کے کے عزیز کا کافی ہاؤس
کے کے عزیز کی کتاب کافی ہاؤس لاہور کی ادبی اور سماجی تاریخ کی ایک اہم دستاویز ہے۔ وہ اپنی خود نوشت کا دوسرا حصہ لکھنے لگے تو کافی ہاؤس پر ان کا باب اس حد تک پھیلتا چلا گیا کہ اس نے کتاب کی شکل اختیار کر لی۔ چنانچہ انہوں نے اسے The Coffee House of Lahore: A Memoir، 1942۔ 57 کے عنوان سے علیحدہ شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ کے کے عزیز کتاب کے دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ ایک نسل سے زیادہ عرصہ تک یعنی لگ بھک 1935 ء سے 1970 ء کے دوران لاہور کا کافی ہاؤس شمالی ہندوستان اور بعد میں پاکستان کا علمی، ادبی اور فکری مرکز تھا۔ لاہور کا کافی ہاؤس علمی تبادلۂ خیال اور سرگرمی کا ایک ایسا اچھوتا مرکز تھا جس نے مصنفین، شعراء، قانون دانوں، سیاسی کارکنوں، اور صحافیوں کو پیدا کیا اور عام افراد پر بھی اپنا اثر ڈالا۔ ان کا خیال ہے کہ اگر اس کتاب میں مذکور افراد کو ہماری تاریخ سے خارج کر دیا جائے تو مشکل سے ہی کوئی فخر کرنے یا یاد کرنے کے لیے بچے گا۔ ان کے بقول جب کبھی بھی لاہور کی فکری، ثقافتی اور ادبی تاریخ لکھی جائے گی تو وہ بہت سے علمی، سیاسی، ادبی، قانونی، صحافتی اور آرٹسٹس کے حلقے جو کافی ہاؤس میں ملتے اور بات چیت کرتے اس کی تفصیلات ضرور بیان کرنی پڑیں گی اور ان کے پھیلتے ہوئے اثر کا احاطہ کرنا پڑے گا۔ چونکہ اب تک اس موضوع پر کچھ نہیں لکھا گیا اس لیے وہ اپنی یادداشت کی مدد سے کچھ نہ کچھ ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں۔
وہ کتاب کا آغاز دنیا میں کافی اور کافی ہاؤسز کی تاریخ سے کرتے ہیں۔ کافی کا استعمال ترکی سے شروع ہوا اور پھر یہ پورے یورپ میں مقبول ہوتی چلی گئی۔ 1652 ء میں لندن میں پہلا کافی ہاؤس آکسفورڈ کافی ہاؤس کے نام سے کھولا گیا اور 1700 ء تک لندن میں ان کی تعداد دو ہزار تک پہنچ چکی تھی۔ Tatler اور Spectator کے ایڈیٹرز ایڈیسن اور سٹیل نے اپنی تحریروں میں کافی ہاؤس کو ہم عصر سماجی منظر میں ”ایک مرغوب، ضروری اور مراعات یافتہ مردانہ جگہ“ کے طور پر پیش کیا۔ یورپ کے سیلون کلچر نے کافی کو اختیار کر لیا اور یہ کافی ہاؤسز علمی، ادبی اور ثقافتی مرکز بنتے چلے گئے۔ بڑے کاروباری مراکز اور اداروں نے کافی ہاؤسز کھولے اور اس کلچر کو خوب آگے بڑھایا۔ یوں پورے یورپ میں کافی ہاؤسز کا سلسلہ پھیلتا چلا گیا۔
کے کے عزیز کے خیال میں 1920 ء سے لاہور ادبی اور ثقافتی مرکز کے طور پر ابھرا اور شمالی ہندوستان کا ثقافتی لحاظ سے سب سے ترقی یافتہ شہر بن گیا۔ شہر میں بڑی تعداد میں اردو کے ادبی رسائل، اخبارات اور کتابیں چھپتی تھیں اور انگریزی کے دو بہترین اخبار شائع ہوتے تھے۔ میو اسکول آف آرٹس ترقی کی منزلیں طے کر رہا تھا۔ ینگ مین کرسچن ایسوسی ایشن فعال تھی اور اس کی عمارت اور ہال ادبی اور سماجی تقریبات کے لیے ہر کمیونٹی استعمال کرتی تھی۔ گورنمنٹ کالج ایک ممتاز فکری مرکز تھا جس کے اساتذہ کا احترام کیا جاتا تھا اور طلبہ جدید مغربی تعلیم کے بہترین نمائندے سمجھے جاتے تھے۔ اورینٹل کالج کی پہچان اعلیٰ درجہ کی تحقیق تھی۔ گورنمنٹ کالج اور دیال سنگھ کالج کے سٹیج پر پیش کیے جانے والے سالانہ ڈراموں کا شہر کی اشرافیہ انتظار کرتی تھی۔ ممتاز صحافی اور کالم نگار اخبارات کے لیے لکھتے تھے اور ادبی محافل کی رونق تھے۔ شہر میں فیض احمد فیض، ن م راشد، حفیظ جالندھری اور اختر شیرانی کی شاعری گونجتی تھی۔ پطرس بخاری، عبدالمجید سالک، ایم ڈی تاثیر، حفیظ جالندھری، صوفی تبسم، سید امتیاز علی تاج اور ہری چند اختر کا نیازمندانِ لاہور، ایک ایسا طلسماتی حلقہ تھا جس نے اردو ادب کی دنیا میں ہلچل پیدا کی۔ متمول مغرب زدہ اشرافیہ جمخانہ اور کاسموپولیٹن کلب میں شراب پیتی، رقص کرتی اور گفتگو میں مصروف ہوتی۔ دیسی اشرافیہ عرب ہوٹل، نگینہ بیکری، محکم دین کے چائے خانہ، حلقۂ اربابِ ذوق، انڈیا ٹی ہاؤس اور انڈیا کافی ہاؤس میں نظر آتی۔ رابندر ناتھ ٹیگور جیسے برصغیر کے قابل ترین ذہن آتے اور ایس پی ایس کے ہال میں مخاطب ہوتے۔ براڈلا ہال میں سیاسی بحثیں اور تقاریر ہوتیں۔ امرتا شیر گل مصوری کرتی اور بی سی سنیال مجسمہ سازی۔ ریگل اور پلازا میں بہترین برطانوی اور امریکی فلمیں دکھائی جاتیں۔ اندرونِ شہر کی بیٹھکیں نوجوان موسیقاروں اور مغنیوں کی تربیت کرتیں اور موسیقی کے شائقین کو مدعو کیا جاتا کہ وہ آئیں اور کلاسیکی موسیقی سنیں۔
کے کے عزیز لکھتے ہیں کہ تمام مہذب شہروں کی طرح لاہور میں بھی ہر طرح کے ریستوران تھے جہاں لوگ تفریح، سماجی میل ملاپ اور علمی بات چیت کے لیے اکٹھے ہوتے تھے۔ آج جہاں آواری ہے وہاں نیڈو ہوٹل تھا، فلیٹیز اسمبلی ہال کے پیچھے اور آج جہاں واپڈا ہاؤس ہے وہاں ایک کونے پر میٹرو تھا۔ شاہ دین بلڈنگ کے دو بڑے کمروں میں لورنجز اور اس کے قریب ہی سٹیفل تھا۔ ریگل سینما کی گزرگاہ کے ساتھ اسٹینڈرڈ کی بڑی عمارت تھی جو متوسط طبقہ کا ریستوران تھا۔ لاہور کے مغربی آخری کونے پر متوسط اور نسبتاً پسماندہ طبقے کے کئی ہوٹل اور ریستوران تھے۔ ان میں سب سے ممتاز انڈیا کافی ہاؤس تھا جسے انڈیا کافی بورڈ نے 1930 ء کی دہائی میں کافی کو مقبول بنانے کے لیے قائم کیا تھا۔ اس کے ساتھ چائنیز لنچ ہوم اور سو گز کے فاصلے پر انڈیا ٹی ہاؤس تھا۔ اس کے تقریباً ساتھ ہی وائی ایم سی اے تھا جہاں حلقۂ ارباب ذوق کا ہر ہفتے اجلاس منعقد ہوتا تھا۔ اسلامیہ کالج کے دروازے کے بالمقابل ریلوے روڈ پر عرب ہوٹل، انارکلی میں دہلی مسلم ہوٹل اور انارکلی اور نیلا گنبد کے کارنر پر نگینہ بیکری ایسی ”مشرقی“ جگہیں تھیں جو صحافیوں، شاعروں اور ادیبوں کے ملے جلے ہجوم کو اپنی طرف کھینچتی تھیں۔ یہ کلچر مسلمانوں اور غیر مسلموں کا مشترکہ کلچر تھا۔ کے کے عزیز ماتم کناں ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد مسلمان تذکرہ نگاروں اور مورخین نے غیرمسلموں کے ناموں اور کام کا ذکر نہیں کیا تاکہ یہ ظاہر ہو کہ یہ کلچر مسلمانوں کا ہی پیدا کردہ تھا۔ حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ وہ بہت سے ایسے غیر مسلموں کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے لاہور میں اردو کتابوں کی اشاعت کی اور اردو زبان کو فروغ دیا۔
کے کے عزیز کا خیال ہے کہ لاہور کی ثقافتی تاریخ عرب ہوٹل اور کافی ہاؤس کے ذکر کے بغیر نہیں لکھی جا سکتی۔ عرب ہوٹل کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اگر لاہور کی فکری تاریخ لکھی جائے تو اچھا خاصہ حصہ صرف اس ہوٹل کی تاریخ پر ہو گا۔ لیکن کتاب میں ان کا اصل موضوع کافی ہاؤس ہے جہاں وہ 1942 ء سے 1957 ء 13 سال تک ہر روز چار سے پانچ گھنٹے اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ وہ کافی ہاؤس میں بیٹھنے والے 212 لوگوں کی فہرست دیتے ہیں جو تقریباً ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھتے تھے لیکن چار گروہ نمایاں تھے صحافی، وکیل، ادیب اور آرٹسٹ۔
کتاب کے پہلے تمہیدی اور آخری باب کے علاوہ ہر باب کا عنوان رول آف آنر ہے جس میں کے کے عزیز ان شخصیات کا خاکہ پیش کرتے ہیں جو کافی ہاؤس میں بیٹھا کرتے تھے۔ وہ ان ابواب کو رول آف آنر کا نام اس لیے دیتے ہیں کیونکہ وہ سب ان کے دوست تھے اور ان میں سے ہر ایک نے کچھ نہ کچھ قابل قدر اور تعریف کے قابل کام کیا تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ وہ سب نیکی کے مجسمے تھے اور انہوں نے کبھی کچھ غلط نہیں کیا۔ وہ کتاب میں ان کی بشری کمزوریوں پر بھی بات کرتے ہیں۔ کتاب میں وہ 52 افراد کے طویل اور مختصر خاکے لکھتے ہیں جن کے نام یہ ہیں : صفدر میر، ظہیر کاشمیری، یوسف ظفر، قیوم ظفر، مختار صدیقی، ناصر کاظمی، باری علیگ، اے بی ایس جعفری، حبیب جالب، شیر محمد اختر، فیروز الدین منصور، محمد حسن لطیفی، عبداللہ بٹ، حمید اللہ خان برکی، ریاض قادر، محمد دین تاثیر، چراغ حسن حسرت، سراج الدین ظفر، جمیل الزمان، سردار انور خان، پروفیسر محمد سرور جامعی، عزیز بیگ، خواجہ حسن (کے ایچ) خورشید، شیخ خورشید احمد، سید عابد علی عابد، حفیظ ہوشیار پوری، عبدالقدیر نعمانی، انور جلال شمزا، معین نجمی، اے ڈی اظہر، شاکر علی، شیخ احمد، ایف ای چوہدری، بابا پیارے لال بیدی، فضل الرحمان، رؤف ملک، وحید الزمان، عبدالحمید، مہدی قزلباش، عبدالسلام، الطاف گوہر، تجمل حسین، امین اللہ خان، عاشق حسین بٹالوی، اعجاز بٹالوی، ساحر لدھیانوی، امیر حیدر خان، فضل الہٰی قربان، مبارک صغیر، جمیل الدین حسن، حمید اختر اور عبداللہ ملک۔
کے کے عزیز کا کمال یہ ہے کہ اگرچہ ان کا موضوع کافی ہاؤس ہے لیکن اس کو وہ ایک ایسا آئینہ بناتے ہیں جس میں لاہور کی پوری سماجی اور ادبی زندگی کا عکس نظر آتا ہے۔ ان کا قلم انہیں صرف لاہور تک بھی محدود نہیں رکھتا بلکہ کبھی وہ خرطوم اور کبھی لندن اور کیمبرج کی قاری کو سیر کراتے ہیں۔ ان کے بیان کی وسعت اور قلم کی شگفتگی پڑھنے والے کو کتاب کے ساتھ جوڑے رکھتی ہے۔ دل چسپ واقعات، گہرا مشاہدہ اور عمیق تجزیہ ان کے بیان کی خوبیاں ہیں۔
