور تکیوں میں انسان اپنے خدا سے”

کہانی نہیں ہے، افسانہ بھی نہیں ہے، یہ راہ میں رکھے ہوئے آئینے ہیں۔ جیسے خمار بارہ بنکوی نے کہا تھا

 گزرتا ہے ہر شخص چہرہ چھپائے
کوئی راہ میں آئینہ رکھ گیا ہے

Facebook Comments HS