مرد آہن محمد نواز شریف: (2)

سینئر صحافی سجاد اظہر کا شمار تحقیقی صحافیوں میں ہوتا ہے کئی کتابوں کے مصنف ہیں انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ”نواز رضا نے راولپنڈی کی عینک سے اسلام آباد کو دیکھا ہے اور اسلام آباد کی نظروں سے راولپنڈی کو جانچا ہے جس طرح جنوبی ایشیا میں نواز شریف سے زیادہ تجربہ کار اور عمر رسیدہ سیاست دان اور کوئی نہیں ہے اسی طرح صحافت میں کم از کم پاکستان میں یہ مرتبہ نواز رضا کو بھی حاصل ہے نواز رضا کا تعلق دائیں بازو سے ہے اس لئے وہ جماعت اسلامی سمیت دائیں بازو کی سیاسی سوچ رکھنے والی قوتوں کی کھل کر حمایت کرتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حمایت کی بڑی وجہ بھی یہی ہے۔ اسی وجہ سے ان کے مخالفین ان پر مسلم لیگ (ن) کی حمایت کرنے کا الزام لگاتے ہیں حالانکہ ان کے کالموں میں مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی پر تنقید بھی کی جاتی ہے لیکن دراصل اس کے پیچھے ان کی نظریاتی سوچ ہے۔ حالانکہ آج کے نواز شریف کے ایک طرف دائیں بازو کے وکیل عرفان صدیقی کھڑے ہیں تو دوسری جانب بائیں بازو کے سرخیل پرویز رشید بیٹھے ہیں۔ خود نواز شریف بھی اب فیض و جالب کے نقش قدم پر ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اب نہیں تو کب دیکھیں گے انہوں نے کہا کہ“ نواز رضا کی بڑی کمزوری یہی ہے کہ وہ نواز شریف اور پاکستان کے معاملے میں جذباتیت کا شکار ہیں۔ نواز شریف کا انہوں نے ایک ایسا ہیولا بنا رکھا ہے جہاں انہیں سب کچھ روشن اور اجلا اجلا نظر آتا ہے۔ نواز شریف جھکتا ضرور ہے لیکن اتنا بھی نہیں جھکتا کہ اپنی پیٹھ پر کسی کو سوار کر لے۔ اس کی اپنی ایک سوچ ہے ایک نظریہ ہے اور پاکستان کے بارے میں اپنا ایک وژن ہے۔ جبکہ ہماری اشرافیہ کو ایسے لوگ چاہیے ہوتے ہیں جن کا نہ کوئی اپنا نظریہ ہو نہ وژن ہو اس لئے نواز شریف اب ان کی چوائس نہیں رہی ”۔ انہوں نے کہا کہ“ کیا نواز شریف کو سمجھنے کے لیے یہ دلیل کافی نہیں کہ نواز شریف تینوں بار اپنی مدت اقتدار پوری نہیں کر سکے کہ وہ ہاں میں ہاں ملا نہیں سکتے تھے؟ وہ ان لوگوں سے سوال کرتے تھے جو خود کو کسی کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتے نواز شریف آج خاموش ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت اطمینان میں ہیں کیونکہ مرکز میں ان کا بھائی بیٹھا ہے اور صوبے میں بیٹی، جسے وہ اپنا سیاسی وارث بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز رضا کو اس کتاب کے بعد اپنی خود نوشت ضرور لکھنی چاہیے کیونکہ وہ ہماری سیاسی تاریخ کے 50 سالہ دور کے چشم دید گواہ ہیں۔ پاکستان میں چار صحافی ایسے ہیں کہ وہ جب بھی اپنی خود نوشت لکھیں گے اس کے بعد پاکستان کی تاریخ کو دیکھنے کا زاویہ بدل جائے گا۔ ان میں سے ایک مجیب الرحمٰن شامی ہیں، دوسرے حامد میر، تیسرے سہیل وڑائچ اور چوتھے نواز رضا، میں ان سب کو ہمیشہ کہتا رہتا ہوں کہ وہ یہ کام کر جائیں کیونکہ یہ آنے والی نسلوں پر ایک احسان ِ عظیم ہو گا۔ ان کے ہاتھ میں وہ قلم ہے جس کی قسم رب کائنات نے بھی کھائی ہے۔
پروفیسر طاہر نعیم ملک کا شمار وفاقی دارالحکومت کے ممتاز سیاسی تجزیہ کاروں میں ہو تا ہے انہوں نے کہا کہ نواز رضا نے نواز شریف کی سیاست پر قلم اٹھا کر ایک عمدہ کوشش کی ہے ملک کے کئی سیاست دانوں نے کتب تحریر کی ہیں اور ان پر کتب بھی لکھی گئی ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) کی اس میدان میں باسکٹ خالی ہے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو اپنی توجہ قرطاس و قلم پر مرکوز کرنی چاہیے۔
