چونکہ میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہوں


ہمارے ہاں ماڈرن، لبرل، سیکولر اور پڑھے لکھے ہونے کی بہت سی نشانیوں میں سے ایک نشانی ”اینٹی اسٹیبلشمنٹ“ ہونا ہے۔ اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ آپ نے اسٹیبلشمنٹ کی رائے سے مکمل اختلاف کرنا ہے چاہے وہ حقائق یا وقتی ضرورت پر مبنی ہی کیوں نہ ہو۔

جعفر ایکسپریس پر ہونے حملے کو آپ نے یا تو ریاستی اداروں کی ناکامی قرار دینا ہے یا یہ کہنا ہے کہ یہ پاکستانی فوج کی اپنی ”کارروائی“ ہے لیکن پہلگام پر ہونے والے حملے کو پاکستان کی طرف سے دہشت گردی قرار دینا ہے جس کا بھارتی ریاستی اداروں کی ناکامی سے کوئی واسطہ نہیں۔

ایک ہی عمل جو پاکستان مخالف یا دیگر مہذب ممالک کریں اسے امن کی کوشش اور حکمت عملی قرار دینا ہے جیسا کہ عراق میں ہوا اور فلسطین سمیت دیگر ممالک میں آج تک ہو رہا ہے جب کہ بالکل ویسا ہی ردعمل پاکستان دے تو اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے لے کر اس عمل کو انسانیت کے خلاف گھناؤنا جرم قرار دینا آنسوؤں بھری گفتگو اور تحریر لکھنی ہے۔

1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو دو قومی نظریے کی موت قرار دینا ہے جس کا بھارتی مداخلت اور درمیاں میں ہزاروں میل کے فاصلے کی بات نہیں کرنی لیکن اگر وہی بنگلہ دیشی، مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجہ بننے والوں کو عبرت کا نشاں بنا دیں تو اس نہ ہی دو قومی نظریے کی جیت قرار دینا ہے بلکہ پاکستان کا دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دینا ہے

اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کا ایک اور بھی تقاضا ہے اور وہ ہے کہ سوائے جنرل فیض، جنرل پاشا، جنرل ظہیر الاسلام، جنرل حمید گل اور جنرل مشرف کے دیگر پاکستانی افسران اور فوج کو غیر پیشہ ورانہ اور کمزور فوج کے طور پر پیش کرنا ہے، ایک ایسی فوج جس کی مدد کے بغیر ہی سری لنکا نے، طاقت ور تامل دہشت گردوں کا صفایا کر دیا۔

اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کی بنیادی شرائط میں سے ایک شرط، دن اور سال بھی مقرر کرنا ہے جب پاکستان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور کروڑوں روپے لگا کر پاکستان کے وجود کے خلاف جلسے جلوس کرنے والے انتہائی غریب ”لیڈروں“ کی شان میں قصیدے پڑھنے ہیں۔ یہ بھی بتانا ہے کہ بغیر کسی روزگار کے بڑی بڑی گاڑیوں میں میلوں سفر اور لاکھوں کے جلسے کرنے والوں کو ریاست پاکستان نے دو وقت کی روٹی سے محروم کر رکھا ہے لیکن خالصتان، نیکسیلائٹ، مانی پور، آسام، ناگاپور، کشمیر اور دیگر بھارت کا امن تباہ کرنے والی علیحدگی پسند تحریکیں اپنی موت آپ مر جائیں گی۔ کیونکہ بھارت اتنا طاقت ور ہے کہ اگر میں کینیڈا میں مقیم سکھ لیڈر ”ہردیپ سنگھ“ کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے تو انڈیا میں بسنے والے ان علیحدگی پسند لیڈران کی کیا اوقات۔

اور ہاں یاد آیا آپ نے مطالعہ پاکستان پر لگائی زیر زبر کو ناسا کی ”جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ“ لگا کر جائزہ لینا ہے جب کہ دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں کے قتل عام کے ذمہ دار عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے ہٹلر کو مسلمان ثابت کرنا ہے جس کا یورپ سے نہیں بلکہ فلسطین سے تعلق تھا جو بعد ازاں پاکستان آ گیا۔ اور یہ سب غیر جانبدار اور تعصب سے پاک معروضی تجزیہ پیش کرتے ہوئے انگلش کے مشکل ترین الفاظ کا چناؤ کرنا ہے پھر دیکھنا میرے جیسے دیسی لوگ جنہیں ”کیپی چینو“ کے علاوہ کسی اور کافی کا نام یاد نہیں ہو رہا جو یہ نہیں جانتے کھانا کھاتے ہوئے کانٹا دائیں ہاتھ میں پکڑتے ہیں یا بائیں میں، کیسے آپ کی حکمت و دانائی کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتے ہیں

 

Facebook Comments HS