مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ


یہ 2023 کی آخری سہ ماہی تھی، جب دبئی سے پاکستان کی طرف رخت سفرِ باندھا تو یادوں کی پوٹلی میں کربلا، نجف، بصرہ، بغداد کی حسین یادیں اور ان یادوں پر مشتمل سفر نامے کا مسودہ شامل تھا۔ اس کے علاوہ بچوں کے ساتھ گزارے گئے شب و روز دبئی کے ساحل، دبئی فریم، پام جمیرہ اور طرح طرح کی تفریحات کی حسین یادیں بھی اس پوٹلی کا حصہ تھیں۔ سفرنامہ ایک ماہ رات دن بیٹھ کر مکمل کیا اس کی اقساط ”ہم سب“ کی ویب سائٹ پر شائع ہوئیں تو یہ تمام چیزیں بہت دل ربا اور شکر گزاری کا باعث تھیں۔

نو ستمبر پاکستان میں قدم رکھنا تھا کہ طبیعت خراب رہنے لگی، پہلے تو اسے تھکاوٹ پر محمول کیا، لیکن ٹانگوں میں درد مستقل رہنے لگا تو پھر اپنے آرتھوپیڈک ڈاکٹر کے پاس گئی اور بار بار جاتی رہی، طرح طرح کی دوائیاں، وٹامنز، کیلشیم یہ سب کھاتی رہی، ساتھ ساتھ معاملاتِ زندگی بھی لشتم پشتم چلتے رہے پھر ”درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی“ کے مصداق مختلف ڈاکٹروں کے پاس جانے اور ہر طرح کی دوائیاں استعمال کرنے کے باوجود درد میں کوئی کمی نہیں آ رہی تھی۔ نومبر دسمبر کی طویل سرد راتیں شدید درد کی حالت میں گزریں

پشاور کے ایک مشہور آرتھوپیڈک ڈاکٹر کے پاس جانا ہوا تو کہنے لگے ایک ماہ دوائی استعمال کریں افاقہ نہ ہو تو پھر آنا، کمر میں ٹیکہ لگا دوں گا۔ پھر پنڈی میں ”الشفا“ گئی وہاں بھی ڈاکٹر نے پہلے آپریشن اور پھر کمر میں ٹیکے کی تجویز دی۔ مختلف ڈاکٹروں کے پاس جا کر بھی وقتی آرام کے علاوہ کوئی افاقہ نہیں ہوا۔ ایک سٹک پر چلتے چلتے دو سٹک پکڑ لیں، پھر واکر کے ذریعے چلنے لگی۔ تکلیف اور اذیت کے یہ دن یوں تکلیف دہ تھے کہ درد کی کوئی وجہ اور علاج کا کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا تھا۔

یوں 2024 کا آغاز ہوا یہ نو جنوری کا قصہ ہے کہ میں نے عشاء کی نماز پڑھی نماز پڑھ کر واش روم گئی اور بیٹھتے ہی ٹانگ سے ایک زوردار آواز آئی۔ میرے منہ سے بے اختیار چیخ نکلی۔ نسیم، بیٹا، بہو بچے سب دوڑے چلے آئے اور کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کس طرح مجھے واش روم سے باہر نکالیں آخر کار کرسی لائی گئی بمشکل مجھے اس پر بٹھایا اور واش روم کے تنگ دروازے سے بہت ہی مشکل سے باہر نکال کر لائے، پلنگ پر بدقت تمام لٹایا، درد اتنا شدید تھا کہ برداشت سے باہر، فوری طور پر ”دافع درد“ کے ٹیکے لگائے گئے مگر انہوں نے بھی کوئی اثر نہیں کیا۔

آخر ایک اور ٹیکہ آرتھوپیڈک ڈاکٹر نے بتایا بقول میرے بیٹے کے رات کے 11 بجے وہ جب ٹیکا لینے جا رہا تھا تو اس قدر دھند تھی کہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ خیر وہ ٹیکہ لگ گیا لیکن یوں لگتا تھا کہ اس درد کے اوپر کوئی چیز اثر نہیں کر رہی۔ سردیوں کی لمبی سرد رات، بچے بھی تھک گئے میں نے انہیں کہا کہ جا کے سو جائیں۔ شبِ ہجر کی طرح طویل رات آخر کٹ ہی گئی بس یہ نہ پوچھیں کہ کیسے کٹی۔ خدا خدا کر کے صبح ہوئی ایمبولنس منگوائی گئی اب میری بہو افشین کہنے لگی کہ تھوڑی ہمت کریں کپڑے بدل لیں مگر مجھ سے اٹھا ہی نہیں جا رہا تھا۔ خیر دو بندوں نے مل کر مشکل سے میرے کپڑے تبدیل کروائے۔

سٹریچر پر ڈالنے کے لیے کئی لوگوں نے اٹھا کر سٹریچر پر ڈالا اور ایمبولینس میں لٹایا ایمبولنس کے ہر جھٹکے پر درد کی ایک تیز لہر اٹھتی میں سارا وقت جو کچھ مجھے زبانی سورتیں یاد تھیں وہ تلاوت کرتی رہی۔ خاص طور پر سورہ بقرہ اور سورہ ال عمران کا آخری رکوع بار بار وردِ زبان رہا۔ شاید بلکہ یقیناً یہ اس کلام کی برکت تھی کہ جسمانی طور پر میں بہت تکلیف میں تھی مگر روحانی طور پر میں بالکل مطمئن اور پرسکون تھی پشاور پہنچے تو پھر ایمبولنس سے اتارنا اور ایکسرے کے لیے لے جانا ایک مشکل مرحلہ تھا جب مجھے اٹھاتے تو درد کی ایسی شدید لہر اٹھتی کہ بے اختیار ہلکی سی چیخ منہ سے نکل جاتی۔

ایکسرے ہوئے اور مجھے کمرے میں شفٹ کر دیا گیا۔ کافی دیر تک تو مجھے نہیں بتایا گیا کہ کیا رپورٹ ہے لیکن مجھے پتہ تھا کہ جس قسم کی زوردار آواز آئی تھی ہڈی فریکچر ہو گئی ہے تھوڑی دیر بعد نسیم سے پوچھا انہوں نے بتایا کہ ایکس رے ٹھیک نہیں ہے ہڈی فریکچر ہو گئی ہے۔ اس کے بعد کنولا اور ڈرپس لگادی گئیں درد میں کمی آئی، کچھ آرام کیا، اس کے بعد مختلف ٹیسٹوں کے لیے لے جاتے رہے بیڈ سے اٹھا کر سٹریچر پر ڈالنا اور سٹریچر سے پھر ٹیسٹ کے لیے دوسری جگہ منتقل کرنا بہت ہی تکلیف دہ تھا پھر یہ نہیں کہ سارے ٹیسٹ ایک ہی دفعہ کر لیے جائیں ایک دو ٹیسٹوں کے بعد واپس لا کر بیڈ پر لٹا دیا، عصر کے وقت دوبارہ ایم آر آئی کے لیے لے کر گئے پھر وہی عمل دہرایا گیا۔

ایم آر آئی کے پہلے ایک کمرے میں انتظار پھر باری آنے پر دوسرے کمرے میں بالآخر ایم آر آئی کے لیے میری باری آ گئی۔ اس سے پہلے میں نو شہرہ میں ایم آر آئی کروا چکی تھی اور وہ اوپن مشین تھی لیکن یہاں انہوں نے مجھے بالکل اندر بند کر دیا ایسے کہ جیسے قبر ہو اب بار بار مشین بولے پھر ایک شور کی آواز کانوں میں گونجے، کچھ وقفہ ہو تو میں سمجھوں بس ختم ہو گیا ہے ٹیسٹ، مگر ایک بار پھر دوبارہ سے یہ سارا عمل شروع ہو جائے۔

پونے گھنٹے تک یہ ٹیسٹ ہوتا رہا لیکن یہ پونا گھنٹہ میرے لیے کتنا طویل تھا اور کتنا صبر آزما یہ میں ہی جانتی ہوں یا وہ لوگ جو یہ کروا چکے ہیں۔ ایسے میں میں بار بار بس تلاوت کرتی رہی اور دعائیں مانگتی رہی آخر کار خدا خدا کر کے یہ ٹیسٹ ختم ہوا اور مجھے اس میں سے نکالا گیا تو میرا بیٹا محمد اسد مجھ سے زیادہ پریشان نظر آیا کہ میں سوچ رہا تھا اتنی خاموشی ہے کہیں امی کو کچھ ہو تو نہیں گیا۔ یہاں سے نکلے تو ایکو ٹیسٹ کے لیے لے لے جایا گیا ایکو ٹیسٹ کروانے سے پہلے میں ایسی ڈری ہوئی تھی کہ اس میں کچھ خرابی نہ نکل آئے۔

تمام ٹیسٹوں کے بعد ہسپتال کے بیڈ پر آئی تو خدا کا شکر ادا کیا کہ ان مراحل سے نپٹ لیے۔ میرے بھائی تمثیل ہے کا گھر ہسپتال سے بالکل قریب تھا۔ دوپہر کو وہ کھانا لے کر آئیے، گو کہ میں نے رات سے کچھ نہیں کھایا تھا لیکن کچھ کھانے کو دل نہیں چاہا۔ جب کہ اس رات کو میں نے خوب مزے سے کھانا کھایا سیون ایپ پی، اپنی معمول کی دوائیاں کھائیں ڈاکٹرز نے بتا دیا تھا کہ کل صبح آپریشن کر کے ٹانگ میں راڈ رکھیں گے۔ حیرت کی بات ہے کہ ان تمام پریشانیوں اور تکالیف کے باوجود جانے کیوں ایک سکینت سی طاری تھی میں کھانا کھا کے بہت آرام سے سو گئی۔

فجر کے وقت آنکھ کھلی آپریشن کے لیے قریبی آپریشن تھیٹر لے کر گئے۔ ہسپتال کی ٹھنڈی طویل راہداریوں میں سے گزرتے ہوئے میں بس ورد کرتی رہی۔ آخر کار آپریشن تھیٹر میں آپریشن ٹیبل پر لٹا دیا گیا اور تین چار میل نرس قریب آ گئے اور کہنے لگے کہ آپ بیٹھیں تاکہ آپ کی کمر میں بے ہوشی کا ٹیکہ لگا دیں میں نے کہا میری ٹانگ فریکچر ہے اور میں اٹھ نہیں سکتی جس پر وہ میرے اور قریب آگے کہ آپ فکر نہ کریں ہم آپ کو بٹھا دیں گے۔ انہوں نے جو مجھے بٹھانے کی کوشش کی تو میری چیخیں نکل گئیں میں نے انہیں کہا مجھے چھوڑ دیں اتنے میں ڈاکٹر وقار قریب تھے انہوں نے ان کو روک دیا کہ رہنے دیں ان کو فل انستیھزیا دیتے ہیں پھر انہوں نے میرے منہ پر آکسیجن ماسک رکھا اور اس کے بعد جو مجھے ہوش آیا تو۔

جاری

Facebook Comments HS