تقریب کے یکے از مہمان خصوصی وفاقی وزیر امور کشمیر و شمالی علاقہ جات امیر مقام کا خیبر پختونخوا کی سیاست میں نمایاں مقام ہے وہ جہاں پی ٹی آئی کے خلاف مضبوط آواز ہیں بلکہ دہشت گردوں کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑے ہیں نے کہا کہ وہ زمانہ طالبعلمی میں نواز رضا کو پڑھتے رہے ہیں مرد آہن محمد نواز شریف ان کی پانچویں کتاب ہے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی سیاسی جہد مسلسل ہے انہوں نے اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں انہوں نے بھارت کے جارحانہ عزائم کو بھانپتے ہوئے پیغام دیا کہ ”پاکستان بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا بھارت سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا اگر ایسا کیا تو یہ اعلان جنگ تصور ہو گا بھارت کو پاکستان کا پانی روکنے کا جواب دیا جائے گا جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیریوں کو حق خودارادیت مل نہیں جاتا بھارت کو پاکستان پر حملہ کرنے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی پاکستان کی حکومت، عوام مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔
تقریب میں روزنامہ جنگ کے اسلام آباد بیورو چیف حافظ طاہر خلیل نے کہا نواز شریف نے قازقستان کے دورے کے دوران ہی بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے خلاف دھماکے کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا نواز شریف نے مزاحمتی سیاست کی نواز رضا نے مرد آہن محمد نواز شریف کے بارے میں جو کتاب تحریر کی ہے وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا عکس ہے کتاب میں سیاست کے دھوپ چھاؤں بیان کیے گئے ہیں پاکستان میں کس طرح جمہوریت کے خلاف سازشیں کی جاتی رہی ہیں۔ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ جب وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ 174 ارکان نے دیا لیکن آرمی چیف کی مدت ملازمت کے لئے 235 ارکان نے ووٹ دیے۔
ممتاز قانون دان جاوید سلیم شورش نے کہا کہ محمد نواز شریف کی سیاسی زندگی کا خوبصورت انداز میں احاطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج مواصلات کے میدان میں ترقی نواز شریف اور شہباز شریف کی مرہون منت ہے عدل کے ایوانوں میں سیاست کی دیوی کے داخل ہونے سے انصاف کا تصور ختم ہو جاتا ہے انہوں نے تقریب میں آغا شورش کاشمیری کے ایک شعر میں اقتدار کی صورت حال بیان کر دی۔
برادر اصغر طارق محمود سمیر کا شمار وفاقی دار الحکومت اسلام آباد کے سینئر صحافیوں میں ہوتا ہے انھوں نے اپنی پوری زندگی فیملی کی بجائے صحافت کو دی ہے انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے قازقستان سے واپسی پر ایٹمی دھماکہ کرنے کے فیصلہ سے آگاہ کیا مسلم لیگی قیادت پارٹی چھوڑ کر چلے جانے والوں کو واپس بلائیں نواز شریف جیسا محب وطن کم کم دیکھا ہے۔ روزنامہ جنگ راولپنڈی کے ایڈیٹر حنیف خالد نے کہا کہ یہ تقریب اس روز منعقد ہو رہی ہے جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا لیکن آج پاکستان اس لئے محفوظ ہے کہ نواز شریف نے اسے ناقابل تسخیر بنا دیا تھا۔
مہمان خصوصی وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے نواز شریف کو محافظ پاکستان قرار دیا ظفر بخت اوری نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے پر نواز شریف کو خراج تحسین پیش کیا جمیل ہاشمی نے کہا کہ نواز شریف کا دور تعمیر و ترقی کا دور ہے راجہ محمد ظفر الحق جو 4 عشروں سے نواز شریف کے دست راست ہیں اور مسلم لیگ (ن) کی پہچان ہیں نے کہا کہ نواز شریف پر لکھی گئی کتاب سیاست کے طلباء کے لئے ایک دستاویز کے حیثیت رکھتی ہے۔ نواز شریف کی سیاسی زندگی ہم سب کے لئے مشعل راہ ہے نواز شریف نے پاکستان کو اپنی ولولہ انگیز قیادت میں ناقابل تسخیر بنایا یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے عوام چین کی نیند سو رہے ہیں۔
(ختم شد)
