بلوچستان کی بند شاہراہیں، اقتصادی بحران سے انسانی المیے تک
بلوچستان، وہ خطہ جہاں پہاڑوں کی گونج میں صدیوں سے تاریخ رقم ہوتی آئی ہے۔ جہاں ہر پتھر کے نیچے ایک کہانی دفن ہے، ہر راستہ ایک داستان کا تسلسل ہے۔ لیکن ان دنوں بلوچستان کی دو اہم شاہراہیں۔ این 25 اور این 40۔ محض بند نہیں، خاموش احتجاج کا منظرنامہ بنی ہوئی ہیں۔ دس دن سے زائد ہو چکے، جب سے یہ سڑکیں ایک اجتماعی بے بسی کی علامت بن کر رُکی ہوئی ہیں، اور ان کے ساتھ ہی صوبے کی اقتصادی نبض بھی تھم گئی ہے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی خواتین رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد لانگ مارچ کا آغاز ہوا۔ مظاہرین نے کوئٹہ کی طرف پیش قدمی کی، لیکن ریاستی حکمتِ عملی نے ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ لکپاس کے مقام پر دھرنا دیا گیا، اور حکومت نے بھی اپنی قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کنٹینرز کھڑے کیے، خندقیں کھودیں اور شاہراہیں بند کر ڈالیں۔ یہ سب کچھ ہوا، مگر قیمت کس نے چکائی؟ وہ تاجر، وہ ٹرانسپورٹر، وہ مسافر، جن کا ان شاہراہوں سے رشتہ زندگی کا ہے۔
کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے صدر ایوب مریانی کا کہنا ہے کہ صرف ڈیمریج چارجز کی مد میں تاجروں کو روزانہ ایک لاکھ بیس ہزار امریکی ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ پاکستانی روپوں میں یہ تقریباً تین کروڑ چھتیس لاکھ روپے بنتے ہیں۔ اور یہ صرف کنٹینرز کے کھڑے ہونے کا نقصان ہے۔ باقی مالی نقصانات، خراب ہوتا مال، ضائع ہونے والا وقت، اور لوگوں کی زنگ آلود ہوتی امیدیں اس کے علاوہ ہیں۔
ایران سے پاکستان کو ملانے والی این 40 شاہراہ پر 1200 سے زائد مال بردار گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں، جن میں پیٹرولیم مصنوعات سے لدے 847 باؤزرز بھی شامل ہیں۔ ہر باؤزر روزانہ سو ڈالر کے اضافی چارجز جھیل رہا ہے۔ یہ صرف تاجر نہیں، پاکستان کے ایندھن کا نظام بھی متاثر ہو رہا ہے۔
اسی طرح، کوئٹہ کے این ایل سی ڈرائی پورٹ پر ایران جانے والی آلو اور چاول سے بھری 200 گاڑیاں کھڑی ہیں۔ یہ سامان جلد خراب ہو جانے والا ہے، اور مقامی مارکیٹ میں اس کی طلب نہ ہونے کے سبب یہ مال بھی بیکار ہونے کے قریب ہے۔ یہاں تجارت صرف منافع نہیں، ایک خواب ہے۔ جو ہر گزرتے دن کے ساتھ خاک ہوتا جا رہا ہے۔
بلوچستان کی سب سے بڑی ٹرانسپورٹ کمپنی کے مالک حاجی مظفر علی لہڑی کا کہنا ہے کہ بدامنی نے پہلے ہی کاروبار کو ڈگمگا دیا تھا، لیکن گزشتہ دس دنوں سے تو جیسے مکمل طور پر سانس روک دی گئی ہو۔ مستونگ سے گزرنے والا راستہ نہ صرف سب سے مختصر تھا، بلکہ سب سے اہم بھی۔ اب گاڑیاں مجبوراً سبی، جیکب آباد، سکھر اور اندرونِ سندھ کے طویل اور مہنگے راستے اختیار کر رہی ہیں، جس میں 200 لیٹر اضافی ڈیزل خرچ ہوتا ہے، اور کرایہ بھی دو ہزار روپے بڑھ چکا ہے۔ مسافر بھی اب اس راستے پر جانے سے گریزاں ہیں۔
حاجی ملک شاہ جمالدینی، آل کوئٹہ۔ تفتان بس یونین کے صدر، کی باتیں دل چیر کر رکھ دیتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر بس، جو کبھی زندگی سے بھری ہوتی تھی، اب خاموش کھڑی ہے۔ ان بسوں پر کروڑوں کا سرمایہ لگا ہوا ہے۔ مالکان نے قرض لے کر بسیں خریدیں، اور اب ان کی ماہانہ قسطیں، بس اڈے کے کرائے، گاڑیوں کی مرمت اور عملے کی تنخواہیں ایک پہاڑ بن چکی ہیں، جو ہر دن کے ساتھ بھاری ہوتا جا رہا ہے۔
یہ راستے صرف تجارت کے لیے نہیں، انسانیت کے لیے کھلتے تھے۔ نوشکی، دالبندین، نوکنڈی، تفتان، ماشکیل اور خاران جیسے دور دراز علاقوں کے لوگ انہی سڑکوں سے علاج، تعلیم اور روزگار کے لیے کوئٹہ آتے تھے۔ اب یہ تمام لوگ بے یار و مددگار ہیں۔ مریض وقت پر اسپتال نہیں پہنچ پا رہے، طلبہ امتحان میں نہیں بیٹھ پا رہے، مزدور روزی کے لیے شہر نہیں جا پا رہے۔ یہ محض سڑکیں نہیں بند ہوئیں، یہ زندگی کے دروازے بند ہوئے ہیں۔
بلوچستان کی سرزمین ہمیشہ سے محرومیوں کی آماجگاہ رہی ہے۔ لیکن اب جب کہ حالات مزید گمبھیر ہو رہے ہیں، ریاست کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ احتجاج کو طاقت سے دبانا مسئلے کا حل نہیں۔ دھرنے کی جگہ بات چیت ہو، سڑکوں کی بندش کی جگہ سمجھوتے کی راہ نکالی جائے۔ بصورتِ دیگر، یہ نقصان صرف مالی نہیں، اعتماد کا بھی ہو گا۔ اور اعتماد ایک ایسا سرمایہ ہے، جو اگر کھو جائے تو پوری ریاست کا وجود کمزور ہو جاتا ہے۔
یہ وقت ہے کہ حکومت فوری اقدامات کرے۔ شاہراہیں کھولے، مذاکرات کی میز سجے، اور ایسا حل نکالا جائے جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔ بلوچستان کے لوگ مزید محرومی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ان کی سڑکیں کھلیں گی تو روزگار چلے گا، تعلیم کا پہیہ گھومے گا، اور علاج کی سہولت پہنچے گی۔ ورنہ یہ بند راستے صرف ٹریفک کا مسئلہ نہیں رہیں گے۔ یہ ایک خاموش بغاوت بن جائیں گے۔
یہ شاہراہیں محض سڑکیں نہیں۔ یہ بلوچستان کے دل کی دھڑکن ہیں۔ انہیں بحال کرنا زندگی کو بحال کرنا ہے۔


