امریکہ اور چین کے درمیان نیو گریٹ گیم


 

امریکہ کے فارن سٹرٹیجی کے ماہر اور مصنف مائیکل پلسبری نے 2015 میں ایک کتاب The Hundred۔ Year Marathon کے نام سے تحریر کی۔ اس میں پلسبری نے چین کی اس خفیہ سٹرٹیجی پر روشنی ڈالی ہے جس کے ذریعے چین امریکہ کی عالمی سپر پاور کی حیثیت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ اس پر بات کرتے ہوئے مائیکل پلسبری لکھتے ہیں ”چین امریکہ کے دوستوں اور دشمنوں کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے جو چین کے پرامن عزائم کی نفی کرتا ہے۔ گزشتہ تیس سالوں میں چین تبدیل ہوا ہے لیکن اس کے سیاسی نظام میں ایسی تبدیلی نہیں آئی ہے جس کی امریکہ توقع کر رہا تھا۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی نہ صرف برقرار رہی بلکہ اس کی گرفت مضبوط ہوئی ہے اور لبرل ڈیموکریسی کی بجائے چین میں ریاستی جبر میں اضافہ ہوا ہے اور کمیونسٹ ڈکٹیٹرشپ نے اپنی گرفت مضبوط کی ہے۔

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ چینی لٹریچر میں فریب کو طاقت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ مشہور چینی جنرل، فلسفی اور فوجی ماہر سن تزو (Sun Tzu) جنہوں نے جنگی حکمتِ عملی اور تدابیر پر مبنی مشہور کتاب The Art Of War لکھی ہے سے لے کر جدید چین کے بانی ماؤزے تنگ تک یہ درس دیا گیا ہے کہ اپنے عزائم کو عیاں نہ کریں۔

اس وقت چین اور امریکہ کے درمیان، زمین، سمندر اور خلا پر بالادستی کی سرد جنگ چل رہی ہے۔ امریکہ چاند کے بعد اب ایلون مسک کے ذریعے مریخ سیارے پر پہنچنے کا منصوبہ بنا رہا ہے جس سے فضا پر امریکی اجارہ داری قائم ہو گی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے عالمی طاقت کے طور پر برطانیہ کی جگہ لی ہے جبکہ سرد جنگ کے زمانے میں سابق سوویت یونین کے ساتھ امریکہ کی نظریاتی، معاشی اور فوجی جنگ جاری رہی اور 1991 میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور کے طور پر دنیا پر راج کرتا رہا لیکن آہستہ آہستہ چین نے ایک عالمی طاقت کے طور پر ترقی کی ہے اور سو سالہ منصوبہ کے مطابق چین کی پالیسی ہے کہ وہ 2049 تک امریکہ کی عالمی اجارہ داری کو بتدریج ختم کرے اور عالمی سپر طاقت بن کر دنیا میں چینی ورلڈ آرڈر نافذ کرے ”۔ چین کی سو سالہ پالیسی واضح ہے جس کے تحت معاشی اور فوجی میدان میں امریکہ سے آگے نکل کر دنیا کی قیادت سنبھالنا ہے۔ 1949 سے 2049 تک چین کا سو سال پر محیط یہ منصوبہ سو سالہ میراتھن کہلاتا ہے۔ اگرچہ چین کے سفارت کار اور دانشور اس منصوبہ کا کھلے عام انکار کرتے ہیں کہ ان کا مقصد سپر پاور بننا نہیں ہے لیکن درپردہ اس بات پر اتفاق ہے کہ 2049 تک چین کو موجودہ امریکہ سے دوگنا طاقتور بنانا ہے۔

مصنف کا کہنا ہے یہ منصوبہ تحریری طور پہ موجود نہیں ہے لیکن غیر علانیہ طور پر اس پر کام جاری ہے۔ چین کا خواب مشہور چینی فلسفی کنفیوسس کے اس مشہور قول کے گرد گھوم رہا ہے :

” There can ’t be two suns in the sky٫ nor two emperors on the earth۔“

سال 2008 میں جب عالمی سطح پر معاشی بحران میں امریکی معیشت کو شدید دھچکا لگا تو چین کو یقین تھا کہ امریکی زوال اب ختم ہونے والا نہیں۔ امریکی اس زوال سے نکلنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نعرہ Make America Great Again کا نعرہ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں امریکہ نے چین کے خلاف ٹیرف وار شروع کی ہے۔

دوسری طرف چین نے اپنے عالمی پلان کے تحت ون بیلٹ، ون روڈ ”منصوبے کے ذریعے دنیا بھر کے ممالک میں اپنا اثر و رسوخ قائم کیا ہے۔ چین کے اس منصوبے کے دو اہم حصے ہیں جن میں ایک حصہ سلک روڈ اکنامک بیلٹ کہلاتا ہے یہ زمینی راستوں پر مشتمل ہے جو چین کو وسطی ایشیا، مغربی ایشیا اور یورپ سے ملاتا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کے تحت چین پورے ایشیاء کے علاوہ یورپ تک دسترس حاصل کرے گا اور فار ایسٹ سے برما تک چین کے دائرہ اثر میں آئیں گے۔ جبکہ دوسرا حصہ میری ٹائم سلک روٹ ہے یہ سمندری راستوں پر مشتمل ہے جو چین کو جنوب مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا، افریقہ اور یورپ سے جوڑتا ہے۔

چین کے صدر شی جن پنگ کی قیادت میں یہ پالیسی مزید تیز ہوئی ہے۔ ڈینگ ژیاؤ پنگ نے تین دہائیوں بعد ملکی معیشت کو تیز رفتار ترقی کی راہ پر ڈالا تھا۔ اس وقت چین دنیا کی ہر اس جگہ پہ موجود ہے جہاں وسائل موجود ہیں۔ اب تک 138 سے زائد ممالک نے اس منصوبے میں شمولیت اختیار کی ہے، جن میں افریقہ، ایشیا، یورپ اور لاطینی امریکہ کے ممالک شامل ہیں۔ چین نے ان ممالک میں بجلی گھر، گیس پائپ لائنز، بندرگاہیں، ہوائی اڈے اور ریلوے لائنیں تعمیر کی ہیں اور سینکڑوں ارب ڈالر بطور قرض دیے ہیں یا دینے کا وعدہ کیا ہے۔ پاکستان میں اس منصوبے کا سب سے نمایاں جزو چین پاکستان اقتصادی راہداری ہے، جو گلگت بلتستان سے گزر کر گوادر بندرگاہ تک چین کو رسائی دینے کی ضمانت فراہم کرے گی۔ اس راہداری کے ذریعے چین کی تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا اور پاکستان کی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

دوسری جانب انڈیا اور امریکہ کو اس منصوبے پر سخت تحفظات ہیں واشنگٹن نے گزشتہ سالوں میں اس پر واضح طور پر تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا ہے، جو کہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) کا ایک اہم منصوبہ ہے۔ امریکی تحفظات کی بنیادی وجہ تزویراتی اور جغرافیائی و سیاسی خدشات ہیں۔ امریکہ CPEC کو چین کی ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ سمجھتا ہے جس کا مقصد جنوبی ایشیا اور دیگر علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا ہے، جو امریکی مفادات کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کو خدشہ ہے کہ گوادر بندرگاہ، جو کہ سی پیک کے تحت تعمیر کی جا رہی ہے، مستقبل میں چینی بحریہ کے عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہے، جس سے چین کی بحری طاقت میں اضافہ ہو گا۔

اس تناظر میں چین اور امریکہ کی اس عالمی چپقلش کے اثرات دنیا کی سیاست میں واضح طور پر نظر آ رہے ہیں اس وقت ساؤتھ ایشیاء، ”South China Sea“ ، تائیوان، افریقہ اور ایشیاء اور مڈل ایسٹ میں ایک طرح کی گریٹ گیم چل رہی ہے جس میں ایک طرف چین کا سو سالہ منصوبہ ہے دوسری طرف امریکہ کی عالمی اجارہ داری کو برقرار رکھنے کی کوشش جاری ہے۔ اس تناظر میں تیسری دنیا میں ہونے والی جنگوں اور مختلف ممالک کے درمیان رسہ کشی خاص طور پر انڈیا پاکستان کے درمیان جاری موجودہ عسکری صورت حال کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ اجتماعی بقائے باہمی ممکن ہو سکے۔

Facebook Comments HS