اگرچہ کتاب میں سیاسی واقعات کا ذکر نہ ہونے کے برابر ہے لیکن ایک واقعہ کے کے عزیز کی قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ ملاقات کا ہے۔ نومبر 1942 ء میں انہوں نے اخبار میں یہ خبر پڑھی کہ جناح صاحب اگلے دن شام کو لارنجز میں سر سکندر حیات سے ملاقات کریں گے۔ ان دنوں ان کا پسندیدہ مشغلہ اہم شخصیات کا آٹو گراف لینا تھا۔ چنانچہ وہ بھی اپنی آٹو گراف بک لے کر لورنجز کے سامنے پہنچ گئے۔ خاصے انتظار کے بعد قائداعظم ریستوران سے باہر نکلے، کار میں بیٹھنے لگے تھے کہ کے کے عزیز نے اپنی آٹو گراف بک ان کے آگے کی، انہوں نے اس کی طرف دیکھے بغیر سختی سے کہا، ”Not here“ ۔ وہ گاڑی میں بیٹھے اور چلے گئے۔ کے کے عزیز لکھتے ہیں کہ ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ انہوں نے حمید نظامی سے سنا تھا کہ جناح نوجوانوں بالخصوص طلبہ کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ لیکن جس جناح کا ان سے سامنا ہوا تھا ان کے نہ ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی اور نہ آنکھوں میں چمک۔ لیکن پھر کے کے عزیز نے سوچا کہ ہو سکتا ہے پنجاب کے رہنماؤں کے ساتھ ان کی سیاسی بات چیت اچھی نہ رہی ہو اور ان کے دماغ میں کچھ اور اہم چیزیں چل رہی ہوں۔ اس طرح انہوں نے اپنے دکھ کو کم کرنے کی کوشش کی لیکن وہ لکھتے ہیں کہ ”میرے ہیرو کا قد میرے نزدیک کچھ گھٹ گیا تھا۔ یہ میرے نوجوانی کے سالوں کی جذباتیت اور خودنمائی کا اثر تھا۔“
کتاب کے آخر میں کے کے عزیز نے بہت سے تنقیدی سوالات اٹھائے ہیں۔ اس زمانے میں کافی ہاؤس میں بیٹھنے والے سب لوگ مغربی لباس پہنتے تھے۔ گفتگو پنجابی میں ہوتی تھی لیکن لکھتے زیادہ تر اردو میں تھے۔ ان کا خیال ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد پنجابی اشرافیہ نو آبادیاتی دور سے بھی بڑھ کر مغرب زدہ ہوئی اور ان کے ہاں اپنے کلچر سے دوری نمایاں تھی۔ کافی ہاؤس میں گفتگو ادب، آرٹ اور علم کے گرد گھومتی تھی۔ کافی ہاؤس کی فضا سیکولر نوعیت کی تھی جس میں مذہبی بحث کی گنجائش بہت کم تھی۔ لوگوں کے اندر برداشت کا مادہ تھا اور کسی سے اختلاف کا مطلب تشدد اور ہمیشہ کی دشمنی نہیں تھا۔ چیزیں سستی تھیں اور ہر ایک پیدل چلتا تھا یا اس کے پاس سائیکل ہوتی تھی۔ لوگوں کے لیے دولت کمانا اور امیر ہونا زندگی کا بنیادی مقصد نہیں تھا۔ کے کے عزیز لکھتے ہیں کہ جب انہوں نے مشرق وسطیٰ اور یورپ کا سفر کیا تو ایک کمی کا احساس ہوا کہ لاہور کے کافی ہاؤس میں کلاسک ادب کی قرآت (recital) کا کوئی انتظام نہ تھا۔ لیکن اس کے باوجود ان کا خیال ہے کہ کافی ہاؤس کسی بھی تعلیمی درسگاہ سے بڑھ کر سیکھنے کا ادارہ تھا جو ایک جامع نصاب پڑھاتا تھا۔ کوئی فیس نہیں لیتا تھا اور وہاں رکنیت کی صرف ایک شرط تھی: کچھ سیکھنے کا جوش و جذبہ۔ اس کے بدلے میں موزوں ماحول مہیا کیا جاتا تھا اور بہترین اساتذہ جو دوستوں کے روپ میں تربیت کرتے تھے۔
کے کے عزیز لکھتے ہیں کہ کافی ہاؤس کب بند ہوا۔ کسی کو اس کا علم نہیں۔ اگر ہم آج کے پاکستان پر غور کریں تو دولت اور طاقت حاصل کرنے کی نہ ختم ہونے والی دوڑ میں ایسے اداروں کا قائم رہنا ممکن نہیں تھا۔ موجودہ انتہاپسندی اور افراتفری کا ایک بنیادی سبب مکالمے اور برداشت کی روایت کا ختم ہونا بھی ہے۔ اگر ہم اس دلدل سے نکل کر اپنے معاشرے کو ایک صحت مند، انسان دوست اور ترقی یافتہ معاشرے بنانا چاہتے ہیں تو ایسے اداروں کو دوبارہ زندہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔


