اپریل فول، سوشل میڈیا اور تاریخی حقائق

”جب عیسائی افواج نے اسپین کو فتح کیا تو اس وقت اسپین کی زمیں پر مسلمانوں کا اتنا خون بہایا گیا کہ فاتح فوج کے گھوڑے جب گلیوں سے گذرتے تھے تو ان کی ٹانگیں گھٹنوں تک مسلمانوں کے خون میں ڈوبی ہوئی ہوتی تھیں۔ جو مسلمان زندہ بچ گئے وہ اپنے علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا بسے اور وہاں جا کر اپنے گلوں میں صلیبیں ڈال لیں اور عیسائی نام رکھ لئے۔ اب بظاہر اسپین میں کوئی مسلمان نظر نہیں آرہا تھا۔ مگر اب بھی عیسائیوں کو یقین تھا کہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے، کچھ چھپ کر اور اپنی شناخت چھپا کر زندہ ہیں اب مسلمانوں کو باہر نکالنے کی ترکیبیں سوچی جانے لگیں اور پھر ایک منصوبہ بنایا گیا۔ پورے ملک میں اعلان ہوا کہ یکم اپریل کو تمام مسلمان غرناطہ میں اکٹھے ہوجائیں تاکہ انہیں ان کے ممالک بھیج دیا جائے جہاں وہ جانا چاہیں۔ مارچ کے پورے مہینے اعلانات ہوتے رہے۔ جب مسلمانوں کو یقین ہوگیا کہ اب ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا تو وہ سب غرناطہ میں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے۔ اسی طرح حکومت نے تمام مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرلیا اور ان کی بڑی خاطر مدارت کی۔ یہ کوئی پانچ سو برس پہلے یکم اپریل کادن تھا جب تمام مسلمانوں کو بحری جہاز میں بٹھایا گیا۔ دوسری طرف عیسائی حکمران اپنے محلات میں جشن منانے لگے۔ جرنیلوں نے مسلمانوں کو الوداع کیا اور جہاز وہاں سے چل دیے۔ جب جہاز سمندر کے عین وسط میں پہنچے تو منصوبہ بندی کے تحت انہیں گہرے پانی میں ڈبو دیا گیا اور یوں وہ تمام مسلمان سمندر میں ابدی نیند سوگئے۔ اس کے بعد اسپین میں خوب جشن منایا گیا کہ ہم نے کس طرح اپنے دشمنوں کو بےوقوف بنایا۔ “ ابھی اس پیغام کی کچھ غیر ضروری تفصیلات حذف کر دی گئی ہیں۔ کیوں کہ اس آرٹیکل کا مقصد یہ پیغام چھاپنا نہیں بلکہ یکم اپریل کو منائے جانے والے دن کی اصل حقیقت بتانا ہے۔
اسپین کو 12 جنوری 1492 کو عیسائی افواج نے فتح کیا۔ مسلمان سولہویں صدی تک وہاں سے نکالے نہیں گئے تھے۔ اس لئے اس بات میں کوئی حقیقت نہیں کہ مسلمانوں کو غرناطہ میں جمع کر کے جہاز میں روانہ کر دیا گیا اور پھر اس جہاز کو یکم اپریل کو بیچ سمندر میں ڈبو دیا گیا۔ مسلمانوں کو اسپین سے نکالنے کا حکم 9 اپریل 1609 میں دیا گیا تھا۔ اس طرح اس کا یکم اپریل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایک اور غلط تصور کے مطابق یہ پیغام بھی ملک میں پھیلایا گیا کہ ایک ہزار سال پہلے جب اسپین کے مسلمان ناقابل شکست تھے اور عیسائیوں کو چونکہ اس بات کا علم ہو چکا تھا کہ وہ مسلمانوں کو جنگ کے ذریعے شکست نہیں دے سکتے تو انھوں نے مسلمانوں کو شراب اور تمباکو نوشی میں لگا دیا۔ اس طرح مسلمان کمزور پڑ گئے اور نتیجتاً مسلمانوں کو یکم اپریل 1492 میں اسپین سے ہاتھ دھونا پڑا۔ جب کہ حقیقت یہ نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسپین پر عیسائیوں کی فتح یکم نہیں 12 اپریل 1492 کو ہوئی۔ جہاں تک تمباکو نوشی کا تعلق یے تو اس وقت تمباکو دریافت بھی نہیں ہوا تھا۔ جب تمباکو نہیں تھا تو تمباکو نوشی کہاں سے آگئی۔ دوسری بات یہ کہ یہ اتنا آسان نہیں تھا کہ اسپین کے مسلمانوں کی اتنی مضبوط جڑوں کو شراب اور تمباکو نوشی سے کھوکھلا کر دیا جاتا۔ اسپین پر قابض ہونے کے لئے فرڈیننڈ اور ازابیلا نے گیارہ سال محنت کے بعد اسپین کو فتح کرنے کی حکمت عملی تشکیل دی تھی۔
یکم اپریل کو اپریل فول منانے کی تاریخی حقیقت زیادہ تر تاریخ نویسوں نے جو لکھی ہے وہ یہ ہے کہ یہ دن 1582 میں تب شروع ہوا جب پوپ گریگوری سیزدہم کے اصلاح کردہ گریگوری کیلنڈر نے جولین کیلنڈر کی جگہ لی اور یہی کیلنڈر اب تک مستعمل ہے۔ پاپ نے یکم جنوری کو سال کا پہلا دن قرار دیا۔ اس سے پیلے یکم اپریل کو سال کا پہلا دن مانا جاتا تھا۔ ان میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن تک، وسائل نہ ہونے کی وجہ سے یہ خبر دیر سے پہنچی اور کچھ وہ تھے جنھوں نے یکم جنوری کو سال کا پہلا دن ماننے سے انکار کر دیا تھا اور وہ یکم اپریل کو ہی سال کا پہلا دن مانتے رہے۔ وہ لوگ جنھوں نے پوپ کا کہنا مان کر یکم جنوری کو سال کا پہلا دن مان لیا تھا، انھوں نے نہ ماننے والوں کو اپریل فولز کا نام دے دیا۔ اس طرح تب سے اب تک یکم اپریل، اپریل فولز کے نام سے منایا جاتا ہے۔
لکھنے والوں سے گزارش یے کہ خدارا ایسی بے بنیاد اور اشتعال انگیز تحریریں لکھ کر اور پھیلا کر لوگوں، خاص کر نوجوانوں کو گمراہ نہ کریں۔ پڑھنے والوں سے بھی التماس یے کہ اہسے پیغامات پر آنکھیں بند کر کے یقین نہ کریں۔ آج کل انٹر نیٹ کی سہولت نے ہر قسم کی معلومات حاصل کرنا بہت آسان کر دیا ہے۔ کسی بھی بیان کیے ہوئے ایسے واقعے پر یقین کرنے اور اس کو آگے بھیجنے سے پہلے اس کی تصدیق کر لیں۔ ہمارے دین نے ہمیں انسانیت سے پیار، محبت، ہمدردی اور خلوص پھیلانے کا حکم دیا ہے نہ کہ نفرتیں اور اشتعال پھیلانے کا۔ خدا ہمیں دین کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔

