فکرِ معاش نے چھین لیے میرے پیارے پیارے دوست

زمانۂ طالبِ علمی اور موسمِ گرما کی تعطیلات، چاہے اسکول ہوں، کالج یا یونیورسٹی ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہے ہیں۔ میری سرکاری ملازمت کو سات سال ہو چکے ہیں، اور کالج میں پڑھاتے ہوئے یہ تیسرا سال جاری ہے۔ اس مرتبہ پہلی بار موسمِ گرما کی تعطیلات آئیں، فرصت کے لمحات ملے، اور زندگی کے مختلف ادوار کی ”سمر ویکیشنز“ کا موازنہ کرنے کا موقع بھی میسر آیا۔ فرق صرف اتنا محسوس ہوا کہ طالبِ علمی کے دور

Read more

راتوں رات امیر ہونے کا دھوکہ

جب وقت گزارنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا جائے، تو ایک عجیب سی ذہنی اُلجھن محسوس ہوتی ہے۔ ٹک ٹاک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، یوٹیوب اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز پر ہر لمحہ نئی رِیلز اور ویڈیوز کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ہر دوسری رِیل میں کوئی نہ کوئی شخص امیر بننے کا دعویٰ کر رہا ہوتا ہے : ”ایک دن میں اتنے ڈالرز کما لیے!“ ”ایک ہفتے میں اتنے پاؤنڈز مل گئے!“ ”ایک مہینے میں اتنے پاکستانی

Read more

سفارت کا نایاب رنگ

حال ہی میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی پہلی نابینا سفارت کار صائمہ سلیم سے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ملاقات خبروں کا مرکز بنی۔ یہ ملاقات محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ بصارت سے محروم افراد کے لیے عزت، دلچسپی اور حوصلے کا پیغام ثابت ہوئی۔ صائمہ سلیم، جو اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں، نے اپنی شخصیت اور خدمات سے یہ ثابت کیا کہ کوئی بھی جسمانی رکاوٹ کسی کے

Read more

کھڑکی سے آتی پرندوں کی شکایت

”غٹرغوں، غٹرغوں!“ یہ آواز ہر صبح میرے کانوں میں گونجتی ہے۔ اور کیوں نہ گونجے؟ جہاں کوئی جاندار اپنا بسیرا کرتا ہے، وہاں اس کی جنبش، سکونت اور آوازیں بھی ساتھ ہوتی ہیں۔ اسی لیے ہر صبح میری کھڑکی کے آس پاس کبوتروں کی غٹرغوں، پروں کی پھڑپھڑاہٹ اور پرواز کی ہلکی سی سرسراہٹ سنائی دیتی ہے۔ ان کبوتروں نے میرے کمرے کی کھڑکی کے ذرا اوپر اپنا آشیانہ بنا رکھا ہے۔ یہ صرف میرے گھر کی بات نہیں، لگ

Read more

احساس مت دلائیں

وہ ہلکی سی گھبراہٹ کے ساتھ اٹھا، حوصلہ جمع کیا اور ڈرائنگ روم کا دروازہ کھولا۔ اندر داخل ہوا اور خاموشی سے دروازہ بند کر دیا۔ دھیمے مگر بھاری قدموں کے ساتھ وہ مہمانوں کی طرف بڑھا جو اُس کا انتظار کر رہے تھے۔ جو پہلے ہلکی پھلکی گفتگو ہو رہی تھی، اچانک ایک گہری خاموشی میں بدل گئی۔ مہمانوں کی سوالیہ نظریں اور کمرے میں چھا گیا سنّاٹا، ماحول کو مزید گھٹن زدہ بنا رہا تھا۔ والد نے اسے

Read more

معذور افراد کی زندگی: ہماری بے حسی کا آئینہ

ایک دن ایک شخص، کسی دوسرے کا ہاتھ تھامے، میرے دفتر میں داخل ہوا۔ ساتھ آنے والے نے کرسی کھینچ کر اُسے بٹھایا اور میری طرف دیکھ کر بولا: ”سر، اِن کا مسئلہ حل کر دیں۔“ میں نے نرمی سے پوچھا، ”جی بھائی، کیا مسئلہ ہے؟“ مگر میری آواز اُس تک نہ پہنچ سکی۔ کیونکہ وہ سن نہیں سکتا تھا۔ اُس کے ساتھی نے آہستہ سے بتایا: ”انہیں اونچا سنائی دیتا ہے اور ان کی بینائی مکمل طور پر ختم

Read more

میری سلطنت، میرا اختیار، میں ایسا، باقی سب ویسے

”یہ ’ملم‘ کیا ہوتا ہے؟“ سات سال کی بچی کو سامنے کھڑے شخص نے کرخت لہجے میں جھڑک دیا۔ اُس کی آنکھیں گھور رہی تھیں، جیسے بچی نے کوئی بڑا جرم کر دیا ہو۔ بچی گھبرا گئی، اُس کا ننھا سا دل اور بھی سہم گیا۔ وہ ابھی کچھ ہی دن پہلے ایک چھوٹے شہر سے لاہور آئی تھی۔ نئی جگہ، نئے لوگ، نئی زبان۔ سب کچھ اُس کے لیے نیا تھا۔ وہ صرف ایک لفظ کا فرق سمجھنے کی

Read more

ڈنگ ٹپاؤ پالیسی

رات کا تقریباً ڈیڑھ بج رہا تھا۔ صبح ہمارا امتحان تھا، اس لیے ہم تیاری میں مگن تھے۔ اچانک گلی سے ایک ٹرک گزرا، جس کے فوراً بعد بجلی چلی گئی اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔ شاید ٹرک نے نیچے لٹکتی ہوئی کسی تار کو توڑ دیا تھا۔ وسائل کی کمی اور روشنی کا کوئی متبادل نہ ہونا، امتحان کے دباؤ میں مزید اضافہ کر رہے تھے۔ اچانک خیال آیا کہ قریب ہی واپڈا کے دفتر میں شکایت درج

Read more

بھائی، اسٹینڈ اوپر کر لیں

بھائی، اسٹینڈ اوپر کر لیں! یہ جملہ ہر وہ شخص بخوبی سمجھتا ہو گا جو موٹر سائیکل چلاتا ہے۔ اگر نہیں بھی، تو کسی چلتی بائیک کا اسٹینڈ نیچے دیکھ کر ضرور یہ الفاظ پوری ذمہ داری سے کہے ہوں گے۔ یہ ہمارے عوام کی طرف سے دی جانے والی بلا معاوضہ فلاحِ عام کی سہولت ہے۔ جو اکثر بائیک چلاتے وقت سننے کو ملتی ہے، اگر خدانخواستہ آپ کا اسٹینڈ بھی نیچے رہ گیا ہو۔ یہ چھوٹی سی بات

Read more

بے لگام وقت

پچھلے 6 سے 8 سال کب گزر گئے، پتہ ہی نہیں چلا۔ ایسا لگتا ہے جیسے کل ہی میں نے سرکاری نوکری شروع کی تھی، اور اب ساتواں سال شروع ہو چکا ہے۔ وقت جیسے پروں پر اُڑ گیا، یا شاید ہم اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ اس کے گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ بچپن میں وقت سکون سے گزرتا تھا کیونکہ ہم ہر چھوٹی چیز کا لطف اٹھاتے تھے، ہر لمحے کو محسوس کرتے تھے۔ پہلے تو

Read more