شہر لاہور میں بیتے سکھ کی یادیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کی تحریر آج کے غم کے نام، آج کے درد کے نام، آج کی آہ کے نام۔ اسے آج کا نوحہ جانئے۔

ہر کسی کے لئے یہ تعریف شاید مختلف ہو۔ ہر کسی کے دل کا حال جدا ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک سب سے بڑا غم محبوب کی جدائی ہے۔ بھلے وہ کوئی انسان ہو، کوئی احساس ہو یا کوئی کپڑے کا ٹکڑا۔ محبت اپنی اپنی۔ غم کی بنیاد یہی ہے، کم از کم اس خاکسار کی نگاہوں میں۔ خدا وقت نہ لائے لیکن اگر کبھی لے ہی آئے تو ذرا محسوس کیجئے گا کہ جدائی میں اصل مسئلہ بیتے سکھ کی یادوں کا ہے۔ آج ہمارا نوحہ بھی کچھ یہی ہے۔

کم و بیش پچھتر دن اور کچھ گھنٹے ہوئے لاہور کی خوشبو سونگھے۔ گننے میں کم لیکن محسوس کرنے میں بہت۔ خبروں، فون کالوں اور میسیجز ہی دل کی ڈھارس ہیں اب تو۔ لیکن آج کا دن کچھ اچھا نہیں۔ صبح ہوتے ہی بیدیاں روڈ پر ماناوالہ میں ہونے والے دھماکے کا پتہ چلا۔ دل کی حالت نہ پوچھیے۔ خیر اس میں دل کا قصور بھی کچھ کم نہیں۔ اب تک تو اس کمبخت کو کالا پتھر بن جانا چاہئیے تھا لیکن اس کی دھڑکن ہی بند ہونے کو نہیں آتی۔ خدا جانے یہ مان کیوں نہیں لیتا کہ اب تو ایسے ہی چلے گا سب۔

لاہور پیچھے رہ گیا ہم باوفا مگر
اس شہر بے مثال سے آگے نہیں گئے

فلم کی طرح اس جاڑے کا دورہ لاہور آنکھوں کے سامنے جاری ہے۔ کہ اپنی عادت ہے جدائی میں حسین یادوں سے غم کا چسکہ لینا۔ آپ بھی آئیے میرا ساتھ دیجئے۔

آپ کا معلوم نہیں لیکن ہمارا دل تو بس لاہور کی انہی گلیوں میں بھٹک رہا ہے۔ خون، دھواں، چیخیں، ایمبولینس کے سائرن کی آوازیں، بین نہ تو دیکھ رہا ہے نہ سمجھ پا رہا ہے۔ تڑپ ضرور رہا ہے لیکن ان یادوں میں۔ محبوب کا کفن کیسے دیکھے؟ محبت کا جنازہ کیونکر پڑھے؟ اس پر تو بس بیتے حسین لمحوں کا خمار طاری ہے۔ شاید کبھی احساس ختم اور جذبات دفن ہو جائیں ۔ مگر وہ دن آج تو نہیں۔

مرے لاہور پر بھی اک نظر کر
تیرا مکہ رہے آباد مولا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •