میری سلطنت، میرا اختیار، میں ایسا، باقی سب ویسے


”یہ ’ملم‘ کیا ہوتا ہے؟“
سات سال کی بچی کو سامنے کھڑے شخص نے کرخت لہجے میں جھڑک دیا۔ اُس کی آنکھیں گھور رہی تھیں، جیسے بچی نے کوئی بڑا جرم کر دیا ہو۔ بچی گھبرا گئی، اُس کا ننھا سا دل اور بھی سہم گیا۔

وہ ابھی کچھ ہی دن پہلے ایک چھوٹے شہر سے لاہور آئی تھی۔ نئی جگہ، نئے لوگ، نئی زبان۔ سب کچھ اُس کے لیے نیا تھا۔ وہ صرف ایک لفظ کا فرق سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی، اور اُس نے زخموں پر لگنے والے مرہم کی جگہ ’ملم‘ کہہ دیا۔ لیکن اُسے اس انداز میں جھاڑا گیا جیسے اُس کی کوئی وقعت ہی نہ ہو۔

کیا صرف ایک لفظ غلط کہہ دینے سے کوئی انسان کم عقل یا کم اہم ہو جاتا ہے؟
کیا ایک چھوٹی سی بچی کا اردو سیکھنے کی کوشش کرنا اتنا بڑا مسئلہ تھا کہ اُسے یوں جھاڑ دیا جائے؟

شاید وہ شخص چاہتا تھا کہ بچی بھی ویسا ہی بولے جیسا وہ بولتا ہے۔ اُس کے لب و لہجہ، اُس کی لغت، اور اُس کی سخت زبان کی چھاپ لیے ہوئے۔ اُس کا انداز ایسا تھا جیسے صرف زبان کی درستی نہیں، بلکہ اپنا رعب جمانا اور اپنی سوچ زبردستی مسلط کرنا اُس کا اصل مقصد ہو۔

ہم انسان کتنے عجیب ہیں! ہر جگہ، ہر لمحہ، دوسروں پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں۔ جانے کیوں مجھے لگتا ہے کہ ہر شخص اپنی ایک چھوٹی سی سلطنت کا خواہاں ہوتا ہے، جہاں وہ خود حکمران ہو، اُس کے بنائے ہوئے اصول ہی چلیں، اور جہاں اُس سے کمتر سمجھے جانے والے لوگ اُس کے سانچے میں ڈھل جائیں، اُس کی سوچ کے تابع ہو جائیں۔

یہ سلطنت آپ کو ہر جگہ نظر آئے گی:
کبھی ایک اُستاد کی صورت میں جو اپنے طلبا پر اپنی سوچ مسلط کرنا چاہتا ہے۔
کبھی ایک افسر کے روپ میں جو اپنی حکومت صرف اپنے طریقے سے چلانا چاہتا ہے۔
کبھی والدین کی صورت میں، جو اپنے بچوں کے خواب صرف اپنی خواہشات کے مطابق دیکھنا چاہتے ہیں۔

کبھی رشتہ داروں کی زبان سے، جو آپ کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ آپ کی زندگی کا ہر فیصلہ اُن کی پسند کے مطابق ہونا چاہیے۔

کبھی معاشرے کے ایک کونے میں، جو آپ سے کہتا ہے کہ اگر آپ مختلف سوچتے ہو تو آپ غلط ہو۔

یہ سلطنت صرف اختیار اور رُعب تک محدود نہیں، یہ سوچ پر بھی قائم ہوتی ہے۔ ایسے لوگ صرف حکمران نہیں ہوتے، وہ معاشرے کے ہر گوشے میں موجود ہوتے ہیں۔ جو دوسروں کو صرف اپنے طور طریقوں سے جینے کی تلقین کرتے ہیں، بغیر یہ سمجھے کہ شاید ہر شخص کا سفر، اُس کا تجربہ، اور اُس کی سوچ مختلف ہو سکتی ہے۔

اگر لوگ صرف اتنا سمجھ لیں کہ ہر شخص ایک منفرد سوچ اور نظریے کا مالک ہوتا ہے، اور ہر کوئی اپنے ذہنی تاثرات کے مطابق زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ اور کوئی بھی بیرونی قوت کسی کے ذہن کو مکمل طور پر قابو میں نہیں لا سکتی۔ تو شاید دنیا میں لڑائیاں، تنازعات اور اختلافات بہت حد تک کم ہو جائیں۔

مگر اصل مسئلہ صرف اختلاف کا نہیں، بلکہ طاقت اور سلطنت کا ہوتا ہے۔ لڑائیاں جھگڑے تو بس بہانے ہوتے ہیں، اصل مقصد دوسروں کو قابو میں رکھنا ہوتا ہے۔

جب تک ہم دوسرے انسان کو ایک مکمل، آزاد سوچنے والا فرد نہیں سمجھیں گے، اور صرف اپنی مثال قائم کرنے کے بجائے دوسروں کی مثال کو سمجھنے کا حوصلہ نہیں لائیں گے، اور اُن پر اپنی رائے مسلط نہیں کریں گے۔ تب تک اصل صلح، عزت اور سماجی انصاف کا تصور صرف کتابوں میں ہی رہے گا۔

اور ہم یونہی ”میری سلطنت، میرا اختیار، میں ایسا، باقی سب ویسے!“ کے قاعدوں میں جکڑے رہیں گے۔

Facebook Comments HS