پاکستان اور جمہوریت
کسی جمہوری معاشرے میں سیاسی جماعتیں جمہوری نظام کے استحکام کا باعث ہوتی ہیں جن جمہوری معاشروں میں سیاسی جماعتیں کمزور ہو جائیں وہاں جمہوریت جڑیں نہیں پکڑ سکتی ہوا کے ہلکے جھونکے سے جمہوریت کا پودا جڑ سے اکھڑ کر زمین بوس ہو جاتا ہے اسی طرح جن ممالک میں جمہوریت جڑیں مضبوط بنا لیتی ہے وہاں آندھی یا طوفان بھی جمہوریت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ بد قسمتی سے پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے ہے جہاں پچھلے 77 سال سے جمہوریت کو استحکام حاصل ہوا اور نہ ہی کسی نے جمہوری نظام کو چلنے دیا۔ آئے روز حکومتوں کی اکھاڑ چھاڑ اور نظام حکومت چلانے کے لئے نئے نئے تجربات نے پاکستان کے ”فائبر“ کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا۔ پاکستان میں پارلیمانی، صدارتی نظام، مارشل لاء، ہائبرڈ، نیم جمہوری الغرض ہر قسم کے نظام حکومت کا مزہ چکھا گیا ہے کبھی ملک میں مکمل جمہوری نظام رائج کرنے کا تجربہ کیا جاتا ہے کبھی پورے نظام پر اسٹیبلشمنٹ حاوی ہو جاتی ہے مختصر عرصہ کے سوا ہمارا بیشتر وقت فوجی و نیم فوجی حکومتوں کے سائے میں ہی گزرا ہے اگر یہ کہا جائے کہ حکومت سازی میں سارا عمل دخل اسٹیبلشمنٹ کا ہوتا ہے تو یہ بھی یک طرفہ رائے ہے جب سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ سے مل کر پورے نظام کی بساط لپیٹ دیں اور اقتدار کے حصول کے لئے ہر جائز و ناجائز طریقہ اختیار کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کریں تو پھر جب ان کو اسی ”طریقہ واردات“ کے استعمال سے اقتدار سے محروم کر دیا جائے تو شور شرابا کرنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ 2014 ء میں پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کو اقتدار سے نکال کر عمران خان کو بر سر اقتدار لانے کی سازش کی جس سے نہ صرف جمہوری نظام عدم استحکام کا شکار ہو بلکہ پاکستان کی ترقی کا پہیہ رک گیا بالآخر تین سال کی تگ و دو کے بعد نواز شریف کی حکومت ختم کروا کر ”عمران خان پراجیکٹ“ کے تحت ہائبرڈ نظام کے تحت حکومت چلانے کا ناکام تجربہ کیا گیا جس کے نتیجے میں پاکستان دیوالیہ ہوتے ہوتے بچا۔
عمران خان کی سب سے بڑی سیاسی غلطی اسٹیبلشمنٹ سے تصادم کی پالیسی اپنانا ہے تصادم کی پالیسی نے عمران خان کو زیرو سے ہیرو تو بنا دیا لیکن اس پالیسی نے اس کے لئے اقتدار کے راستے مسدود کر دیے ہیں۔ عمران خان پچھلے تین سال سے دیواروں سے ٹکریں مار رہا ہے لیکن اس کی غیر دانشمندانہ سیاسی حکمت عملی نے پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اس قدر فاصلے بڑھا دیے ہیں کہ ان کے ”سروائیول“ کے امکانات کم ہو گئے ہیں کوئی معجزہ ہی عمران خان کو آنے والے دنوں میں ایک بار پھر اقتدار کے منصب پر فائز کر سکتا ہے۔ عمران خان کے حق میں ایک ہی بات کہی جا سکتی ہے کہ ”اینٹی اسٹیبلشمنٹ“ پالیسی نے انہیں مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے لہذا وہ اپنی رہائی کی ڈیل میں مزاحمت کر رہے ہیں۔ وہ اپنی رہائی کے لئے دو تین بار سٹریٹ پاور استعمال کرنے کا تجربہ بھی کر چکے ہیں لیکن ان کی تنہا جماعت اسٹیبلشمنٹ سے لڑنے کی سکت نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے وہ رہائی کے لئے ایک طرف دباؤ کا حربہ استعمال کرتے ہیں تو دوسری طرف منت سماجت اور ترلے کرنے پر آ جاتے ہیں اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں علی امین گنڈاپور اور اعظم سواتی سمیت پی ٹی آئی کے کئی رہنما اپنی بساط کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کے دل میں عمران خان کے لئے نرم گوشہ پیدا کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں پچھلے دو سال سے عمران خان کے جیل میں رہنے سے پی ٹی آئی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں پارٹی میں گروپ بندی اور شکست و ریخت کا عمل شروع ہو گیا ہے عمران خان سے ملاقات پر پارٹی رہنماؤں کے درمیان لڑائی زبان زد عام ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ پی ٹی آئی کے ”عقابوں اور فاختاؤں“ کے درمیان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے جنگ جاری ہے پچھلے دو سالوں سے پی ٹی آئی کے جو عناصر اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ میں ہیں اب وہ بال و پر نکالنے لگے ہیں انہیں پی ٹی آئی میں فساد برپا کرنے کا ٹاسک دے دیا گیا ہے۔
بظاہر پی ٹی آئی عمران خان کی قیادت میں متحد نظر آتی ہے لیکن عملی طور پر کے پی کے میں پی ٹی آئی ہزارہ، پشاور اور ڈیرہ اسماعیل گروپوں میں منقسم ہے کچھ ایسی ہی صورت حال پنجاب میں ہے پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک بنانے کے لئے گراؤنڈ تیار ہو گئی ہے کسی وقت بھی فارورڈ بلاک بنایا جا سکتا ہے۔ ممکن ہے عوام میں عدم مقبولیت کا خوف پی ٹی آئی کے منحرفین کے لئے فارورڈ بلاک بنانے کی راہ میں حائل ہو لیکن پی ٹی آئی میں شکست و ریخت کا عمل پارٹی کی دباؤ کی قوت کو کم کرنے کا باعث بنا ہے۔ پی ٹی آئی کی وکلاء قیادت نے عوام کو عیدالفطر کے بعد اپوزیشن کا گرینڈ الائنس بنانے کی نوید سنائی تھی لیکن تاحال پی ٹی آئی مولانا فضل الرحمٰن کے مطالبات کا جواب نہیں دے سکی اس لئے فی الحال ملک گیر تحریک چلانے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا البتہ اس دوران مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ پی ٹی آئی کے قائدین کی ”سیاسی بیٹھکوں“ کے انعقاد میں تیزی آ سکتی ہے ممکن ہے عمران خان کی رہائی کے لئے پس پردہ کوششیں کرنے والے عناصر عمران خان کو ”9 مئی 2023 ء کے واقعات پر عام معافی مانگنے پر رضا مند کر لیں اور وہ اسٹیبلشمنٹ کے سامنے سرنڈر کر دیں تو ان پر قید تنہائی کی صعوبتوں میں کمی آ سکتی ہے۔
ایک طرف عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پس پردہ رابطوں کا ”چرچا“ ہے تو دوسری طرف عدلیہ کے حکم کے باوجود جیل انتظامیہ نے عمران خان کے قریبی عزیز و اقارب اور وکلاء کی ملاقاتیں کرانے کا ”کھیل تماشا“ لگا رکھا ہے جیل انتظامیہ ”دودھ میں مینگنیں“ ڈال کر دیتی ہے سارا سارا دن عمران خان کی بہنوں کو ملاقات کے انتظار میں بٹھائے رکھنے سے جیل کے باہر دھرنا دینے کی نوبت آ گئی ہے عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری اور رہائی کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے عمران خان سے ملاقات کے لئے بار بار وکلاء، علیمہ خان اور ان کی بہنوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دینا پڑتی ہے عمران خان کی فیملی کے ساتھ یہ ناپسندیدہ کھیل جاری ہے اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عمران خان کے اعصاب کا امتحان لیا جا رہا ہے اور انہیں شکست و ریخت کا شکار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے بظاہر عمران خان اندر سے ٹوٹا نظر نہیں آ رہا لیکن اسٹیبلشمنٹ تک رسائی کا دعویٰ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ”ڈیل“ کے نتیجے میں رہائی کے امکانات روشن ہیں اگر کسی وقت عمران خان کو کچھ ریلیف مل جائے تو یہ اچنبھے کی بات نہیں ہو گی۔

