کیا واقعی بھٹو زندہ ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کے لیے بھی ایک عظیم سانحہ تھا۔ اس عدالتی قتل کے ذریعے پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم، شہرہ آفاق مدبّر اور عالمی سیاستدان ذوالفقار علی بھٹو کو آمریت اور استحصالی قوتوں کے خلاف آواز بلند کرنے کے جُرم میں ایک گھناؤنی اور ناپاک سازش کے تحت تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو ایسے محبِ وطن، جری اور نڈر سیاست دان کو دی جانے والی پھانسی دراصل جمہوری اور عوامی آزادی کو پھانسی دینے کی ایک کوشش تھی۔

ذوالفقار علی بھٹو نے نومبر 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنُیاد رکھنے کے ساتھ ہی اپنی سیاست کے ذریعے کھیتوں، کھلیانوں اور کارخانوں میں محنت کرنے والے مزدوروں اور دہقانوں سمیت سب پاکستانیوں میں نئی امید کے چراغ جلا دیئے۔ بھٹو انقلابی تھے۔ انھوں نے آمریت کے پنجرے میں قید کروڑوں مجبور اور مظلوم پاکستانیوں کو جُراَت اظہار بخشا، حاکمِ وقت کی آنکھوں مین آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ دیا، عوام کو نئی سوچ بخشی، سوچنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت دی، اپنی ذات پر اعتماد کرنا سکھایا اور قوم کو جمہوریت کی راہ دکھائی۔ اس طرح قائدِ اعظم محمد علی جناح کے بعد وہ قوم کے پہلے معمار اور سیاسی رہبر ثابت ہوئے۔ ان کی ان تھک کوششوں سے پِسے ہوئے طبقے نے جینے کا ڈھنگ سیکھا۔ بھٹو نے سیاست کو محلات سے نکال کر غریب کی جھونپڑی تک پہنچا دِیا۔ مزارع کو وڈیرے اور مزدور کو کارخانہ دار کے ساتھ ایک صف میں کھڑا کر دیا۔ اس طرح بھٹو نے ہر پاکستانی کو فخر کے ساتھ سر اُٹھا کر جینے کا درس دیا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستانی عوام سے گفتگو سُنیئے، “میں عوام سے دُور کیسے ہو سکتا ہوں، عوام اور اپنے درمیان دیواریں کبھی کھڑی نہیں کرنے دُوں گا۔ اگر مچھلی پانی کے باہر رہ سکتی ہے، خوشبو پھول سے جُدا ہو سکتی ہے، تو ذوالفقار علی بھٹو بھی عوام سے دور ہو سکتا ہے۔ مجھے آپ خود سے جُدا نہیں کر سکتے، کبھی نہیں جُدا کر سکتے، میں رہوں نہ رہوں، آپ مجھے اپنے آپ سے جُدا نہیں کر سکتے، اپنے دیہاتوں سے، اپنے گهروں سے، اپنی جُهگیوں سے، اپنے خاندان سے، اپنے بچوں سے، نہ میں آپ کے بچوں اور خاندان سے جُدا ہو سکتا ہوں اور نہ آپ مجھ سے جُدا ہو سکتے ہیں۔ یہ لگن کسی صورت میں نہیں کٹ سکتی، یہ لگن ایک تاریخی لگن ہے، اِس لگن پر ایک تاریخی مُہر آ چکی ہے، اِس لگن کو کسی صورت میں کوئی شخص، کوئی جماعت، اندرونی اور بیرونی طاقت نہیں کاٹ سکتی، یہ میرا ایمان ہے، میں حکومت میں رہوں نہ رہوں، میں مر جاؤں نہ مر جاؤں، یہ فیصلہ، میرا اور پاکستانی عوام کا آخری فیصلہ ہے۔ اچھی طرح سے یاد رکھنا کہ میں آپ میں سے ہی ہوں۔ اس زمین اور اس مٹی سے پیدا ہوا ہوں۔ میں ایک عوامی شخص ہوں اور عوام میں ہی رہوں گا۔ یہ میرا مکتبِ فکر ہے کہ کوئی بنیادی قدم میں کبھی آگے نہیں بڑھوں گا غریبوں کی اِجازت کے بغیر، غریبوں کی مہربانی کے بغیر اور غریبوں کے تعاون کے بغیر!”

ذوالفقار علی بھٹو نے جلسہ عام میں عوام کے ساتھ کیے گئے وعدے کو بھی پورا کیا، جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ “میں پاکستان کے حقوق کے لیے لڑوں گا، میں غریبوں کے حقوق لیے بھی لڑوں گا۔ میں ان حقوق کے لیے جان تک قربان کرنے لیے تیار ہوں، میں اپنے ہر بیٹی بیٹے کو قربان کرنے کے تیار ہوں۔ یہ میرا اِرادہ ہے کہ اگر مجھے موت کا بھی مقابلہ بھی کرنا پڑا، میں موت کا مقابلہ کروں گا، لیکن میں ٹیپو سُلطان کے الفاظ نہیں بھول سکتا۔”

ذوالفقار علی بھٹو نے ڈکٹیٹر کے سامنے جُھکنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں آمر کے ہاتھوں مرنا پسند کروں گا مگر تاریخ کے ہاتھوں سے نہیں۔

جب پاکستان کو اپنوں کی غلطیوں اور غیروں کی سازشوں نے دولخت کر دیا، تو یہ ذوالفقار علی بھٹو تھے، جس نے مایوس عوام کی ڈھارس بندھائی اور شکستہ حال پاکستان کی تعمیرنو اور اِسے ایٹمی طاقت بنانے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیئے۔ بھٹو نے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے کی جدوجہد میں جان تک قربان کر دی اور اپنے پانچ سالہ اقتدار میں ایسے کارنامے انجام دیئے، جن کے تذکروں پر لکھی گئی کتابوں سے لائبریریوں کی الماریاں بھری ہوئی ہیں۔ اگر دیدہ ور ذوالفقا علی بھٹو کو سیاسی منظر سے نہ ہٹایا جاتا اور انہیں مزید پانچ سال کا موقع مل جاتا تو وہ عالم اسلام کے اتحاد کی اپنی جدوجہد کے مشن میں کامیاب ہو جاتے اور پاکستان بھی عالم اسلام کا مضبوط ترین قلعہ بن چکا ہوتا۔ افسوس! آئین شِکن ڈکٹیٹر ضیاءالحق کے مارشل لاء کے زہر آلود اِقدامات نے پاکستان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کو وقت کے حکمران اور عدلیہ نے بے قصور دار پر چڑھا دیا، لیکن آج تک عوام کے دلوں سے بھٹو کی محبت ختم نہیں کی جا سکی۔ وہ آواز جسے آئین شکن ضیاء نے مٹانا چاہا، اتنی طاقت ور بن گئی کہ ہر سُو پھیل گئی۔ یہ آواز جبر کی سماعتوں کے لیے ایک تازیانے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ضیاء نادان سمجھا تھا کہ وہ پھانسی دے کر بھٹو کو مٹا سکتا ہے، مگر وہ بھول گیا کہ حق کو مٹانے والا خود مٹ جاتا ہے۔ تاریخ داں جب بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ لکھتا ہے تو اس میں بھٹو کو عظیم رہنما اور مظلوم مگر ضیاءالحق اور عدلیہ کو آئین شکن، ظالم اور قاتل ہی لکھتا ہے۔

آج ذوالفقار علی بھٹو جسمانی طور پر زندہ نہیں ہیں لیکن ہر نظریاتی پاکستانی کے دل میں موجود ہیں۔ اب تو کُھلے بندوں ضیاءالحق کی معنوی اولاد بھی انھیں عظیم رہنما تسلیم کرتی ہے۔

آمر اور اس کی معنوی اولاد نے بھٹو کے خلاف جھوٹی داستانیں رقم کرائیں مگر پروپیگنڈے، دھاندلی، ظلم و ستم اور جبر کے سارے ہتھکنڈے بے کار ثابت ہوئے۔ ضمیر کے قیدی شاعروں اور ادیبوں کے لیے بھٹو جرأت اور حُب الوطنی کا ایک استعارہ بن گیا اور وہ پاکستان کے گوشے گوشے میں اکثریتی عوام کی آواز بن گیا۔ وہ ایسا زندہ ہوا کہ روشنی بن گیا، ہوا بن گیا۔ اب روشنی کو کیسے روکو گے اور ہوا کا راستہ کیسے بند کرو گے؟ تم اس کی آواز کو قتل کرنا چاہتے تھے وہ تو گیتوں اور نغموں میں ڈھل کر امر ہو گیا ہے اور بُلند آواز میں چتاؤتی دے رہا ہے:

ہر حال میں ہر دور میں تابندہ رہوں گا

میں زندہ جاوید ہوں پائندہ رہوں گا

تاریخ میرے نام کی تعظیم کرے گی

تاریخ کے اوراق میں آئیندہ رہوں گا

ڈکٹیٹر ضیاء کے سیاہ دور میں بھٹو کا نام لینا بھی سخت ترین جرم قرار دے دیا گیا، بھٹو کا نعرہ لگانے والوں کو پابند سلاسل کر دیا جاتا تھا، کوڑے لگائے جاتے تھے، حتٰیٰ کہ سُولی پر بھی لٹکا دیا جاتا تھا۔ لیکن بھٹو کی آواز کو قتل کرنے والے ناکام و مراد تاریخ کے کُوڑے دان پر پڑے گل سڑ رہے ہیں، ہمت، بہادری، قربانی اور حُب الوطنی کی لازوال داستان پورے آب و تاب سے جگمگا رہی ہے۔ اور اُس کی آواز عشروں کے بعد بھی گُونج رہی ہے، آج بھی ایک وجد کے عالم میں ہر سُو نعرے لگتے ہیں:

تم کتنے بھٹو مارو گے، ہر گھر سے بھٹو نکلے گا!

ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا ’’میں اتنا گونجوں گا کہ صدیوں تک سنائی دوں گا۔‘‘

کوئی ہے جو اس حقیقت سے انکار کرے؟

اگر کسی کو شک ہے تو وہ سُنے اور غور سے سُنے، دیکھے اور غور سے دیکھے!

آئین شکن اور اِن کے حواری اپنی لاکھ کوششوں کے باوجود عوام کو بھٹو سے دُور کر سکے، اِن کے درمیان کوئی دیوار کھڑی کر سکے ہیں اور نہ ہی اِن کی لگن کاٹ سکے ہیں۔ یہی بھٹو اور پاکستانی عوام کا آخری فیصلہ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو آج بھی کروڑوں پاکستانیوں کی دلوں کی دھڑکن ہے۔ طاقت انسانی آزادی، مساوات اور جمہوریت کے لیے بھٹو کی آواز وقت کی آواز بن گئی ہے۔ یہ آواز ہر محنت کش، مزدور، کسان، طالب علم، مظلوم اور ہر باشعور پاکستانی کی آواز بن گئی ہے۔ جو آج پورے پاکستان کے کھیتوں، کھلیانوں، کوہساروں اور گلی کوچوں میں گونجتی ہے۔

زندہ ہے، بھٹو زندہ ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Comments are closed.