شاہی سید کا ایماندار گھوڑا


شاہی سید صاحب بہت معصوم آدمی ہیں۔ ٹاک شوز میں ان کی موجودگی اس بات کی ضمانت سمجھی جاتی ہے کہ وہ اینکر پرسن کے ہر سوال کا جواب عوامی امنگوں کے حساب سے دیں گے اور خوب دیں گے۔ وہ لگی لپٹی رکھنے والے شخص نہیں ہیں۔ وہ اپنے مخصوص پٹھان لب و لہجے کے ساتھ ساتھی شرکاء کو لاجواب کرنے کا فن بخونی جانتے ہیں، مگر چند دن پہلے انہوں نے سرکاری افسران کے لئے گھوڑے اور گدھے کی اصطلاح استعمال کرکے ایک نئی بحث کو جنم دے چکے ہیں۔

عرصے سے اس بات کا دکھ ستائے جارہا تھا کہ ہمارے ملک سے گھوڑوں اور گدھوں کی نسل نایاب ہوتی جارہی ہے، کچھ تو ہم مسلمانی کے اس درجے پر ہیں جہاں سب کچھ جائز ہوجاتا ہے جب انسان اور حیوان کی تمیز ہی ختم ہوجائے تو گھوڑے اور گدھے کیا بیچتے ہیں اور پھر گھوڑے اور گدھے کے گوشت کی مٹھاس یا اس سے حاصل ہونے والی حلال کی کمائی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ بندے کو مذہب، جنت و دوزخ،یہاں تک کہ خدا بھی بھول جاتا ہے، نہ چاہتے ہوئے بھی گدھا یا گھوڑا جو بھی مل جائے ذبح کرکے قصائی بننے میں دیر نہیں لگاتا، قسمت سے یہ گھوڑا یا گدھا کسی سچ مچ کے قصائی کے ہاتھ لگ جائے توپورے شہر کے مزے۔

مگر اس سب سے ہٹ کر آج ایک دکھ سے تو نجات ملی کہ ہمارے ملک میں گھوڑے اور گدھے کی نسل کشی نہیں ہورہی ہے بلکہ گھوڑوں اور گدھوں نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ وہ شکل اور جنس کی تبدیلی کے بعد سرکاری افسر بن کر ہمیں دھوکا دے رہے ہیں یہ تو بھلا ہو شاہی سید صاحب کا جنہوں نے یہ راز افشا کیا ہے کہ سرکاری افسران بھی گھوڑے اور گدھے ہیں اب وہ شہنشاہ آدمی ہیں جو جی میں آئے کہہ دیتے ہیں ان سے پوچھنے کی کس میں ہمت ہے مگر عجیب بات ان کے افشا کردہ راز میں یہی ہے کہ جو سرکاری افسران ایماندار ہیں وہ گھوڑے ہیں اور بے ایمان ہیں وہ گدھے، ساتھ میں یہ ہدایت بھی منسلک ہے کہ ’’سرکار کو ان میں تمیز کرنی چاہئے‘‘، حالانکہ گدھا گھوڑے کے مقابلے میں زیادہ محنتی اور زیادہ منکسر المزاج قسم کا جانور ہے مگر شاہی سید صاحب کا کہنا ہے کہ گدھا ہر صورت بے ایمان ہی ہوتا ہے، اس میں پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا گھوڑوں اور گدھوں نے صرف سرکاری ملازمتیں ہی اختیار کی ہیں یا دوسرے شعبوں جیسے سیاست اور میڈیا میں بھی موجود ہوتے ہیں، اگر وہ سیاست اور میڈیا میں موجود ہیں تو پھر ان کے لئے کیا اصطلاح استعمال کرنی چاہئے، کہیں سیاست میں آکر یہ مخلوق اپنے لئے لوٹے کا تخلص تو استعمال نہیں کرر ہے ہیں، شاہی سید صاحب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی ریسرچ ہم سے مکمل طور پر شیر کریں یہ ناکافی ہے کہ وہ صرف ایسے گھوڑوں اور گدھوں کا ذکر کریں جو سرکاری ملازمتیں اختیار کرچکے ہیں، کتنے شعبے ایسے ہیں جہاں ان جانوروں کے لئے ایڈجسٹ ہونے کی گنجائش نکل آتی ہے، شاید ایڈجسٹ ہوبھی چکے ہوں، اگر گھوڑوں اور گدھوں کی نسل اتنی ترقی کرچکی ہے کہ وہ سرکاری افسر بن جائیں توپھر باقی شعبوں میں شعبدہ بازی دکھانے میں کیا مانع ہوسکتی ہے۔

چونکہ شاہی سید صاحب کراچی میں اے این پی کی نمائندگی کرتے ہیں اس لئے وہ یقیناً اے ڈی خواجہ صاحب اور عبدالمجید دستی کے بارے میں مکمل معلومات رکھتے ہوں گے کہ ان میں سے کون گھوڑا اور کون گدھا ہے، سندھ حکومت میں موجود لوگوں کو گھوڑوں سے زیادہ دلچسپی رہی ہے تو کیا عبدالمجید دستی صاحب گھوڑے ہیں؟ اگر شاہی سید صاحب کے حساب سے بھی وہ گھوڑے ہیں تو پھر پورا ملک خصوصاً سندھ والے اے ڈی خواجہ کی بحالی اور مستقل بحالی کے لئے لاٹھیاں، ڈنڈے اور واٹر کننین کیوں برداشت کر رہے ہیں؟

Facebook Comments HS