پاک سرزمین شاد باد۔ آخری قسط


اگر ان پیشن گوئیوں کی صحت پر شک نہ بھی کیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کا کوئی مواد ان کی اپنی مشہور کتاب India wins freedom میں کیوں نہیں پایا جاتا، نہ اولین متن میں اور نہ ان کی وصیت کے تحت تیس سال بعد شاملِ کتاب ہونے والے اضافی صفحات میں۔ اس کے برعکس انہوں نے لکھا ”دس سال بعد میں پیچھے مڑ کے دیکھتا ہوں تو تسلیم کرتا ہوں کہ مسٹر جناح نے جو کچھ کہا اس میں وزن تھا“

بی بی سی اردو پہ عارف محمد خان نے انہی پیشن گوئیوں کو موضوع بنا کے ایک مضمون 2022 02۔ 22 کو لکھا اور اس ضمن میں وہ بھی کوئی حوالہ نہ دے پائے۔

ایک سوال یہ بھی بنتا ہے کہ ایسی بے مثل فہم و فراست والی شخصیت کی پیشن گوئیاں پاکستانی مسلمانوں کے مستقبل تک ہی کیوں محدود رہیں، ہندوستانی مسلمانوں کے خواب تو ہم سے بڑھ کر چکنا چور ہوئے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ بڑے بڑے نام جنہوں نے تب ہندوستان میں ٹھہرنے کا فیصلہ کیا انہوں نے اپنے فیصلے کو بدلتے ہوئے بعد کے سالوں کے دوران اس ہجرت گاہ کا رخ کیا۔ یہاں انہیں سکھ اور سکون حاصل ہوا لیکن زندگی نے سنورنے میں بڑا وقت لیا۔ گوشت پوست کے انسان ہونے کے کارن کبھی کبھی ایسی کیفیت سے بھی گزرے۔

تمام خانہ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات
سب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں

پاکستان کا قیام دنیا کے نقشے میں رونما ہونے والی ان دسیوں تبدیلیوں میں سے ایک تھا جو بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں شروع ہو کر اس صدی کے اختتام تک جاری رہیں۔ لہذا بس اس تبدیلی کو روگ بنا کر، دل ہے کہ مانتا نہیں، کے الاپ کو حرزِ جاں بنا لینا سمجھ سے بالا ہے۔

سیانوں کا اصرار ہے کہ یہ انٹرویو شورش کاشمیری کو دیا گیا۔ کسی نے بہرحال یہ راز افشا نہیں کیا کہ یہ انٹرویو شورش کاشمیری کی کس کتاب میں ہے اور اگر ”چٹان“ میں دیکھا جا سکتا ہے تو اس کے کس شمارے کو دیکھنا ہو گا۔

تقسیمِ ہند کو روگ بنانے والے ان صاحبانِ علم سے جو واہگہ کے اس پار بستے ہیں یہ سوال بھی بنتا ہے کہ اسی تقسیم کے نتیجے میں بھارت کے مشرق میں بھی اس کا ایک حصہ جدا ہوا تھا جو اب بنگلہ دیش کہلاتا ہے۔ وہاں تو ایسی کوئی بھیرویں کبھی سننے کو نہیں ملی اور نہ ہی پاکستان سے الگ ہونے کے بعد انہوں نے تقسیم کی ”غلطی“ کا مداوا بھارت میں ضم ہو کرنے کی کبھی بات تک کی۔

آزاد بہت معتدل مزاج راہنما تھے۔ جناح جن سے ان کا ایسا بڑا سیاسی اختلاف رہا اور جنہوں نے انہیں طنزاً کانگریس کا شو بوائے کہا تھا ایک بار ایران سے واپس لوٹتے ہوئے کراچی میں مختصر قیام کے وقت قائد کے مزار پر فاتحہ کے لیے گئے۔ یہ 19 جولائی 1951 کا واقعہ ہے جس پہ رئیس امروہی نے جنگ میں یہ قطعہ لکھا۔

جو حادثہ بھی نہ ہو جائے آج کل کم ہے
ہمارا عہد ہے اک عہدِ انقلاب ایجاد

بھلا یہ کس کی توقع تھی قبل ازیں اے دوست
مزارِ قائدِ اعظم، ابوالکلام آزاد

بی بی سی کی جس رپورٹ کے ذکر سے میں نے اپنے مضمون کا آغاز کیا اس پہ تبصرہ کرتے ہوئے کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والا سلوک بھی تو خرابی میں کسی طور کم نہیں۔ یہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں لیکن یہ یاد رہے کہ یہاں اس طرح کے واقعات کو سرکاری سرپرستی کبھی بھی حاصل نہیں رہی اور ہر ایسے قابلِ افسوس واقعے کے موقع پر حکومت ہمیشہ ان مظلوموں کی طرفدار رہی اور فراخدلی سے ان کے نقصان کی تلافی بھی کرتی رہی۔

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایسی تمام زیادتیاں مسلمان کہلانے والے وہ گمراہ کلمہ گو کرتے رہے جو اس وہم کا شکار ہوتے ہیں کہ اپنی آخرت سنوارنے کی خاطر کافروں کو زندہ رہنے کا حق نہ دینا ازبس ضروری ہے۔

یوں وہ مذہب کو آڑ بنا کر ظلم ڈھاتے ہیں اور ان کا شکار بننے والے ایسے غریب لاچار اور بے بس لوگ بنتے ہیں جن کی کل کائنات ایک عارضی سی نوکری اور چھوٹا سا کچا پکا مکان ہوتا ہے جو آناً فاناً راکھ کا ڈھیر بنا دیا جاتا ہے۔ ادھر یہ بے بس لوگ ہونٹوں کو سی کے ایسے چپ ہوتے ہیں کہ ایسی کوئی فریاد بھی لبوں پہ نہیں آ پاتی۔

رستوں کو دھواں شہروں کو سنسان نہ کرتے
کرنا ہی تھا یہ کام تو انسان نہ کرتے
کچھ دیر ہمیں رہنے دیا ہوتا گھروں میں
کچھ دیر ہمیں بے سرو سامان نہ کرتے۔

Facebook Comments HS