زمین سیم و تھور کا شکار، لوگ مجسم تبسم۔ سطح سمندر سے 10 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع پہاڑی علاقہ، خیالات کی بلندی علاقے کی بلندی سے کہیں زیادہ۔ مشکل ترین علاقہ، آسان ترین مسکان بھرے لوگ۔ وسائل سے مکمل محروم بستی، مہمان نواز اتنے کے منہ کا نوالہ بھی مہمان کو کھلانے کی بیتابی۔ علاقے کو چترال اور ملک سے ملانے کے لئے پل بھی موجود ہیں مگر پل صراط جیسے۔ وادی تک پہنچنے کے لئے سڑک کچھ زیادہ ہی سیدھی بنائی گئی ہے اتنی زیادہ سیدھی کہ بہتولی پل سے آگے آپ گاڑی واپس موڑ نہیں سکتے۔
کوئی بھی ایمرجنسی ہو اس روڈ پر آنے کے بعد آپ کو گاری موڑنے کے لئے پرسان تک سفر کرنا ہی ہوگا۔ وادی تک پہنچنے سے پہلے جتنے تکلیف دہ اور خوف کے ماحول میں سفر کرنا پڑتا ہے علاقے کی خوبصورتی اور جاذبیت وہ تمام خوف اور تکلیف بھلانے میں سیکنڈوں کا ٹائم بھی نہیں لیتی۔ شاید یہ سحر علاقے کے مکینوں کے لئے علاقہ چھوڑنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ورنہ اتنے دشوار گزار اور مصائب زدہ علاقے میں کون ذی ہوش آدمی رہائش اختیار کرنے کو تیار ہو۔
Read more